حسین
عاطف علی(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی کراچی،پاکستان )
اخلاص کے حروف اصلیہ خ ل ص ہے یہ باب نصر ینصر سے ہو تو
اس کا معنی ہوگا خالص ہونا کھرا ہونا اور صاف ہونا اور باب تفعیل سے ہو تو کھوٹ
اور آمیزش سے پاک ہونا یعنی ہمیں جو بھی نیک عمل کرنے چاہیے تو وہ عمل خالص
ہونےچاہیے ریا اور باطنی بیماریوں سے پاک ہونے چاہیے تب جا کر وہ عمل الله عزوجل کی
بارگاہ میں قبول ہوتے ہیں ۔
تاجدار مدینہ
منورہ سلطان مکہ مکرمہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بروز قیامت مہربند صحیفے
اللہ عزوجل کی بارگاہ میں نصب (پیش) کئے جائیں گے تو اللہ عزوجل فرشتوں سے فرمائے
گا : یہ چھوڑ دو اور یہ قبول کر لو ۔ فرشتے عرض کریں گے : یا رب عز و جل تیری عزت
کی قسم ہم تو اس میں خیر ہی دیکھتے ہیں ، اللہ عزو جل جو سب سے زیادہ جاننے والا
ہے ارشاد فرمائے گا : یہ اعمال میرے غیر کے لیے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول
کروں گا جو میری رضا کے لئے کئے گئے تھے۔ (دار قطنی كتاب الطہارت باب النية ١/٧٣،
حديث (١٢٩ )
جتنا اخلاص زیادہ
اتنی مدد الہی زیادہ انسان کو مدد الہی اس کے اخلاص کے مطابق ملتی ہے جس کے نیک
اعمال میں جتنا زیادہ اخلاص ہوگا اسے اتنی ہی زیادہ مدد الہی نصیب ہوگی نیت ہی کی
وجہ سے اعمال اچھے یا برے اور مرتبے کے لحاظ سے چھوٹے یا بڑے ہوتے ہیں ۔
حضرت سیدنا سالم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا
عمر بن عبد العزیز علیہ رحمۃ اللہ المجید کو لکھ کر بھیجا کہ جان لو بے شک بندے کو
اللہ عزوجل کی طرف سے مدد اس کی نیت کے مطابق ملتی ہے جس کی نیت مکمل (یعنی خالص)
ہو اس کے لئے اللہ عزوجل کی مدد بھی مکمل ہوتی ہے اور جس کی نیت میں کمی ہواسے مدد
بھی کم ملتی ہے (یعنی انسان کی مدد اسکے اخلاص کے مطابق کی جاتی ہے)(احیاء العلوم
(۵/۸۹).
اخلاص بندے اور رب کے درمیان ایک ایسا راز ہے جسے نہ
فرشتہ لکھ سکتا ہے نہ شیطان بگاڑ سکتا ہے نہ نفس چھو سکتا ہے جب بندہ اپنے اخلاص
پر نظر رکھتا ہے تو وہ خود پسندی سے آلودہ ہو جاتا ہے۔ اخلاص عمل کا نور باطن ہے،
جس کے بغیر عمل بے روح ہے۔
علامات اخلاص:
(1) نیت کو شہرت، تعریف اور غرض سے پاک کرنا ۔(2) اپنے
اخلاص کو بھی اخلاص نہ سمجھو (3)خلوت میں عبادت کرو تاکہ ریا سے بچو۔(4)ہر عمل سے
پہلے خود سے پوچھو " یہ میں اللہ عز وجل کے لیے کر رہا ہو یا اپنے لیے
؟"ہر عمل کا مقصد صرف رضائے الہی ہو۔ یہی توحید عمل کی روح ہے
باطنی بیماری ریا خود پسندی، شہرت طلبی
اور اجر یا فائدے کی حرص: (1) فنا فی اللہ : اپنی خواہش کو رضائے الٰہی میں مٹا دینا.
(2) صدق : نیت میں سچائی (3) مجاہدہ: نفس کے خلاف جدوجہد (4) خلوت :تنہائی میں تزکیہ
جو اپنے اخلاص کو دیکھنے لگے وہ اخلاص کھو دیتا ہے عمل کی قبولیت نہیں قربت الٰہی
پر نظر رکھو تھوڑا سا اخلاص بھی وسوسوں سے نجات دیتا ہے اخلاص ہی ولایت کی کنجی ہے۔
حقیقی محبت وہی
ہے جو صرف ذات الٰہی کے لیے ہو جو نہ ثواب کی لالچ میں کرے نہ خوف جہنم سے وہی
"مخلص" عاشق اور حقیقی موحد ہے علم بیج ہے عمل کھیتی ہے اور اس کا پانی
" اخلاص" ہے اگر پانی خالص نہ ہو تو کھیتی بھی مر جاتی ہے۔
Dawateislami