دوسروں کے کام میں مداخلت مت کیجئے از بنت سید
اعجاز،شاہ فیصل ٹاؤن کراچی
اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس نے ہمیں نہ صرف اپنی ذات کی اصلاح سکھائی بلکہ دوسروں کے
حقوق کا احترام بھی سکھایا۔ ان حقوق میں سب سے اہم حق یہ ہے کہ ہم بلا ضرورت کسی
کے ذاتی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی ان باتوں کو چھوڑ دے جن سے اس
کا تعلق نہیں۔ (ترمذی، 4/ 142، حدیث:2324) یعنی
جو چیز اس سے متعلق نہیں اس میں بولنا، پوچھنا اور دخل دینا مسلمان کے شایانِ شان
نہیں۔
دوسروں کے کام
میں مداخلت کرنے سے سب سے پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دلوں میں بدگمانی پیدا ہوتی
ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا
كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا (پ 26،
الحجرات: 12) ترجمہ: اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے
ہیں، اور عیب نہ ڈھونڈو۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ تجسس کا مطلب ہے دوسروں کے عیب تلاش
کرنا اور ان کے کاموں میں دخل دینا۔
حضور ﷺ کا
معمول تھا کہ آپ ﷺ صحابہ کے ذاتی معاملات میں بلا وجہ سوال نہیں کرتے تھے۔ ایک
صحابی نے عرض کی: یا رسول اللہ! ﷺ ہمسایہ مجھے تنگ کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ
اور صبر کرو۔ دوسری یا تیسری بار وہ پھر آیا تو فرمایا: جاؤ اپنا سامان راستے پر
رکھ دو۔ مقصد یہ تھا کہ لوگ خود دیکھیں گے اور سمجھیں گے، لیکن آپ ﷺ نے ہمسائے کے
گھر جا کر پوچھ گچھ نہیں فرمائی۔ (ابوداود، 4/436، حدیث: 5153)
مداخلت کی کئی
صورتیں ہیں: کسی کے موبائل کو دیکھنا، کسی کی تنخواہ پوچھنا، کسی کے گھر کے جھگڑے
میں بلا بُلائے کود پڑنا، کسی کی شادی میں تاخیر کی وجہ دریافت کرنا۔ یہ سب فضول
گوئی میں آتا ہے، جس سے حضور ﷺ نے منع فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ اور آخرت
پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔ (بخاری، 4/105، حدیث: 6018)
علما نے لکھا
ہے کہ حسن خلق کا ایک بڑا حصہ ترکِ مداخلت ہے۔ حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے
بیٹے کو وصیت کی: بیٹا! جو تمہارا کام نہیں اس میں ناک مت گھساؤ۔ (احیاء علوم
الدین، 2/221)
اسلام ہمیں
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم دیتا ہے، لیکن وہ بھی طریقے سے۔ اگر کوئی
علانیہ گناہ کر رہا ہے تو نرمی سے سمجھائیں۔ لیکن کسی کے ذاتی کمرے، اکاؤنٹ، یا
نجی فیصلوں میں ٹوہ لگانا جائز نہیں۔
لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں۔ اپنی قبر، اپنے اعمال، اپنی آخرت کی فکر کریں۔
دوسروں کے کام اللہ کے سپرد کر دیں۔ جب ہم دوسروں کو سکون دیں گے تو اللہ ہمیں
سکون دے گا۔
اللہ ہمیں بے
مقصد مداخلت سے بچائے اور اپنی فکر کرنے کی توفیق دے۔ آمین
Dawateislami