اخلاص کی تعریف :کسی بھی نیک عمل میں
رضائے الہی حاصل کرنے کا نام اخلاص ہے۔
اخلاص کی اہمیت :اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ
الْخَالِصُ ترجمہ کنز الایمان: ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے۔
(الزمر:3)
صراط الجنان: اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! سن لو
کہ شرک سے خالص عبادت اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی عبادت کا
مستحق ہی نہیں اور وہ بت پرست جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور معبود ٹھہرا لئے
ہیں اور بتوں کی پوجا کرتے ہیں ،وہ (اللہ تعالیٰ کو خالق ماننے کے باوجود) کہتے ہیں
کہ ہم تو ان بتوں کی صرف اس لئے عبادت کرتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے زیادہ
نزدیک کردیں تو یہ سمجھنے والے جھوٹے اور ناشکرے ہیں یعنی جھوٹے تو اِس بات میں ہیں
کہ بتوں کو خدا کا قرب دلانے والا سمجھتے ہیں اور ناشکرے اِس لئے ہیں کہ خدا کی
نعمتیں کھاکر اور اس کو خالق مان کر پھر بھی شرک کرتے ہیں تو ان کافروں کا
مسلمانوں کے ساتھ توحید و شرک میں جو اختلاف ہے اس کا فیصلہ قیامت میں اللہ تعالیٰ
ہی فرمائے گا اور وہ فیصلہ ایمان داروں کو جنت میں اور کافروں کو دوزخ میں داخل
کرنے کے ذریعے ہوگا ۔
(1)اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے :اَمیرُ
الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مَدِینَۂِ مُنَوَّرَہ،سردارِمَکَّۂِ مُکَرَّمَہ ص ﷺ
کویہ فرماتے ہوئے سنا:’’اعمال نِیَّت ہی پرہیں ،ہرشخص کیلئے وہی ہے جواُس نے نِیَّت
کی،جس کی ہجرت اللہ اور رَسول کی طرف ہوتواس کی ہجرت اللہ اوررسول ہی کی طرف ہے
اورجس کی ہجرت حُصُولِ دنیایاکسی عورت کے لئے ہوجس سے وہ نکاح کرناچاہے تواس کی
ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔‘‘( بخا ری،کتاب بدء ا لوحي،باب کَیْفَ
کَانَ بَدْئُُ الْوَحْي…الخ،بتغیر قلیل،۱/۳۴،
حدیث۵۴)
(2)خالص عمل تھوڑابھی زیادہ ہے : حضرتِ
سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں کہ تورا ت شریف میں
اللہ عزَّوَجَلَّ کایہ فرمان لکھا ہے:’’جس
عمل سے میری رِضا مطلوب ہووہ تھوڑابھی زیادہ ہے اورجس عمل سے میرے غیرکاقَصدکیا گیاہو
وہ زیادہ بھی تھوڑاہے۔‘‘ (احیاء العلوم،۵/۸۹)
(3) جیسی نِیَّت وَیسی مدد : حضرتِ
سَیِّدُناسالِم بن عَبْدُ اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے حضرتِ سَیِّدُناعمربن
عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَجِیْد کولکھ کربھیجاکہ:جان لوبے شک!بندے
کواللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف سے مدد اس کی نِیَّت کے مطابق ملتی ہے،جس کی نِیَّت
مکمل(یعنی خالص)ہواس کے لئےاللہ عزَّوَجَلَّ کی مددبھی مکمل ہوتی ہے اورجس کی نِیَّت میں کمی ہواسے مددبھی
کم ملتی ہے۔(یعنی انسان کی مدداسکے اِخلاص کے مطابق کی جاتی ہے) (احیاء العلوم، ۵/۸۹)
Dawateislami