سہارا
دینا ہے تو زندگی میں دیجیے از بنت غفور احمد، جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
انسانی زندگی
ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور محبت سے بنتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو معاشرے
میں رہنے کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ ایک دوسرے کے کام آئے اور دکھ درد بانٹے اور
ضرورت مندوں کا سہارا بنے کسی انسان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اس کی تعریف کرنا
آسان ہے لیکن اصل محبت اور ہمدردی یہ ہے کہ جب کوئی زندہ ہو مشکل میں ہو یا پریشان
ہو تو اس کا ہاتھ تھاما جائے۔
زندگی میں دیا
گیا سہارا انسان کے لیے امید کی کرن بن جاتا ہے کبھی کسی غریب کی مدد کرنا کسی
پریشان شخص کی بات سن لینا کسی بیمار کی عیادت کرنا یا کسی کا حوصلہ بڑھانا بھی
بہت بڑی نیکی ہے، انسان کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور اپنے
اچھے اخلاق سے دوسروں کے دلوں کو جیت لے۔
اسلام نے بھی
ہمیں دوسروں کی مدد اور ہمدردی کا درس دیا ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مسلمان
مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے بے سہارا چھوڑتا ہے۔ (مسلم، ص
1069، حدیث: 6578)
ایک اور حدیث
مبارکہ میں آتا ہے: اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی
مدد میں رہتا ہے۔ (مسلم، ص 1110، حدیث: 6853)
ان حدیث سے
معلوم ہوتا ہے کہ دوسروں کا سہارا بننا اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہے جو انسان
دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کے لیے آسانیاں پیدا
فرماتا ہے۔
آج کے دور میں
اکثر لوگ اتنے مصروف ہیں کہ دوسروں کے دکھ کو نظر انداز کر دیتے ہیں ہمیں اپنے
رویے میں نرمی اور ہمدردی پیدا کرنی چاہیے۔ زندگی بہت مختصر ہے اس لیے ہمیں محبت
پیار سے رہنا چاہیے کسی کی مشکل وقت میں سہارا دیا گیا ہمیشہ یاد رہتا ہے۔
پیارے نبی ﷺ نے
ہمیشہ انسانیت سے محبت رحم اور محبت کا درس دیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے
بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔
سہارا دینے کا
مقصد صرف مالی مدد نہیں بلکہ کسی غمزدہ انسان کو تسلی دینا کسی ناکام شخص کو
دوبارہ کوشش کرنے کی تسلی دینا کسی بیمار کی عیادت کرنا ایک پریشان شخص کے لیے دعا
کرنا بھی سہارا بنتا ہے چھوٹا سا عمل خوشی لے آتا ہے زندگی میں۔
والدین ہماری
زندگی کا سب سے بڑا سہارا ہیں کہ ہمیں چاہیے ان کی عزت کریں ان کی خدمت کریں ان کے
فرماں بردار رہیں ان کی خدمت کریں بڑھاپے میں ان کا سہارا بنیں، اسی طرح رشتہ
داروں اور دوستوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کریں اور محبت سے پیش آئیں۔ آخر میں یہی
سبق ملتا ہے کہ انسان کی اصل خوبصورتی اس کے مال دولت میں نہیں بلکہ اس کے کردار
اور دوسروں کی مشکلات کو آسان کرنے میں ہے۔
Dawateislami