کسی
کی سادگی کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیے از بنت سلیم،پاکپورہ سیالکوٹ
دیں اسلام بہت
ہی پیارا دین ہے یہ ہمیں آپس میں دیانتداری اور نرمی کا حکم دیتا ہے کسی مسلمان کی
سادگی اور بھولے پن کا فائدہ اٹھانا ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ قرآن مجید لوگوں کی
سادگی کا فائدہ اٹھانے انکو دھوکہ دینے انکی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی سخت مذمت
کرتا ہے۔
قرآن پاک میں
ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5،
النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔
لہٰذا مسلمان
ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے کہ ہم انصاف سے کام لیں۔ فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے۔ جس نے دھوکہ
دیا وہ ہم میں سے نہیں۔ (مسلم، ص 695، حدیث: 283)
اس حدیث
مبارکہ سے ہمیں نصیحت حاصل کرنی چاہیے کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے دھوکہ کی کس
قدر مذمت فرمائی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کو دھوکہ دینا اسلامی
تعلیمات کے خلاف ہے ہمیں اس سے پچنا چاہیے۔
ایک اور مقام
پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ (پ
14، النحل: 90) ترجمہ: بیشک اللہ انصاف اور بھلائی کا حکم دیتا ہے۔
ارشاد باری
تعالیٰ ہے: وَ لَا تَبْخَسُوا
النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۸۵) (پ 12،
ہود: 85)ترجمہ: اور لوگوں کو انکی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد مچاتے نہ
پھرو۔
مسلمان کا مال
اور عزت محترم ہے، حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: بیشک تمہارا خون مال اور
عزتیں ایک دوسرے پر اس طرح ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس مہینے
میں اور تمہارے اس شہر میں ہے۔
فرمانِ مصطفیٰ
ﷺ ہے: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔(بخاری، 1/16،
حدیث: 11)
ایک مسلمان کو
چاہیے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے جان ومال اور عزت وآبرو کی ایسے ہی حفاظت کرے
جیسے اپنی کرتے ہیں۔ دھوکہ دینا کسی کا فائدہ اٹھانا ایک مسلمان کی صفت نہیں ہے یہ
دین اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے دین اسلام ہمیں باہمی محبت کا درس دیتا ہے۔
حضرت ابوذر
غفاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے
بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام قرار دیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام
کیا ہے، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ (مسلم، ص 1393، حدیث: 2577)
دھوکہ دینے والے
لوگوں کا فائدہ اٹھانے والے پر کوئی بھروسہ نہیں کرتا بعض اوقات کسی کی سادگی کا
ناجائز فائدہ اٹھانے کی صورت میں اس شخص کا اچھائی اور بھلائی پر سے اعتماد اٹھ
جاتا ہے اور کئی بدگمانیوں کا شکار ہو جاتا لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم انصاف کرنے والے
اور امانتدار بنیں کسی کی سادگی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں بلکہ اگرکسی کام کسی
بات کی ضرورت محسوس کریں تو اس کی رہنمائی فرما دیں۔
آج کل کے جدید
دور میں انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دینا اور انکا فائدہ اٹھانا بہت ہی عام
ہو گیا ہے فیک کالز اور لنک کے ذریعے لوگوں کے بینک اکاؤنٹ ہیک کر کے ان کے مال پر
ناحق قبضہ کر لیا جاتا ہے لوگوں سے جھوٹ بول کر ان سے رقم وصول کی جاتی ہے انہیں
مختلف طریقوں سے پریشان کیا جاتا ہے۔
Dawateislami