اصلاً ساری مخلوق اللہ وحدہ لا شریک کی نعمتوں و احسانات کے سہارے زندہ ہے۔ آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے پہلے بھی اور بعد میں بھی اللہ تعالیٰ ہی اپنی ذات اور صفات میں بے نیاز ہے اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا بے نیاز نہیں بلکہ ساری کائنات اسی کی محتاج ہے اوراللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں تعریف کے لائق ہے اگرچہ کوئی بھی اس کی حمد نہ کرے۔ (روح البیان، 7/93)

اللہ پاک نے مخلوق کو بھی مخلوق کے لیے مدد کا ایک ظاہری ذریعہ بنایا ہے اسی طرح انسان بھی مدد کا ذریعہ ہے تاکہ انسان اپنے رشتہ داروں و متعلقین کے حقوق کو ادا کر کے انکی ضروریات کو پوری کرکے اللہ پاک کی رضا پالے یوں یہ بھی رب رحیم کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے۔

بعض اوقات انسان کو سہارے و مدد کی ضرورت پڑتی ہے کبھی تو سہارا مل بھی جاتا ہے لیکن کبھی سہارے کی امید پہ شخص اپنی جان سے چلا جاتا ہے، سہارا نہیں مل پاتا۔

سہارا وقتِ ضرورت ضرورت پورا ہونے کا نام ہے۔یہ ضرورت مالی بھی ہوسکتی ہے اور یہ حوصلے یا چند اپنائیت کے الفاظ کی بھی ہوسکتی ہے۔

سہارا صرف روپے پیسوں سے ہی نہیں بلکہ چند الفاظ؛ ”میں آپکے ساتھ ہوں،پریشان نا ہوں جو ہوگا بہتر ہی ہوگا، آپکی طبیعت کیسی ہے؟ کام کرکے تھک گئے ہونگے نا! کچھ آرام کرلیں، چائے پئیں گے؟ وغیرہ“ یا ”اگر طالب علم پڑھائی میں کمزور تو اسکے لیے ایسے الفاظ؛ اللہ پاک جس سے بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے اسے علم کی سمجھ بوجھ عطا فرماتا ہے آپ تو خوش قسمت ہو ہمت کرو آپ کرلو گے! آپ نے تو فلاں فلاں سبق اچھا سنایا ہے یہ بھی آپ کرسکتے ہو! شروع میں ہر شے مشکل لگتی ہے لیکن مشکل کے ساتھ ہی آسانی بھی ہے!“ سہارا بن سکتے ہیں۔

فرضی حکایت:اسد محنتی طالب علم تھا لیکن جو سبق یاد کرتا کلاس میں سنا نہیں پاتا تھا اور کلاس میں روزانہ کھڑا ہواکرتا تھا۔وقت گزرتا گیا۔ وہ مایوس ہو گیا اسے کامیابی کا کوئی نشان نظر نہیں آریا تھا۔خوش قسمتی سے انکے اسکول میں نئے استاد بھرتی ہوئے۔انہوں نے اسد کا معاملہ جانچ لیا اور اسکو کلاس کا مانیٹر بنادیا اب وہ استاد کے ساتھ دوسرے بچوں کا سبق سنا کرتا۔پہلے پہلےتو وہ جھجکتا۔ مگر رفتہ رفتہ اسد میں خود اعتمادی بڑھنے لگی۔ استاد سب سے آخر میں اسد سے سبق سنتے تو وہ استاد کو بہترین انداز میں سبق سناتا۔ اب اسد کی کلاس میں نمایاں کارکردگی ہوتی۔ اسد کے دل سے استاد صاحب کے لیے دعائیں نکلتیں۔

سبق: سہارا دینا ہے تو زندگی میں دیجیے۔