ہر انسان اپنے اخلاق میں خوبصورت ہوتا ہے۔ جس طرح ایک انسان معاشرے میں اپنے اچھے اخلاق سے پہچانا جاتا ہے، آج کے دور میں جہاں ہر طرف انسان صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے، اسی طرح ایک سادہ انسان جو بہت عاجزی، انکساری، محبت، شفقت اور اچھے اخلاق سے پیش آتا ہے، وہ سب کا دل جیت لیتا ہے۔

سادہ انسان یہ نہیں دیکھتا کہ لوگ میرا مذاق اڑا رہے ہیں یا مجھے اچھا نہیں سمجھتے، بلکہ وہ ہر کسی سے حسنِ اخلاق سے پیش آتا ہے۔ اس کا دل آزاری کا خیال رکھنا ہی سب سے بڑی خوبی ہے۔ بالآخر وہ ہر طرح سے لوگوں سے حسنِ اخلاق سے پیش آتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں سادہ لوگوں کی سادگی کو دیکھ کر ان کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ ان کی حق تلفی کی جاتی ہے، ان کی دل آزاری کی جاتی ہے۔ الغرض ان کی سادگی کو ہر طرح سے آزمایا جاتا ہے، حالانکہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور انہیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے، آپس میں احساس ہونا چاہیے۔

اس کے برعکس ہم لوگ سادہ لوگوں کے ساتھ حق تلفی کرتے ہیں حالانکہ وہ معاف کر دیتے ہیں۔ ہم ان کا دل دکھاتے ہیں وہ اسے نظر انداز کر کے ہمیں معاف کر دیتے ہیں، ہم ان کا احساس نہیں کرتے حالانکہ وہ ہمارا احساس کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں بھی سادہ لوگوں کی سادگی کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے کیونکہ وہ بھی انسان ہوتے ہیں، احساسات رکھتے ہیں۔

ایک سادہ دل انسان کی سادگی کو دیکھ کر اس کا ناجائز فائدہ اٹھانا تو آسان ہو سکتا ہے، لیکن وہ آپ کے اس ظلم و دل آزاری کا جواب نہ دے سکے تو وہ اللہ کی بارگاہ میں آپ سے متعلق شکایت کر سکتا ہے۔ لہٰذا ایک سادہ انسان کی سادگی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں اور انہیں معاشرے میں عزت دیں۔معاشرتی خوشحالی کے لیے لازم ہے کہ ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ کسی کی شرافت، عاجزی یا کم گوئی کو اس کی کمزوری سمجھنا سراسر نادانی اور اخلاقی پستی کی نشانی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں عروج پاتی ہیں جہاں کمزوروں، مسکینوں اور سادہ لوح انسانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ جب ہم کسی سادہ انسان کو دھوکہ دیتے ہیں تو عارضی طور پر خود کو بہت چالاک یا کامیاب تصور کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں ہم اپنی آخرت اور اپنے اخلاق کا نقصان کر رہے ہوتے ہیں۔دینِ اسلام ہمیں سادگی اختیار کرنے اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کرتا ہے۔

ہمارے نبی کریم ﷺ کی زندگی سادگی اور اعلیٰ اخلاق کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ کمزوروں اور سادہ دل لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرمایا۔ اگر ہم سچے مسلمان بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اردگرد موجود ایسے تمام لوگوں کو تحفظ اور احترام دینا ہوگا جو دنیاوی چالاکیوں سے دور ہیں۔ ہمیں اپنے دلوں میں دوسروں کے لیے تڑپ، ہمدردی اور مروّت کے جذبات پیدا کرنے ہوں گے۔ جب معاشرے کا ہر فرد دوسرے کے جذبات کا پاس رکھنے لگے گا، تو ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

آئیے آج سے یہ عہد کریں کہ ہم کسی کی سادگی کا مذاق نہیں اڑائیں گے بلکہ ان کے مددگار بنیں گے۔