دوسروں کے کام
میں مداخلت کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے ذاتی معاملات، فیصلوں، نوکری، گھر یا تعلیم
میں بغیر پوچھے رائے دینا یا رکاوٹ ڈالنا، یہ ایک انتہائی مذموم فعل ہے۔ انسان
فطرتاً تجسس پسند ہوتا ہے وہ دوسروں کے دینی و دنیاوی معاملات میں تجسس کا شکار
ہوتا ہے اور جب تجسس مداخلت کی صورت اختیار کر لے تو یہ دینی و دنیاوی زندگی کے
لیے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔ اکثر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم خیر خواہی کر رہے ہیں لیکن
حقیقت میں ہم دوسروں کا وقت ضائع کرتے ہیں، انکا اعتماد توڑتے ہیں اور رشتوں میں
تلخی پیدا کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ
نے ہر انسان کو عقل، صلاحیت اور ذمہ داری دی ہے۔ ہر شخص اپنے کام کا خود ذمہ دار
ہے۔ اگر ہم دوسروں کے کام میں ٹانگ آرائیں گے تو نہ اپنا کام ٹھیک سے کر پائیں گے
اور نہ دوسروں کو سکون سے رہنے دیں گے۔ چنانچہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں
سختی کے ساتھ دوسروں کے کام میں بےجا مداخلت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
جیسا کہ ارشاد
باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ
بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا (پ 26،
الحجرات: 12) ترجمہ: اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے
ہیں، اور عیب نہ ڈھونڈو۔
تفسیر صراط
الجنان میں ہے کہ اس آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ مسلمان کی عیب جوئی نہ کرو اور
ان کے چھپے حال کو جاننے میں تجسس نہ کرو۔
اس میں دوسروں
کے معاملات میں بے جا مداخلت کرنے اور پوشیدہ عیب تلاش کرنے سے منع کیا گیا ہے
کیونکہ انسان یہ کام کرکے دوسروں کی نظروں میں اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے اور اپنا
وقت ضائع کرتا ہے۔دوسروں کے کام میں بے جا مداخلت کرنے سے رشتوں میں نفرتیں اور
ناچاقیاں پیدا ہو جاتی ہیں، دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نفرت و بغض و کینہ پیدا ہو
جاتا ہے جس سے انسان اکیلا، بے بس اور لا چار ہو جاتا ہے اور اسکا دینی نقصان یہ
ہے کہ وہ یہ کام کر کے اللہ پاک کی نافرمانی مول لے رہا ہے۔
ایک اور مقام
پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳) (پ
18، المؤمنون:3) ترجمہ کنزالایمان: اور وہ
جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے۔
لغو سے مراد
ہر وہ قول، فعل اور نا پسندیدہ یا مباح کام ہے جس کا مسلمان کو دینی یا دنیاوی
کوئی فائدہ نہ ہو جیسے مذاق مسخری، بےہودہ گفتگو، کھیل کود، فضول کاموں میں وقت
ضائع کرنا، شہوات پوری کرنے میں ہی لگے رہنا اور دوسروں کے کاموں میں بلا وجہ دخل
دینا وغیرہ وہ تمام کام جن سے اللہ پاک نے منع فرمایا ہے۔
احادیث مبارکہ
میں بھی لا یعنی اور بیکار کاموں سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ چنانچہ حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی کے
اسلام کی اچھائی میں سے یہ ہے کہ وہ لا یعنی چیز چھوڑ دے۔ (ترمذی، 4/ 144، حدیث:
2324)
اس سے مراد یہ
ہے کہ جو چیز کار آمد نہ ہو اس میں نہ پڑے، زبان، دل اور دیگر اعضاء کو بیکار
باتوں کی طرف متوجہ نہ کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دوسروں کے کام میں مداخلت کرنا لا
یعنی کاموں میں سے ہے جو انسان کو دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیتی۔
ہمیں چاہیے کہ
ہم بھی دوسروں کے معاملات میں بے جا مداخلت نہ کرے بلکہ اپنے کام سے کام رکھے اور
اپنا وقت ضائع نہ کریں، اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح کریں اور اللہ پاک کو راضی کرنے
کی کوشش میں ہر وقت نیک اعمال کرتی رہیں اور اس کا بہترین ذریعہ دعوت اسلامی کے
دینی ماحول سے وابستہ ہونا ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم دعوت اسلامی کے دینی ماحول سے ہر
دم وابستہ رہیں، سنتیں سیکھیں، ان پر عمل کریں اور دوسروں کو سیکھائیں۔
Dawateislami