اخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔

(احیاءالعلوم،بیان حقیقۃ الاخلاص، ۵ / ۱۰۷)

معلوم ہوا کہ اخلاص یہ ہے کہ بندہ اپنے قول و فعل، عبادت و خدمت اور ہر نیکی میں صرف اللہ کریم کی رضا مقصود رکھے، نہ تعریف کی خواہش ہو اور نہ دنیاوی مفاد کی طلب۔

قرآن پاک میں مخلص مومن کی مثال :وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِۚ-فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۲۶۵) ترجمۂ کنزالایمان : اور ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے دل جمانے کو اس با غ کی سی ہے جو بھوڑ(ریتلی زمین)پر ہو اس پر زور کا پانی پڑا تو دونے میوے لایا پھر اگر زور کا مینھ اسے نہ پہنچے تو اوس کافی ہے اور اللہ تمہارے کا م دیکھ رہا ہے۔( پ ۳ ، البقرۃ: ۲۶۵)

خَزائنُ العرفان میں ہے: یہ مومن مخلص کے اعمال کی ایک مثال ہے کہ جس طرح بلند خطہ کی بہتر زمین کاباغ ہر حال میں خوب پھلتا ہے خواہ بارش کم ہو یا زیادہ! ایسے ہی با اخلاص مومن کا صدقہ اور انفاق خواہ کم ہو یا زیادہ اللہ کریم اس کو بڑھاتا ہے اور وہ تمہاری نیت اور اخلاص کو جانتاہے ۔(خزائن العرفان،ص۸۱)

نبی کریم ﷺ کے 3 فرامین سے اخلاص کی اہمیت کو سمجھئے:

(1)اخلاص کے ساتھ عمل کرو:نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے :اے لوگو! اللہ کریم کے لئے اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہ اللہ عزوجل وہی اعمال قبول فرماتاہے جو اس کے لئے اخلاص کے ساتھ کئے جاتے ہیں اوریہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہ کریم اور رشتہ داری کی وجہ سے کیا ہے۔( سنن الدارقطنی، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰)

(2)امّت تین گروہ میں بٹ جائے گی:حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جب آخری زمانہ آئے گا تو میری امّت تین گروہ میں بٹ جائے گی ۔ایک گروہ خالصًا اللہ کریم کی عبادت کرے،دوسرا گروہ دکھاوے کے لیے اللہ کریم کی عبادت کرے گا اورتیسرا گروہ اس لیے عبادت کرے گا کہ وہ لوگوں کا مال ہڑپ کرجائے ۔جب اللہ کریم بروزِ قیامت ان کو اٹھائے گا تو لوگو ں کامال کھاجانے والے سے فرمائے گا :میری عزت اورمیرے جلال کی قسم ! میری عبادت سے تیرا کیاارادہ تھا ؟‘‘ عرض کرے گا : ’’تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم! لوگوں کو دکھانا۔‘‘ اللہ کریم فرما ئے گا : ’’اس کی کوئی نیکی میری بارگاہ میں مقبول نہیں، اسے دوزخ میں ڈال دو۔‘‘ پھر خالصًا اپنی عبادت کرنے والے سے فرمائے گا: ’’میری عزّت اور میرے جلال کی قسم ! میری عبادت سے تیرا کیا مقصود تھا؟‘‘ وہ عرض کرے گا:’’ تیری عزت و جلال کی قسم !میرے اِرادے کو تو بہتر جانتا ہے ، میں نے تیری رضا چاہی۔‘‘ارشاد فرمائے گا :’’میرے بندے نے سچ کہا،اسے جنت کی طر ف لے جاؤ ۔‘‘( المعجم الاوسط ،رقم الحدیث ، ۵۱۰۵ )

(3)دِلی استغناء اور لوگوں کی محتاجی:حضرت سیِّدُنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس کی نیت آخرت کمانا ہو تو اللہ کریم اس کی غنا اس کے دل میں ڈال دے گا اور اس کی متفرقات کو جمع کردے گا اور اس کے پاس دنیا ذلیل ہو کر آئے گی اور جس کی نیت دنیا طلبی ہو تو اللہ کریم فقیری اس کی آنکھوں کے سامنے کردے گا اور اس پر اس کے کام پراگندہ کردے گا اور اس کے پاس آئے گی اتنی جتنی اس کے لیے لکھی گئی ۔( مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،الحدیث، ۵۳۲۰ )

