اسلام دینِ فطرت ہے اسی لیے اس کی تعلیمات بھی انسانی فطرت سے متصادِم نہیں بلکہ فطرت کے عین موافِق ہیں۔ اللہ پاک نے اسلامی تعلیمات میں ایسی ہمہ گیر جامعیّت، وُسعت، گہرائی اور گِیرائی رکھی ہے کہ بڑی سے بڑی ضَرورت اور چھوٹی سے چھوٹی حاجت کی رَہنمائی اس میں موجود ہے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو جہاں بہت سے حقوق عطا فرمائے ہیں ان میں سے ایک حق مسلمان کی ذاتی زندگی کے معاملات کی راز داری بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ اسلام میں پرائیویسی کی بھی حدود و قیود مقرّر ہیں۔ اسلام نے گھروں میں آنے جانے کے آداب سکھائے، انسان کی پرائیویسی کو نہ صرف محفوظ کیا بلکہ اسے احترام بھی دیا۔ اسلام فرد کی ذاتی زندگی(Personal Life)، اس کے گھر، جسم، گفتگو،تحریر اور اس کے رازسب کی حفاظت کو شرعی حق قرار دیتا ہے۔فطرت بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی زندگی کے بعض پہلو صرف اپنے تک محدود رکھے۔ دوسروں کے کام یا ذاتی معاملات میں بے جا مداخلت ایک نقصان دہ عادت ہے جو تعلقات میں تناؤ اور بداعتمادی کا باعث بنتی ہے ذاتی زندگی اور کام کی جگہ دونوں میں باہمی احترام، حدود کا تعین، اور اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھنا اس منفی رویے کو کم کرنے کے لیے انتہائی مؤثر ہیں۔

فرمان مصطفیٰ ﷺ: آدمی کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ غیر متعلق بات میں دخل نہ دے۔ (ترمذی، 4/ 142، حدیث:2324)

آپ کا یہ ارشاد آدابِ معاشرت کا ایک زریں اصول ہے۔

مداخلت اور آج کا معاشرہ: موجودہ دور میں مداخلت کے مسائل بہت عام ہیں سوشل میڈیا اور دیگر مواصلاتی ذرائع کی وجہ سے لوگ دوسروں کی ذاتی زندگیوں میں بلاوجہ دخل دیتے ہیں۔ اسلام اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ذاتی معاملات کی عزت کریں اور بناوجہ کسی کے نجی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔ بے جا مداخلت کے بہت منفی اثرات ہوتے ہیں جو فرد معاشرت اور رشتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں ہمیں اب اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ رشتوں اور تعلقات میں اخلاقی حد بندی اور آپس میں میل جول میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہم ایک دوسرے کی حدود کا احترام کریں، غیر ضروری دخل اندازی سے پرہیز کریں ان شاءاللہ اس طرح ہم بہتر معاشرے کی تشکیل اور ذہنی طور پر مضبوط معاشرے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکیں۔