کسی کی
سادگی کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیے از بنت عاطف، نیو افضل ٹاؤن راولپنڈی
زندگی کے
معاملات یعنی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے اور رہن سہن وغیرہ میں بے جا تکلفات اور
اسراف سے بچنے کا نام سادگی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے
اور اسے اچھے اخلاق، ہمدردی اور انصاف کا درس دیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ
ایسے ہوتے ہیں جو سادہ مزاج، بھروسہ کرنے والے اور نرم دل ہوتے ہیں، لیکن بعض لوگ
ان کی سادگی کو کمزوری سمجھ کر ان سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
افسوس! آج کے
دور میں کچھ لوگ ایسے بھولے بھالے لوگوں کی سادگی کو ان کی نادانی سمجھ لیتے ہیں
اور اپنے فائدے کے لیے انہیں دھوکہ دیتے ہیں۔ کسی کے بھولے پن یا سادگی کا ناجائز
فائدہ اٹھانا ایک بدترین اخلاقی عیب اور اللہ پاک کی نافرمانی ہے، اور یہ اسلام کی
تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
قرآن پاک
ہماری اس بارے میں رہنمائی فرماتا ہے اسلام ہمیں دوسروں کے ساتھ حسنِ
سلوک، دیانت داری اور انصاف قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ ارشاد
فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ
بِالْبَاطِلِ (پ
5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔
اسی طرح ایک
اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ
اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ- (پ 5، النساء: 58) ترجمہ: بے شک اللہ تمہیں حکم
دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو۔
ان آیاتِ
مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہمیں امانت داری، انصاف اور دوسروں کے حقوق کا
خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ کسی کی سادگی یا بھروسے کا غلط فائدہ اٹھانا ناجائز
ہے۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی ہے: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے
دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 11)
اور ایک اور
مقام پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ
اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔ (مسلم، ص 1394، حدیث: 6580)
ان احادیثِ
مبارکہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام دھوکہ، ظلم اور کسی کے اعتماد کو ٹھیس
پہنچانے سے منع کرتا ہے۔
جب کوئی شخص
ہم پر اندھا اعتماد کرتا ہے تو وہ ہمیں اپنا امین بنا لیتا ہے، اور یہ ہماری ذمہ
داری ہے کہ ہم اس کے بھروسے کی حفاظت کریں۔ اگر کوئی شخص سادہ مزاج یا دنیا داری
کی چالاکیوں سے ناواقف ہو تو ہمیں اس کا مددگار بننا چاہیے، نہ کہ اس کی سادگی سے
فائدہ اٹھائیں۔ دنیا کی وقتی چالاکی شاید لوگوں کی نظروں میں کامیابی سمجھی جائے،
مگر اللہ تعالیٰ ہر عمل کو دیکھ رہا ہے اور اس کے ہاں ہر انسان کو اپنے اعمال کا
جواب دینا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں سچائی، امانت داری اور اچھے اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں
دوسروں کے حقوق کی حفاظت کرنے والا بنائے۔
Dawateislami