ہمارے اسلاف کے اخلاص پر مبنی دو انمول واقعات ملاحظہ فرمائیں :

(1)بعدِ وصال سخاوت کا پتا چلا:حضرت سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زندگی میں دو مرتبہ اپنا سارا مال راہِ خدا عزوجل میں خیرات کیا اور آپ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ آپ بہت سے غرباء اہل مدینہ کے گھروں میں ایسے پوشیدہ طریقوں سے رقم بھیجا کرتے تھے کہ ان غرباء کو خبر ہی نہیں ہوتی تھی کہ یہ رقم کہاں سے آتی ہے؟مگر جب آپ کا وصال ہو گیاتو ان غریبوں کو پتا چلاکہ یہ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سخاوت تھی۔( سیر اعلام النبلاء،ج ۵ ،ص ۳۳۶ ، ۳۳۷ )

(2)مسلسل چالیس سال تک روزے:حضرتِ سَیِّدُنا داوٗد طائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسلسل چالیس سال تک روزے رکھتے رہے مگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اِخلاص کا یہ عالَم تھاکہ اپنے گھر والوں تک کو خبر نہ ہونے دی۔ کام پر جاتے ہوئے دوپہر کا کھانا ساتھ لے لیتے اور راستے میں کسی کو دے دیتے،مغرِب کے بعد گھر آکر کھانا کھا لیا کرتے۔( فیضان سنّت،ج ۱ ،ص ۱۴۴۵ بحوالہ مَعْدِنِ اَخلاق حصّہ اول ص ۱۸۲)

اولیائے کرام کی زندگیاں ہمیں یہی سبق دیتی ہیں کہ اصل کامیابی تعریف، شہرت یا اثر میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ عمل رب کریم کے لیے ہو اور رب کریم ہی کے لیے چھپا رہے۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم نیکیاں چھوڑنے کے بجائے اپنی نیتوں کو سنواریں، دل کو اخلاص کے صابن سے دھوئیں اور ہر عبادت کے بعد قبولیت کی بھیک مانگیں کہ یااللہ عزوجل اپنے محبوب ﷺ کا واسطہ ہماری خالی جھولیوں کو دولتِ اخلاص سے بھر دے۔

میرا ہر عمل بس تیرے واسطے ہو کر اِخلاص ایسا عطا یا الہی عزوجل


اخلاص کی تعریف :کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ ۳۰، البینہ: ۵)

اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:‏عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ امْرِءٍ مَّانَویٰ فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ فَہِجْرتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ لِدُنْیَایُصِیْبُہَااَوْاِمْرَاَۃیَنْکِحُہَافَہِجْرَتُہٗ اِلٰی مَاہَاجَرَ اِلَیْہِ۔

ترجمہ :اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مَدِینَۂِ مُنَوَّرَہ،سردارِمَکَّۂِ مُکَرَّمَہ ص ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا:’’اعمال نِیَّت ہی پرہیں ،ہرشخص کیلئے وہی ہے جواُس نے نِیَّت کی،جس کی ہجرت اللہ اور رَسول کی طرف ہوتواس کی ہجرت اللہ اوررسول ہی کی طرف ہے اورجس کی ہجرت حُصُولِ دنیایاکسی عورت کے لئے ہوجس سے وہ نکاح کرناچاہے تواس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔‘‘( بخا ری،کتاب بدء ا لوحی ،۱/۳۴، حدیث۵۴)

خالص عمل ہی قُبول ہوگا: تاجدارِ مَدِیْنَۂ مُنَوَّرَہ،سُلطَا نِ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا :بروزِقیامت کچھ مُہربند صحیفےاللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں نَصْب(پیش)کئے جائیں گے تواللہ عزَّوَجَلَّ فرشتوں سے فرمائے گا:یہ چھوڑدواوریہ قبول کرلو۔ فرشتے عرض کریں گے : یاربّ عزَّوَجَلَّ!تیری عزت کی قسم!ہم تواس میں خیرہی دیکھتے ہیں ،اللہ عزَّوَجَلَّ جوسب سے زیادہ جاننے والاہے ارشادفرمائے گا:یہ اعمال میرے غیرکیلئے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں گاجومیری رِضاکے لئے کئے گئے تھے۔ (دار قطنی،کتاب الطہارۃ، باب النیۃ، ۱/۷۳، حدیث:۱۲۹)

