سہارا
دینا ہے تو زندگی میں دیجیے از بنت اعظم علی،نوشہرہ روڈ گوجرانوالہ
ہم ایک ایسے
معاشرہ کا حصہ ہیں جہاں کوئی تن تنہا زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا ہمیں
زندگی میں بہت سے معاملات میں دوسرے کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے، انسان اکیلا کچھ
نہیں کر سکتا۔ اسےہر قدم پر اسے کسی نہ کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر ہم اکثر
یہ سہارا بہت دیر سے دیتے ہیں۔بعض مرتبہ جب تکلیف گزر چکی ہو، جب موقع ہاتھ سے نکل
چکا ہو، جب سننے والا خود دنیا سے جا چکا ہو۔
1۔
جیتے جی قدر کریں، مرنے کے بعد نہیں: ہمارے ہاں عجیب رواج ہے۔ جب تک ماں
باپ، استاد یا دوست زندہ ہیں ہم شکایت کرتے ہیں۔ اور جب وہ چلے جاتے ہیں تو Status
لگا کر، تعریفوں کے پل باندھتے ہیں۔ مگر اب ان کو کیا فائدہ؟ جسے زندگی میں ایک
حوصلے کے بول کی ضرورت تھی، اسے اب قبر پر چڑھائےگیے پھول کیا فائدہ دیں گے؟
2۔
سہارا صرف پیسہ نہیں ہوتا: ہم سمجھتے ہیں سہارا دینا مطلب مالی
امدادکرنا ہے یہ بھی سہارا دینا کہلاتا ہے۔ لیکن اصل سہارا تو وقت ہے، توجہ ہے،
حوصلہ ہے۔
کسی تھکے ہوئے
کا ہاتھ تھام لینا، کسی گرتے کو سہارا دینا، کسی ٹوٹے دل کو سن لینا؛ یہ سب سے بڑی
دولت ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کا ایک جملہ میں تمہارے ساتھ ہوں کسی کی زندگی بچا دے۔اور
نئی زندگی جینے کا حوصلہ دے دے۔
3۔
کل کے انتظار میں آج مت گنوائیں: ہم کہتے ہیں کل ملوں گا، کل معافی مانگ
لوں گا، کل مدد کر دوں گا۔ لیکن کل کس نے دیکھا ہے؟ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں۔ آج
جو پاس ہے، جسے آپ کی ضرورت ہے، اسے ابھی سہارا دیں۔ ورنہ کل پچھتاوے کے سوا کچھ
نہیں بچے گا۔
4۔
جو بوئیں گے وہی کاٹیں گے: آج آپ کسی کا سہارا بنیں گے تو کل اللہ
آپ کا سہارا بنے گا۔ give and take کا معاملہ تو شروع سے ہے ناں۔ جو آسانیاں آپ
بانٹیں گے، وہی آسانیاں لوٹ کر آپ کے پاس آئیں گی۔ اور جو سختیاں دیں گے، وہ بھی
پلٹ کر آئیں گی۔
قبر پر پھول
رکھنے سے پہلے کسی کے گھر پھول جیسا بن کر جائیں۔ جنازے پر رونے سے بہتر ہے زندگی
میں مسکرا کر ملنا۔
یاد رکھیں:
سہارا دینا ہے تو زندگی میں دیجیے۔
Dawateislami