زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خوبصورت نعمت ہے، لیکن یہ زندگی ہمیشہ خوشیوں اور آسانیوں سے بھری نہیں رہتی۔ کبھی انسان خوش ہوتا ہے اور کبھی غمگین، کبھی کامیابی اس کے قدم چومتی ہے اور کبھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی انسان خود کو مضبوط محسوس کرتا ہے اور کبھی حالات اسے اندر سے توڑ دیتے ہیں۔ ایسے مشکل وقت میں انسان کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کا ہاتھ تھامے، اس کی بات سنے، اسے سمجھنے کی کوشش کرے اور اسے یہ احساس دلائے کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔

کسی انسان کا سہارا بننا بہت بڑی نیکی ہے۔ سہارا صرف مالی مدد کا نام نہیں، بلکہ کسی پریشان شخص کو تسلی دینا، غم زدہ انسان کی بات سننا، مایوس شخص کو امید دلانا، کمزور انسان کا حوصلہ بڑھانا اور مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے رہنا بھی سہارا دینا ہے۔ بعض اوقات انسان کو کسی بڑے حل کی نہیں بلکہ صرف ایک ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو خاموشی سے اس کے ساتھ کھڑا رہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ: نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔

اسلام ہمیں محبت، ہمدردی، تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کا درس دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اردگرد موجود لوگوں کے حالات کو سمجھیں۔ ہر مسکراتا ہوا انسان ضروری نہیں کہ اندر سے بھی خوش ہو۔ بعض لوگ اپنے دل کا دکھ چھپا کر دوسروں کے سامنے مسکراتے رہتے ہیں۔ اس لیے ہمیں دوسروں کے ساتھ نرمی، محبت اور اچھے اخلاق سے پیش آنا چاہیے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: جو شخص کسی مؤمن کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف دور فرمائے گا، اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔ (مسلم، ص 1110، حدیث: 6853)

اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جو انسان دوسروں کی مدد کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کی مدد فرماتا ہے۔ اس لیے ہمیں کبھی کسی کی مدد کرنے کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ کبھی ہماری ایک چھوٹی سی کوشش کسی انسان کے لیے بہت بڑی امید بن سکتی ہے۔ ہماری ایک اچھی بات کسی کے دل کو سکون دے سکتی ہے، ہماری ایک دعا کسی کے لیے طاقت بن سکتی ہے اور ہمارا مشکل وقت میں ساتھ دینا کسی کو دوبارہ کھڑے ہونے کا حوصلہ دے سکتا ہے۔

زندگی میں ہر انسان کو کبھی نہ کبھی سہارے کی ضرورت پڑتی ہے۔ آج اگر کوئی شخص مضبوط ہے تو ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ مضبوط ہی رہے۔ حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اس لیے ہمیں دوسروں کو کمزور سمجھ کر ان کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے، بلکہ ان کے مشکل وقت میں ان کا سہارا بننا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی اصل خوبصورتی اس بات میں نہیں کہ وہ صرف اپنی زندگی آسان بنائے، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ دوسروں کی زندگی میں بھی آسانی پیدا کرے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے والدین، بہن بھائیوں، دوستوں، رشتہ داروں اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے محبت اور سہارا بنیں۔ کسی کے غم کو سنیں، کسی کی پریشانی میں اس کا ساتھ دیں، کسی کی غلطی پر اسے نرمی سے سمجھائیں اور کسی مایوس انسان کو امید دلائیں۔ یاد رکھیں، انسان کو ہمیشہ بڑے بڑے کاموں سے نہیں پہچانا جاتا، بلکہ کبھی کبھی چھوٹی چھوٹی نیکیوں سے بھی دلوں میں جگہ بن جاتی ہے۔

لہٰذا زندگی میں ایک دوسرے کا سہارا بنیں، کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ کب ہماری ایک بات، ایک دعا، ایک مسکراہٹ یا ہمارا ایک قدم کسی انسان کی زندگی میں امید کی روشنی بن جائے۔ جو شخص دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانیاں پیدا فرماتا ہے۔