سادگی وخوش طبعی اگرچہ انسان کے اوصاف حمیدہ میں سے ایک نہایت پسندیدہ وصف ہے تاہم جب یہی سادہ مزاجی مکار اور مفاد پرست لوگوں کے ہاتھوں استحصال کا ذریعہ بن جائے تو معاشرتی اقدار مجروح ہونے لگتی ہیں موجودہ دور میں بعض افراد دوسروں کے حسن ظن، اعتماد اور پاکیزہ نیت کو اپنی ذاتی منفعت کے لیے استعمال کرتے ہوئے اخلاقی پستی کا ثبوت دیتے ہیں حالانکہ تعلیماتِ اسلامیہ میں کسی مسلمان کو دھوکا دینا، اسکے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا اور اسکی سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھانا صریحاً ممنوع قرار دیا گیا چنانچہ ایک صالح اور مہذب معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ افراد معاشرہ تقویٰ،دیانت اور احساسِ ذمہ داری کو اپنا شعار بنائیں اور باہنی تعلقات کو اخلاص وامانت کے اصولوں پر استوار کریں۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) (پ 20، القصص: 84)ترجمہ کنز الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیز گاروں ہی کی ہے۔

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا (پ 19، الفرقان: 63) ترجمہ کنز الایمان: اور رحمان کے بندے وہ ہیں کہ زمین پر نرمی سے چلتے ہیں۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ عاجزی انکساری اور سادگی اللہ کے پسندیدہ بندوں کی صفت ہے جو زمین میں فساد نہیں پھیلاتے اور نہ ہی تکبر کرتے ہیں ایسے نیک صفت بندوں کے لیے اللہ پاک نے آخرت میں انعام تیار کر رکھا ہے جیساکہ آیت مبارکہ میں ارشاد فرمایا ہے۔

ناجائز فائدہ اٹھانے کا رواج: سادگی انسان کی بہت خوبصورت صفت ہے کیونکہ سادہ دل لوگ صاف نیت اور اچھے اخلاق کے مالک ہوتے ہیں مگر افسوس آج کل بعض لوگوں میں دوسروں کی سادگی اور بھروسے کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا رواج بڑھتا جارہا ہے۔ لوگ اپنے ذاتی فائدے کے لیے جھوٹ، دھوکا اور فریب سے کام لیتے ہیں جس سے معاشرے میں بداعتمادی پیدا ہوتی ہے حالانکہ اسلام ہمیں سچائی،امانت داری اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں۔ (مسلم، ص 695، حدیث: 283)

سادگی کمزوری نہیں بلکہ حسن باطن ہے اور کسی کی سادگی سے فائدہ اٹھانا دراصل اپنی اخلاقی کمزوری ہے۔

ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اسکی کئی مثالیں دیکھتے ہیں بعض دکاندار سادہ لوح گاہک سے زیادہ قیمت وصول کرلیتے ہیں کچھ لوگ کسی کے بھروسے کو توڑ کر نقصان پہنچاتے ہیں اور بعض کم علم یا مجبور افراد کو دھوکے سے ان کا حق چھین لیا جاتا ہے۔

نقصانات: کسی کی سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے کئی نقصانات ہیں اس سے لوگوں کا اعتماد ختم ہوجاتا،دل آزاری ہوتی ہے اور معاشرے میں بداعتمادی پھیلتی ہے سب سے بڑھ کر ایسا کرنے والا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مستحق بنتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہر شخص کے ساتھ انصاف،محبت اور خیرخواہی کا معاملہ کریں اگر کوئی سادہ مزاج یا کم علم ہے تو اس کی مدد کریں نہ کہ اسے نقصان پہنچائیں اچھا مسلمان وہی ہے جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے اور کسی کو تکلیف نہ دے اللہ تعالیٰ ہمیں سچائی،دیانت اور اچھے اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ہر قسم کے ظلم اور دھوکے سے بچائے آمین۔