انسانی زندگی
کا اصل مقصد اللہ کی عبادت کرنا اور سیدھے راستے پر چلنا ہے اور انسان کی عزت،
وقار اور کامیابی بھی اسی میں ہی ہے کہ وہ اپنے کام سے کام رکھے جب ہم دوسروں کے
گھروں کے معاملوں یا رشتوں میں کسی بھی طرح سے مداخلت کریں گے تو رشتے تو نہیں
بچتے البتہ دل میں بھی جگہ نہیں رہتی اور یہ صرف بلاوجہ دوسروں کے معاملوں میں
بولنے کی وجہ سے ہوتا ہے اور دوسروں کے عیب نکالنا، ٹوہ لینا اور کیڑے نکالنا فتنے
کا دروازہ کھولتا ہے لہذا اپنے کام سے کام رکھنا ہی بہتر ہے اور زندگی کا سکون ہے۔
اس کے بارے
میں قرآن پاک میں بھی ارشاد ہے: وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ
السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ
مَسْـٴُـوْلًا (۳۶) (پ 15، بنی
اسرائیل: 36) ترجمہ کنز الایمان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بےشک
کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا
(پ
26، الحجرات: 12) ترجمہ: اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ
ہوتے ہیں، اور عیب نہ ڈھونڈو۔
احادیث
مبارکہ: دوسروں
کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے بارے میں حدیث مبارکہ میں بھی تنبیہ ہے اور اس
سے منع فرمایا گیا ہے کہ اس سے بچا جائے اور اپنے کام سے مطلب رکھنا چاہئے۔
1۔ آدمی کے
اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی باتیں اور کام چھوڑ دے۔ (ترمذی، 4/ 142، حدیث:2324)
2۔ جو اللہ
اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ یا تو اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔ (بخاری، 4/105،
حدیث: 6018)
حدیث مبارکہ
سے یہ معلوم ہوا کہ ہمیں بے فضول باتوں میں نہیں پڑنا چاہئے اور اللہ کے حکم کے
مطابق خاموشی اختیار کرنی چاہیے
مداخلت
کی صورتیں اور ان کے نقصانات:
لسانی
مداخلت: فلاں
کی شادی کیوں نہیں ہو رہی، بچے کیوں نہیں، نوکری کیوں چھوڑی، دل آزاری، رشتے خراب۔
جاسوسی:
کسی
کا موبائل چیک کرنا، گھر کی باتیں پوچھنا بدگمانی اعتماد کا ختم ہونا۔
مقابلہ
بازی: فلاں
کے پاس یہ ہے تمہارے پاس کیوں نہیں حسد ناشکری گھر کا سکون برباد۔
كب
مداخلت جائز ہے؟
اسلام ہر جگہ
خاموشی کا حکم نہیں دیتا 3 صورتوں میں بولنا ضروری ہے:
1: امر
بالمعروف جب کوئی کھلم کھلا گناہ کر رہا ہو اور آپ روک سکتے ہوں۔
2: مشورہ طلب
ہو جب کوئی خود آپ سے رائے مانگے۔
3:جان و مال
کا خطرہ ہو جب کسی کی جان عزت یا مال ضائع ہو رہا ہو۔
ان کے علاوہ
ہر دخل فضول ہےلہذا ہمیں ان آیات مبارکہ اور احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ
ہمیں اپنے کام سے کام رکھنا چاہئے اور کون کیا کر رہا ہے کس حال میں ہے یہ جاننا
ضروری نہیں البتہ اگر کوئی مشکل میں ہو تو اس کی مدد کی جائے لیکن بلاوجہ بولنا یا
چیز میں مداخلت کرنا یہ درست نہیں ہے اس بچنا ہی بہتر ہے۔
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ ہمیں اپنے کام سے کام رکھنے کی توفیق دے اور دوسروں کے معاملات سے دور
رہنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین
Dawateislami