اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور ایک ایسا دین ہے جو ہمیں دوسروں کی مدد کرنے اور ان کا خیال رکھنے کا درس دیتا ہے۔ اسلام کسی کو دھوکہ دینا، گالی دینا، کسی پر ظلم کرنا، زیادتی کرنا اور اس کو تکلیف پہنچانا بالکل ناجائز قرار دیتا ہے۔

سادگی ایک صفت ہے اور سادہ ہونا کوئی عیب نہیں ہے۔ لیکن آج کل لوگ دوسروں کی سادگی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ اس کا مال ہڑپ لیتے ہیں اور اس کے ساتھ بددیانتی کرتے ہیں۔ لیکن اسلام ان تمام چیزوں کی نفی کرتا ہے اور ہمیں دوسروں کے ساتھ خیر خواہی کا حکم دیتا ہے۔

اللہ پاک نے قرآن پاک میں واضح الفاظ میں دوسروں کے ساتھ زیادتی کرنے اور ظلم کرنے سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی کا مال ناحق کھانا، اس پر ظلم و زیادتی کرنا جائز نہیں ہے۔

اگر کوئی کسی کے ساتھ کسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کا مال ہڑپ لیتا ہے یا اس پر ظلم کرتا ہے تو یہ سارا اللہ پاک کی نافرمانی ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ (پ 14، النحل: 90) ترجمہ: بیشک اللہ انصاف اور بھلائی کا حکم دیتا ہے۔اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ پاک احسان کو پسند فرماتا ہے اور انصاف کو پسند فرماتا ہے۔ کسی کے ساتھ غیر منصفانہ معاملات یا کسی کے ساتھ زیادتی کرنا جائز نہیں ہے۔

احادیث مبارکہ میں بھی اس بات کی نفی کی جاتی ہے کہ کسی کے ساتھ دھوکہ کرنا، اس کا فائدہ اٹھانا اخلاقی اور شرعی طور پر ناجائز ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (مسلم، ص 695، حدیث: 283)ایک اور حدیث میں فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہے۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 11)

کسی مسلمان کی سادگی کا فائدہ اٹھانا اور اس پر ظلم و زیادتی کرنا اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے۔ ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں دوسروں کی مدد کرنی چاہیے اور ان کے ساتھ بھلائی کرنی چاہیے۔ جامع ترمذی میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سچا اور ایماندار تاجر بروز قیامت شہدا اور صدیقین کے ساتھ ہوگا۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امانت داری انسان کو کتنے بلند مرتبے پر لے جاتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آج کل لوگ دوسروں کی سادگی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کا اس میں کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ ایسے لوگ خود اپنا ہی نقصان کرتے ہیں اور خود کو ہلاکتوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ان کی مدد کر کے ملنے والے اجر و ثواب سے محروم ہو جاتے ہیں۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ سے ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے کی بیعت کی تھی۔ (بخاری، 2/34، حدیث: 2157) اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں صرف اور صرف بھلائی کرنے کا ارادہ کرنا چاہیے۔ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنا صدقہ ہے۔

ایک اچھا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم سادہ مزاج لوگوں کی مدد کریں اور ان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور ان کے ساتھ بددیانتی نہ کریں۔

اللہ پاک ہمیں سادہ مزاج لوگوں کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے ساتھ زیادتی کرنے کی ذلت اور فعل بد سے محفوظ رکھے۔ آمین