اِخلاص پیدا کرنے کے(5)طریقے:

(1)اپنی نیت درست کیجیے :‏کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اِخلاص ہے۔ بعض اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام فرماتے ہیں:’’اپنے اَعمال میں نیت کو خالص کرلو، تمہیں تھوڑا عمل بھی کفایت کرے گا۔‘‘لہٰذا خود کو اچھی اچھی نیتوں کا عادی بنائیے ۔

(2)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے:‏ایسی دُنیوی اَغراض جن سے مقصود آخرت کی تیاری ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر عمل سے اُن کو دُور کردیا جائے اور صرف رِضائے اِلٰہی پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی دِکھاوے کے اِمکانات کا فی کم ہوجاتے ہیں۔البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کا عسرت وتنگی کے ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ تَعَالٰی انہیں قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادتِ الٰہی بجالاسکیں اور درس وتدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اِس طرح کا اِرادہ نیک اِرادہ ہے دنیا کا اِرادہ نہیں۔

(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے:‏کیونکہ اَعمال وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیے ہوں گے اور اعمال کو ریاکاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے کہ بندہ خود کو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب ہوگا اتنا ہی عمل میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہوگی۔

(4)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے:کہ اِخلاص میں بہت بڑی رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پرچند تعریفی کلمات سن کر نفس بے حد سکون محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریاکاری پر اُبھارتا ہے جو اِخلاص کی دشمن ہے اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔لہٰذا نفسانی خواہشات پر قابو پائیے اور اَعمال میں اِخلاص حاصل کیجئے۔

(5)اپنے گناہوں کو یاد رکھیے:‏عموماً لوگ اپنی نیکیوں کو یاد رکھتے اور گناہوں کو بھول جاتے ہیں جس سے وہ ریاکاری اور خود پسندی جیسی موذی بیمار ی میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو اِخلاص کی سخت دشمن ہیں، لہٰذا اپنے گناہوں کو یاد رکھیے، نفس کو اُن پر ملامت کرتے رہیے کہ تو فلاں فلاں گناہوں کا مجموعہ ہے پھر کسی نیک عمل پر اِترانے کا کیا معنی؟ یوں کافی حد تک اسے تکبر وریاکاری سے دور رکھنے میں معاونت ملے گی اور اعمال میں اخلاص پیدا کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔


اخلاص اسلام کی بنیاد اور تمام عبادات کی روح ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول، فعل اور عبادت میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائے، نہ کہ لوگوں کی تعریف، شہرت یا دنیاوی فائدہ۔ اگر عمل میں اخلاص نہ ہو تو وہ عمل اللہ کے نزدیک بے وقعت ہو جاتا ہے، چاہے بظاہر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ اسی حقیقت کو رسولِ اکرم ﷺ نے متعدد احادیث میں واضح فرمایا ہے۔سب سے مشہور اور بنیادی حدیث جو اخلاص کی اصل کو بیان کرتی ہے، وہ یہ ہے:

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ:إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔(صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی، حدیث نمبر 1،صحیح مسلم، کتاب الإمارة، حدیث نمبر 1907)یہ حدیث واضح طور پر بتاتی ہے کہ عمل کی قبولیت نیت پر موقوف ہے۔ اگر نیت خالص اللہ کے لیے نہ ہو تو عمل ضائع ہو جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ریاکاری کو نہایت خطرناک قرار دیا اور اسے چھوٹا شرک فرمایا:إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الأَصْغَرُقَالُوا: وَمَا الشِّرْكُ الأَصْغَرُ قَالَ: الرِّيَاءُترجمہ: مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ چھوٹا شرک ہے۔صحابہ نے عرض کیا: چھوٹا شرک کیا ہے؟فرمایا: ریا (دکھاوا)۔(مسند احمد، حدیث نمبر 23119)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ اگر عمل لوگوں کو دکھانے کے لیے ہو تو وہ اللہ کے نزدیک شرک کے درجے تک پہنچ جاتا ہے، چاہے وہ نماز، روزہ یا صدقہ ہی کیوں نہ ہو۔

