صحابی رسول ہونا اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ہر صحابی عادل اور جنتی ہے۔ کوئی شخص بھلے کتنی ہی عبادت کر لے وہ کبھی بھی صحابی نہیں بن سکتا کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے رسول اللہﷺ کی محبت پائی، حضور ﷺ کی تربیت پائی تو وہ انسان کیا فرشتوں سے بھی بڑھ گئے۔ (مراۃ المناجیح، 8/340)

انصار سے محبت، ایمان کی نشانی: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انصار (انصاری صحابہ)سے محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)

نبی کریم ﷺ نے انصاری صحابہ سے محبت کو ایمان کا معیار قرار دیا، یوں انصار سے سچی محبت ہی ایمان کی نشانی ہے۔

نبی کریم ﷺ کی انصار صحابہ کے لیے دعا: مہاجرین و انصار مدینہ شریف کے گرد خندق کھودنے میں مصروف تھے، تو نبی کریم ﷺ نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! بھلائی نہیں مگر آخرت کی بھلائی میں انصار و مہاجرین میں برکت فرما۔ (بخاری، 2/264، حدیث: 2835)

نبی کریم ﷺ کو اپنے صحابہ سے اتنی محبت تھی کہ ان کیلئے دل سے دعائیں مانگتے اور جن کیلئے نبی پاک ﷺ دعا مانگتے ہیں بس ان کا دنیا و آخرت دونوں میں بیڑا پار ہے۔

صحابہ وہ صحابہ جن کی ہر دن عید ہوتی تھی

خدا کا قرب حاصل تھا،نبی کی دید ہوتی تھی

نبی کریم ﷺ کی انصار و مہاجر سے بے حد محبت تھی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تم (انصاری صحابہ) ہو، مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ تم (انصاری صحابہ) پیارے ہو۔(بخاری، 2/556، حدیث: 3786)

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: اگر لوگ ایک جنگل یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار و مہاجر کے جنگل یا گھاٹی میں چلوں گا اور انصار اندرونی لباس کی طرح ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس کی طرح ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو انصار صحابہ سے بہت زیادہ محبت تھی۔ اور پہلی حدیث میں 2 مرتبہ اظہار محبت اور دوسری حدیث میں انصار صحابہ کو اندرونی لباس سے تشبیہ دے کر محبت کی دلیل دی ہے۔

شرح حدیث: مرآت شریف میں ہے: اگر تمام جہان کی رائے ایک طرف ہو اور انصار کی رائے دوسری ہو تو میں انصار کی رائے کے موافق رائے دوں گا، تمام کی راؤں پر انصار کی رائے کو ترجیح دوں گا۔ یہ مطلب نہیں کہ میں انصار کی اتباع کروں گا، بلکہ سارا جہان حضور ﷺ کا متبع ہے، حضور ﷺ کسی شخص یا کسی قوم کے متبع نہیں۔

اللہ پاک کی انصار صحابہ سے محبت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مومن اور ان سے دشمنی نہ کرے گا مگر منافق،تو جس نے ان سے محبت کی اللہ پاک اس سے محبت کرے گا اور جس نے ان سے بغض رکھا اللہ پاک اس سے ناراض ہو گا۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)

ایمان کا حصہ: حضور اکرم ﷺ کی انصار صحابہ سے والہانہ محبت ایمان کی علامت اور ایمان کا حصہ تھی۔ انصار وہ عظیم لوگ تھے جنہوں نے ہجرت کے مشکل وقت میں رسول اللہ ﷺ اور مہاجرین کو نہ صرف پناہ دی بلکہ اپنی جان اور مال کی قربانیاں پیش کیں۔

دعائے مصطفوی: اے اللہ! انصار کی اور ان کے بیٹوں اور پوتوں کی مغفرت فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)