اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو نہ صرف اپنی ذات کی اصلاح کا درس دیتا ہے بلکہ
دوسروں کے حقوق کی پاسداری بھی سکھاتا ہے۔ ایک مہذب اور پرامن معاشرہ اسی وقت
تشکیل پاتا ہے جب اس کے افراد ایک دوسرے کی عزت کریں، حدود کا خیال رکھیں اور
بلاوجہ کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت سے اجتناب کریں۔
دوسروں کی نجی
زندگی میں مداخلت ایک ایسا عمل ہے جو بظاہر معمولی لگتا ہے، لیکن اس کے اثرات
نہایت گہرے اور نقصان دہ ہوتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کرتا
ہے بلکہ بعض اوقات دوسروں کی دل آزاری کا سبب بھی بنتا ہے بلکہ۔ اسلام ہمیں اس بات
کی واضح تعلیم دیتا ہے کہ ہم کسی کی ذاتی زندگی، معاملات یا کمزوریوں کو کھوجنے
اور ان میں دخل دینے سے بچیں، چنانچہ قرآنِ کریم میں ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا
(پ
26، الحجرات: 12) ترجمہ: اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ
ہوتے ہیں، اور عیب نہ ڈھونڈو۔
دوسروں کی
زندگی میں مداخلت کے مختلف انداز ہو سکتے ہیں: جیسے بلا اجازت ذاتی سوالات کرنا،
کسی کے نجی معاملات پر تبصرہ کرنا، یا ان کی کمزوریوں کو دوسروں کے سامنے بیان
کرنا۔ بعض اوقات لوگ خیرخواہی کے نام پر بھی مداخلت کرتے ہیں، لیکن اگر اس میں
نرمی، حکمت اور اجازت کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ عمل بھی تکلیف دہ بن جاتا ہے۔
بندے کا اپنے
بھائی سے راستے میں جاتے ہوئے یہ پوچھنا کہ کہاں جا رہے ہو؟ یا کہاں سے آرہے ہو؟
بھی بدعت ہے۔ اسلاف اس طریقہ کو ناپسند کرتے اور یہ طریقہ نہ صرف خلافِ سنّت اور
خلافِ ادب ہے بلکہ تجسس اور تحسس میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ تحسس سے مُراد ہے جگہ
کا سراغ لگانا اور تجسس کا مطلب ہے خبریں معلوم کرنا۔ یہ سوال چونکہ دونوں چیزوں
کے متعلق ہوتا ہے اور بعض اوقات بندہ پسند نہیں کرتا کہ اس کا بھائی یہ جانے کہ وہ
کہاں جا رہا ہے یا کہاں سے آ رہا ہے۔
حضرت ابوبرزہ
اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺنے فرمایا: اے ان لوگوں کے گروہ، جو
زبان سے ایمان لائے اور ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبت نہ
کرو اور ان کی چھپی ہوئی باتوں کی ٹٹول نہ کرو، اس لیے کہ جو شخص اپنے مسلمان
بھائی کی چھپی ہوئی چیز کی ٹٹول کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی پوشیدہ چیز کی ٹٹول کرے
(یعنی اسے ظاہر کر دے) گا اور جس کی اللہ ٹٹول کرے گا (یعنی عیب ظاہر کرے گا) اس
کو رسوا کردے گا، اگرچہ وہ اپنے مکان کے اندر ہو۔ (1)
اسی طرح روایت
میں آتا ہے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے شادی کی اور جب زوجہ کے پاس رات
گزارنے کے بعد دن کو باہر نکلے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کی: اے ابو عبد اللہ! آپ
کیسے ہیں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا:اچھا ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔تو وہ
بولا:آپ کیسے ہیں اور رات کیسی گزری؟ (2)
ایک روایت میں
یہ الفاظ ہیں: آپ نے اپنی زوجہ کو کیسا پایا؟یہ سن کر آپ نے غصے سے فرمایا: تم
ایسا سوال کیوں پوچھتے ہو جس کا جواب چھپانا پڑے، تمہیں گھر سے باہر کی باتیں
پوچھنی چاہئیں اور صرف ظاہری امور کے متعلق پوچھنا ہی کافی ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ
دوسروں کی زندگی میں مداخلت شرعاً و اخلاقاً ہر لحاظ سے قبیح عمل ہے جو بعض اوقات
آپس میں نفرت و بدگمانی تک پیدا کر دیتا ہے اس لیے احترامِ مسلم کو ملحوظِ خاطر
رکھتے ہوئے دوسروں کے کاموں میں بے جا مداخلت مت کیجئے تاکہ آپس میں محبت،ادب و احترام
کا جذبہ برقرار رہے۔
حوالہ
جات:
(1) ابو داود،
4/ 354، حدیث: 4880
(2) حلیۃ
الاولیاء، 1/ 244، رقم: 600
Dawateislami