اسلام میں کسی انسان کی زندگی میں اس کا سہارا بننا، اس کی ضرورت پوری کرنا،اس کی مدد کرنا اس کے دکھ درد میں شریک ہونا بہت بڑی عبادت ہے۔

قرآن کریم میں ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ: نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔

اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ انسان پر فرض ہے کہ وہ دوسروں کے لیے خیر و بھلائی کا سہارا بنے۔ یہ بہترین اخلاق ہے کہ انسان دوسروں کا سہارا بنے۔

آقا ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔

آقا جان ﷺ نے فرمایا: اللہ اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔ (مسلم، ص 1110، حدیث: 6853)

ہمارے مکی مدنی مصطفی ﷺ کا فرمان ہے: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرے اللہ پاک اس کی حاجت پوری فرماتا ہے۔ (مسلم، ص 1069، حدیث: 6578)

آقا جان ﷺ نے فرمایا: مومن، مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔ (بخاری، 2/127،حديث:2446)

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول مشہور ہے: اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ مجھ سے اس کے بارے میں سوال کرے گا۔

سہارا بننے کی مختلف صورتیں: بیمار کی عیادت کرنا، مالی مدد کرنا، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کرنا، غم زدہ شخص کو تسلی دینا، علم سکھانا اور صحیح رہنمائی کرنا، معاف کرنا اور آسانی پیدا کرنا، ہر ایک کی عزت نفس کا خیال رکھنا۔

سہارا صرف مال سے نہیں دیا جاتا، بلکہ ایک مسکراہٹ، اچھا مشورہ، ہمدردی کے چند الفاظ،کسی کا بوجھ اٹھانا،کسی کی غلطی معاف کرنا،اس کی غلطی پر اس کی رہنمائی کرنا،دوسروں کے عیبوں کی پردہ پوشی کرنا،مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے ہونا بھی عظیم نیکی ہی ہے۔

جو شخص دوسروں کا سہارا بنتا ہے قدم قدم پر ان کا ساتھ دیتا ہے وہ اللہ پاک کی حقیقت میں رضا حاصل کر لیتا ہے دنیا والوں کی محبت بھی حاصل کر لیتا ہے اور اپنے اللہ پاک کی محبت بھی حاصل کر لیتا ہے اور پیارے پیارے آقا جان ﷺ کی سنت پر عمل بھی کر لیتا ہے اپنی آخرت بھی سنوار لیتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں اپنے بندوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والا بنائے ان کا سہارا بننے کی توفیق عطا فرمائے۔