سہارا
دینا ہے تو زندگی میں دیجیے از بنت سید رضوان علی، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
دین اسلام
ہمیں صرف عبادات کا ہی نہیں بلکہ انسانیت کا درس بھی دیتا ہے۔ اسلام کی بنیاد ہی
بھائی چارے، ہمدردی اور ایک دوسرے کے سہارے پر ہے۔دین اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل
نیکی یہ ہے کہ ہم زندہ لوگوں کا خیال رکھیں۔ کسی غریب کا بوجھ ہلکا کریں، کسی یتیم
کے سر پر ہاتھ رکھیں، کسی ٹوٹے دل کو تسلی دیں۔ مرنے کے بعد کی رسمیں اپنی جگہ،
لیکن اسلام کا تقاضا ہے کہ سہارا زندگی میں دیا جائے۔
سہارا دینا ہو
تو زندگی میں دیجئے، اک پل کا سہارا تو جنازہ اٹھانے والے بھی دیا کرتے ہیں!
اللہ تعالیٰ
قرآن میں فرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪- (پ 6، المائدۃ:
2) ترجمہ: نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔
اس آیت سے
ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دین اسلام ہمیں اکیلا جینے کا حکم نہیں دیتا بلکہ ایک
دوسرے کا سہارا بننے کا درس دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ نیکی کے کام میں سب مل کر ہاتھ
بٹائیں۔ کسی غریب کی مدد کرنا، یتیم کی کفالت کرنا، مریض کی عیادت کرنا، غمزدہ کو
تسلی دینا؛ یہ سب بر یعنی نیکی میں شامل ہیں۔
اس آیت میں
اللہ پاک نے واضح فرمایا کہ جس طرح نیکی میں تعاون کرنا ہے، اسی طرح گناہ اور ظلم
میں کسی کا ساتھ مت دو۔ اگر ہم برائی میں ساتھ دے کر کہیں کہ ہم نے سہارا دیا تو
یہ غلط ہے جو کہ ہمیں اس آیت سے معلوم ہوا۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: مومن مومن کے لیے دیوار کی مانند ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط
کرتا ہے۔ (بخاری، 2/127،حديث:2446)
ہمیں نہیں
معلوم کے ہمارا کوئی چھوٹا سا لفظ، کوئی چھوٹا سا فعل کسی کے ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑ
سکتا ہے اور کسی کے لیے جینے کا سہارا بن سکتا ہے لہٰذا ہمیں چاہیے کہ حسن اخلاق
سے پیش آئیں کیونکہ بعض دفعہ الفاظ کا سہارا بہت مضبوط سہارا ہوتا ہے۔ دین اسلام
درس دیتا ہے کہ اگر کسی کا سہارا بننا ہے تو ابھی بن جاؤ۔ کیونکہ کل کا انتظار
کرنے والا نہیں، بلکہ آج عمل کرنے والا ہی سچا مسلمان ہے۔
نبی ﷺ نے ہمیں
سکھایا کہ اصل عبادت زندوں کی خبر گیری ہے۔ بھوکے کو کھانا کھلانا، غمزدہ کے آنسو
پونچھنا، کمزور کا ہاتھ تھامنا یہی دین ہے۔اس لیے سہارا دینا ہے تو زندگی میں
دیجئے۔ کل کے وعدوں سے بہتر آج کا ایک قدم ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کا دیا ہوا حوصلہ کسی
کی زندگی بچا لے۔
نبی کریم ﷺ نے
بھی فرمایا: جو اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ اس کی ضرورت پوری
فرماتا ہے۔ (مسلم، ص 1110، حدیث: 6853)
ایسا نہیں کہ
کوئی غریب کسی کو سہارا نہیں دے سکتا کیونکہ سہارا دینا صرف مالی طور پر ہی نہیں
کہ بلکہ بعض اوقات ہمارے الفاظ بھی کسی کے لیے سہارا بن جاتے ہیں۔ سب کو مالی طور
پر سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کچھ لوگوں کے پاس بہت مال ہوتا ہے مگر ان کو انسانی
سہارے کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جس قدر ہو سکے اللہ کی رضا کے لیے اس
کی مخلوق کا سہارا بنیں۔ ظاہر ہے اگر ہم اس کی مخلوق کا خیال رکھیں گے تو وہ بھی
بروز محشر ہمارا بھرم رکھے گا۔
بہتر یہی ہے
کہ ہم کسی کے چلے جانے کے بعد تعریفوں کے پل نہ باندھیں، بلکہ زندگی میں ہی کسی کے
آنسو پونچھیں، کسی کا بوجھ ہلکا کریں۔کیونکہ زندگی میں دیا گیا ایک سہارا، مرنے کے
بعد کی ہزار مبالغے کے ساتھ کی ہوئی جھوٹی تعریفوں سے زیادہ قیمتی ہے۔
Dawateislami