سہارا
دینا ہے تو زندگی میں دیجیے از ہمشیرہ سید قوسین حیدر،لطیف آباد 8 حیدرآباد
زندگی کا سفر
انسان اکیلے بھی طے کر لیتا ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو اتنی صلاحیت دی
ہے کہ وہ اپنی ہمت سے تمام منزلیں طے کر سکتا ہے۔ لیکن اس سفر میں کوئی ایسا موڑ
بھی ضرور آتا ہے جہاں انسان کو اپنے کسی ہم سفر، دوست یا اپنوں کے حقیقی سہارے اور
ایک محبت بھرے بول کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔
مگر ہمارے
معاشرے کا ایک تلخ اور انتہائی افسوسناک سچ یہ ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود زندہ
اور حقیقی انسانوں کی قدر کرنے سے بالکل عاری ہیں۔ جب تک کوئی شخص اس دنیا میں
موجود ہوتا ہے، مشکلات میں گرا ہوتا ہے، اور اپنوں سے مدد یا دو بول تسلی کے
مانگنے آتا ہے، تو اسے بری طرح دھتکار دیا جاتا ہے۔ اس کی فریاد کو نظر انداز کر
دیا جاتا ہے، اس کی مجبوریوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اور اسے تنہا چھوڑ دیا جاتا
ہے۔
لیکن دیکھیے
کہ جیسے ہی وہی انسان اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، سب کے رویے اچانک بدل جاتے ہیں۔
وہی لوگ جو جیتے جی اس کا منہ دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے، اب اس کی تعریفوں کے
طویل پل باندھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس کی یاد میں طویل پوسٹس شیئر کی جاتی ہیں،
اس کی تعریفوں کی ویڈیوز ریکارڈ کی جاتی ہیں، اور اس کے احسانات کو بڑھ چڑھ کر
بیان کیا جاتا ہے۔ ہر محفل میں یہ نعرہ بلند ہوتا ہے کہ وہ بہت ہی نیک تھا ہر کسی
کے کام آتا تھا کوئی بھی اس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتا کیوں؟
یہ منافقت اور
دہرا معیار انتہائی شرمناک ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس انسان کو مرنے کے بعد
آپ کی ان تعریفوں، ویڈیو ریکارڈنگز اور قصیدوں کا کیا فائدہ جو زندگی بھر ایک ایک
نوالے، ایک ایک محبت بھرے بول اور ذرا سا سہارے کے لیے ترس گیا؟ جس شخص کو جیتے جی
آپ نے ایک گلاس پانی یا وقت کا سہارا نہیں دیا، اس کی قبر پر پھول چڑھانے یا اس کی
موت کے بعد اسٹیٹس لگانے سے اسے کیا سکون ملے گا؟
اسلام اور
شریعت مطہرہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ نیکی، اخوت اور باہمی تعاون کا اصل وقت وہی ہے
جب انسان دنیا میں موجود ہو۔ شریعت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ضرورت مندوں
کی حاجت روائی ان کی زندگی میں کی جائے۔
قرآن کریم میں
اللہ پاک کا ارشاد ہے: وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ
الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِۙ-وَ السَّآىٕلِیْنَ وَ فِی
الرِّقَابِۚ- (پ
2، البقرۃ: 177) ترجمہ کنز الایمان: اللہ کی محبت
میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں
کو اور گردنیں چھوڑانے میں۔
اس آیت میں اس
بات کی صریح دلیل موجود ہے کہ حقیقی نیکی انسانوں کے جیتے جی ان کی مالی و اخلاقی
امداد کرنے میں مضمر ہے۔
نبی کریم ﷺ نے
جیتے جی انسانوں کا بوجھ ہلکا کرنے اور ان کے کام آنے کو دنیا و آخرت کی کامیابی
کا ذریعہ قرار دیا ہے: جو شخص کسی مومن کی دنیا کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور
کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا، اور
جو شخص کسی تنگ دست کے لیے آسانی پیدا کرے، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے
لیے آسانی پیدا فرمائے گا، اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ
اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ (مسلم، ص 1110، حدیث: 6853)
ایک اور مقام
پر آپ ﷺ نے مسلمان کو تنہا اور بے سہارا چھوڑنے سے سختی سے منع فرمایا ہے: مسلمان
مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے بے سہارا چھوڑے۔ اور جو شخص اپنے
بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری فرماتا
ہے۔ (مسلم، ص 1069، حدیث: 6578)
اس حدیث پاک
کا جملہ یعنی اسے بے سہارا نہ چھوڑے، اس بات کی روشن دلیل ہے کہ جب کوئی انسان مدد
کا طلبگار ہو، تو اسے تنہا چھوڑنا یا دھتکار دینا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
اصل نیکی یہ
ہے کہ جیتے جی کسی ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑا جائے، کسی روتے ہوئے کے آنسو پونچھے
جائیں، اور کسی بے سہارا کا ہاتھ تھاما جائے۔ نہ کہ اس کے جانے کے بعد دنیا کو
دکھانے کے لیے آنسو بہائے جائیں۔
Dawateislami