انسان کو اصل ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب وہ زندگی کی مشکلات، بیماری، تنگ دستی یا تنہائی سے گزر رہا ہو۔ مرنے کے بعد تعزیت اور تعریف اپنی جگہ، لیکن حقیقی محبت اور اخلاص یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں اس کا سہارا بنا جائے۔

اللہ تعالیٰ نے نیکی اور تعاون کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪- (پ 6، المائدۃ: 2) ترجمہ: نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔ (مسلم، ص 1110، حدیث: 6853)

ایک اور حدیث میں فرمایا: لوگوں میں سے بہتر وہ شخص ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچائے۔ (معجم اوسط، 4/ 222، حدیث: 5787)

اس لیے اگر کسی سے محبت ہے، اس کی قدر ہے یا اس پر احسان کرنا چاہتے ہیں تو اس کے زندہ ہوتے ہوئے اس کا ہاتھ تھامیں، اس کے دکھ بانٹیں، اس کی ضرورت پوری کریں اور اس کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ یہی وہ عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق بہترین اخلاق ہے۔

یاد رکھیے! سہارا دینا ہے تو زندگی میں دیجیے، کیونکہ زندہ انسان کو محبت، وقت، دعا اور تعاون کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