سہارا
دینا ہے تو زندگی میں دیجیے از ہمشیرہ شاہ زمان، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
بفضلہ تعالیٰ
ہم مسلمان ہیں اور ہر مسلمان کا آپس میں ایک گہرا رشتہ ہے جو کہ دین داری کا ہے یہ
وہ رشتہ ہے کہ جس نے تمام مسلمانوں کو آپس میں جوڑ کے رکھا ہے۔ خواہ وہ مرد ہو یا
عورت ہر ایک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ماتحت کو پیش آنے والی ہر تکلیف و مصیبت
میں اس کا ساتھ دے۔
اور اگر ہم
کسی کی دل جوئی یعنی (کسی کو تسلی دینا، غمخواری کرنا وغیرہ) کرتے ہیں تو کثیر
ثواب کے حق دار بنیں گے۔ ان شاءالله الکریم
صرف
دعوے نا کیجیے! بہت
سے لوگ اپنے دوستوں، بہن بھائیوں اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ بڑے بڑے دعوے کر رہے
ہوتے ہیں مگر جب کسی عزیز پر کوئی مصیبت آتی ہے یا اسکو ہماری مدد کی حاجت ہوتی ہے
تب ہم حیلے بہانے کر کے ٹال دیتے ہیں کہ میں خود پریشان حال ہوں تمہاری کیا مدد
کروں۔
ضروری نہیں کہ
حاجت مند کو اس کی حاجت کے مطابق ہی کچھ دیں۔ بلکہ ہم تسلی کے دو بول، بول کے
دوسرے کا دل خوش کر سکتے ہیں اسکی حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں اسکے دل میں سکون و
راحت پیدا کر سکتے ہیں جس سے حاجت مند کے دل کو اطمینان نصیب ہوگا۔ کسی مصیبت زدہ
کی مدد کرنا کتنی اہمیت کا حامل ہے؛ آئیے ملاحظہ کرتے ہیں:
جناب ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی
تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کر دے، تو اللہ اس کی قیامت کی تکالیف میں سے کوئی
تکلیف دور فرمائے گا، اور جس نے کسی نادار و تنگ دست کے ساتھ آسانی و نرمی کا رویہ
اپنایا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا و آخرت میں آسانی کا رویہ اپنائے گا، اور
جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب
چھپائے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے، جب تک کہ بندہ اپنے بھائی
کی مدد میں رہتا ہے۔(مسلم، ص 1110، حدیث: 6853)
ایک اور حدیث
میں نبی اكرمﷺ نےفرمایا:اللہ کےنزدیک فرائض کی ادائیگی کے بعد سب سے افضل عمل
مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرناد ہے۔ (معجم کبیر، 11/59، حدیث:11079)
کسی مسلمان کی
جائز طریقے سے دل جوئی کرنا باعث اجرو ثواب اور جنت میں لے جانے والا کام ہے
چنانچہ
دو جہاں کے
سردارﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک مغفرت کو واجب کر دینے والی چیزوں میں سے تیرا اپنے
مسلمان بھائی کا دل خوش کرنابھی ہے۔ (معجم اوسط، 6/129، حدیث:8245)
ایک مسلمان کی
دل جوئی کے اس قدر فضائل ہیں کہ اگر ہم فرائض و واجبات کو ادا کرنے کے ساتھ ساتھ
ان تمام فضائل پر عمل کرنا شروع کر دیں تو امید ہے اللہ و رسولﷺ کو راضی کرنے میں
کامیاب ہو جائیں۔ اور اگر اس کے برعکس دیکھا جائے تو کسی مسلمان کے لیے برا سوچنے
والا خود کتنے گھاٹے میں ہے آئیے اس بارے میں وعیدیں ملاحظہ فرمائیے:
فرمان باری
تعالیٰ ہے: وَ الَّذِیْنَ
یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ
احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22،
الاحزاب: 58) ترجمہ کنز العرفان: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ
کئے ستاتے ہیں توانہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے۔
سید عالم ﷺ
فرماتے ہیں: جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف
دی اس نےاللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔ یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی بالآخر اللہ
تعالیٰ اسے عذاب میں گرفتار فرمائےگا۔ (فتاویٰ رضویہ، 24/425، 426)
کسی مسلمان کو
سہارا دینا، اس کی تکلیف دور کرنا اور حاجت روائی کرنا بہت بڑا نیکی کا کام ہے جس
پر اللہ تعالی کی طرف سے دنیا اور آخرت میں عظیم اجر، گناہوں کی معافی اور مصائب
سے نجات کی بشارت دی گئی ہے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اس بات کا بھرپور خیال رکھیں
کہ کس مسلمان کو کس وقت ہماری ضرورت ہے۔
یقین جانیے
اگر کوئی شخص ہماری وجہ سے اپنے غم سے باہر نکل آیا اور اگر اللہ نے چاہا تو یہی
نیکی ہمارے لیے ذریعۂ نجات بن سکتی ہے۔
Dawateislami