اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو اچھے اخلاق، حسنِ معاشرت اور دوسروں کے حقوق کا
خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ انہی تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم یہ ہے کہ بلا
ضرورت دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی نہ کی جائے۔کسی کی نجی زندگی میں مداخلت
ناجائز ہے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے شادی کی اور جب زوجہ کے پاس رات
گزارنے کے بعد دن کو باہر نکلے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کی: اے ابو عبد اللہ! آپ
کیسے ہیں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: اچھا ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ تو وہ
بولا: آپ کیسے ہیں اور رات کیسی گزری؟ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپ نے اپنی
زوجہ کو کیسا پایا؟ یہ سن کر آپ نے غصے سے فرمایا: تم ایسا سوال کیوں پوچھتے ہو جس
کا جواب چھپانا پڑے، تمہیں گھر سے باہر کی باتیں پوچھنی چاہئیں اور صرف ظاہری امور
کے متعلق پوچھنا ہی کافی ہے۔ (قوت القلوب، 2/20)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا
(پ
26، الحجرات: 12) ترجمہ: اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ
ہوتے ہیں، اور عیب نہ ڈھونڈو۔
اس آیت میں دوسرا
حکم یہ دیاگیا کہ مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو اور ان کے پوشیدہ حال کی جستجو میں نہ
رہوجسے اللہ تعالیٰ نے اپنی سَتّاری سے چھپایا ہے۔
مسلمانوں
کے عیب تلاش کرنے کی ممانعت: اس آیت سے معلوم ہو اکہ مسلمانوں کے
پوشیدہ عیب تلاش کرنا اور انہیں بیان کرنا ممنوع ہے، یہاں اسی سے متعلق ایک عبرت
انگیز حدیث ِپاک ملاحظہ ہو،چنانچہ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ان لوگوں کے گروہ، جو زبان سے ایمان لائے اور ایمان ان
کے دلوں میں داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کی چھپی ہوئی باتوں کی
ٹٹول نہ کرو، اس لیے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی چھپی ہوئی چیز کی ٹٹول کرے
گا، اللہ تعالیٰ اس کی پوشیدہ چیز کی ٹٹول کرے (یعنی اسے ظاہر کر دے) گا اور جس کی
اللہ ٹٹول کرے گا (یعنی عیب ظاہر کرے گا) اس کو رسوا کردے گا، اگرچہ وہ اپنے مکان
کے اندر ہو۔ (ابو داود، 4/ 354،
حدیث: 4880) اس سے معلوم
ہو اکہ مسلمانوں کی غیبت کرنا اور ان کے عیب تلاش کرنا منافق کا شعار ہے اور عیب
تلاش کرنے کا انجام ذلت و رسوائی ہے کیونکہ جو شخص کسی دوسرے مسلمان کے عیب تلاش
کر رہا ہے، یقینا اس میں بھی کوئی نہ کوئی عیب ضرور ہو گا اور ممکن ہے کہ وہ عیب
ایسا ہو جس کے ظاہر ہونے سے وہ معاشرے میں ذلیل و خوار ہو جائے لہٰذا عیب تلاش
کرنے والوں کو اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ ان کی اس حرکت کی بنا پر کہیں اللہ تعالیٰ
ان کے وہ پوشیدہ عیوب ظاہر نہ فرما دے جس سے وہ ذلت و رسوائی سے دوچارہو جائیں۔
Dawateislami