مداخلت کا مطلب ہے دخل کرنا/دخل اندازی کرنا یعنی دوسروں کے کاموں میں بلا وجہ داخل ہو جانا۔ جسے ہم آج کل عام الفاظ میں ٹانگ اڑانا بھی کہتے ہیں۔

دوسروں کے کام میں مداخلت مت کیجئے: بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بلا وجہ دوسروں کے کاموں میں مداخلت کرتے ہیں اور یہ چیز سامنے والے کو بری معلوم ہوتی ہے اور جس شخص کی عادت ہی یہ ہو کہ وہ بلا وجہ ہمیشہ دوسروں کی باتوں میں اور کاموں میں مداخلت کرتا ہو تو لوگ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتے اس سے کترانے لگتے ہیں اس کے سامنے نہ وہ کوئی بات کرتے ہیں نہ کام، یوں لوگ اس سے دور ہو جاتے ہیں اور پھر معاشرے میں اسکی کوئی عزت نہیں رہتی۔ کہا جاتا ہے کہ جو شخص دوسروں کے کاموں میں ٹانگ اڑاتا ہے وہ اپنی عزت گنوا بیٹھتا ہے۔

بعض لوگوں کی دوسروں کے کاموں میں مداخلت کی ایک وجہ اس کی ٹوہ یا تجسس میں پڑنا بھی ہوتا ہے۔ جب ہم دوسروں کے تجسس میں پڑتے ہیں تو ہم اسکے کاموں میں مداخلت شروع کر دیتے ہیں اور اس چیز سے تو قرآن کریم نے بھی منع فرمایا ہے چنانچہ پارہ 26 سورة الحجرات آیت نمبر 12 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا ترجمہ: اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور عیب نہ ڈھونڈو۔

مداخلت کے نقصانات:

سب سے پہلا نقصان تو یہی ہے کہ ہم اگر اسکے ذریعے تجسس میں پڑ جائیں تو گناہگار بھی ہوں گے۔

دوسرا یہ کہ اس میں وقت کا ضیاع بھی ہے کیونکہ دوسروں کے کام میں مداخلت کرنا یہ ایک ایسا کام ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں اور ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ پیارے پیارے مصطفیٰ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی (بےکار) چیزوں کو چھوڑ دے۔ (ترمذی، 4/ 142، حدیث:2324)

تیسرا نقصان یہ ہے کہ جو شخص مداخلت کرتا ہے اسکی معاشرے میں عزت نہیں رہتی لوگ اس سے بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ اور بے جا مداخلت سے تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

ایک اور حدیث پاک ملاحظہ فرمائیے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔ (بخاری، 4/105، حدیث: 6018)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے جو زیادہ باتیں کرتا ہے، زیادہ غلطیاں کرتا ہے اس کے گناہ بڑھ جاتے ہیں، اور جس کے گناہ زیادہ ہوں جہنم اس کا زیادہ حقدار ہے۔ (اربعین نووی، ص 53)

اس سے بچنے کے لیے: اسکے نقصانات کا مطالعہ کیجئے، نفس کو قابو میں رکھنے کی کوشش کیجئے، اللہ پاک اور اسکے رسول کریم ﷺ کے فرمان کو یاد رکھئے اور اس پر عمل کی سعی کیجئے، اسکے فوائد کا مطالعہ کیجئے۔

رب کریم ہمیں دوسروں کے کام میں بے جا مداخلت سے محفوظ فرمائے۔ آمین