اخلاص کی اہمیت کو ایک اور حدیث میں نہایت سخت انداز میں بیان کیا گیا ہے، جس میں قیامت کے دن سب سے پہلے حساب لیے جانے والے تین افراد کا ذکر ہے:قیامت کے دن سب سے پہلے جس کا فیصلہ ہوگا وہ عالم، مجاہد اور سخی ہوگا، مگر چونکہ انہوں نے اعمال اللہ کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی تعریف کے لیے کیے تھے، اس لیے انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(صحیح مسلم، کتاب الإمارة، حدیث نمبر 1905)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ بڑے سے بڑا عمل بھی اگر اخلاص کے بغیر ہو تو انسان کی نجات کا ذریعہ نہیں بنتا بلکہ ہلاکت کا سبب بن سکتا ہے۔اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ خَالِصًا وَّابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُترجمہ: اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اس کے لیے کیا گیا ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود ہو۔(سنن نسائی، کتاب الجهاد، حدیث نمبر 3140)

ان تمام احادیث سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اخلاص کے بغیر نہ عبادت معتبر ہے، نہ علم، نہ جہاد اور نہ صدقہ۔ اخلاص انسان کے عمل کو وزن دیتا ہے اور اسے اللہ کے ہاں قابلِ قبول بناتا ہے۔

لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دل کی اصلاح کرے اور ہر عمل سے پہلے اپنی نیت کو پرکھے۔ جو شخص اخلاص اختیار کرتا ہے، وہی اللہ کے نزدیک کامیاب اور سرخرو ہوتا ہے، اور جو دکھاوے میں مبتلا ہو، وہ اپنا سب کچھ ضائع کر بیٹھتا ہے۔


اللہ تعالیٰ نے جب انسان کی تخلیق فرمائی تو اسکو بہت ساری صفات سے متصف کیا ان میں اچھی صفات بھی ہیں اور بری بھی ہیں۔ تو آج ہم بات کرتے ہیں اچھی صفات میں سے ایک صفت اخلاص کی۔

اخلاص اسلامی تعلیمات کی روح اور تمام اعمال کی بنیاد ہے۔ اخلاص سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول و فعل میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو پیشِ نظر رکھے اور کسی قسم کی ریاکاری یا نمود و نمائش سے اجتناب کرے۔ اسلام میں اعمال کی قبولیت کا انحصار ان کی ظاہری شکل پر نہیں بلکہ نیت کی پاکیزگی پر ہے۔ ایک مخلص انسان نہ صرف اپنی ذات کی اصلاح کرتا ہے بلکہ اپنے کردار کے ذریعے معاشرے میں بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس مقالے میں اخلاص کے مفہوم اور اس کی اہمیت پر چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔

(1) حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ ‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال…الخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)

(2)شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ ‘‘ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)

(3) سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے ۔ ‘‘ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲ ،ج۶،ص۱۸۵)

(4)نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ، تھوڑا عمل بھی تمہارے لئے کافی ہوگا۔ ‘‘ (المستدرک ،کتاب الرقاق ، الحدیث ۷۹۱۴، ج۵، ص۴۳۵)

(5) دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی عمل قبول فرماتا ہے جواس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ‘‘ (سنن الدارقطنی،کتاب الطہارت، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)

ان احادیث سے ہمیں یہی درس ملتا ہے کہ ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے اپنے اعمال کے موتیوں کو اخلاص کی لڑی کے ساتھ آراستہ کریں اور ریاکاری اور دکھاوے سے خود کو اور اعمال کو محفوظ رکھیں۔

اللہ پاک ہم سب کو اخلاص کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


اخلاص کی تعریف :اخلاص یہ ہے کہ خود اخلاص پر نظر نہ رہے کیونکہ جو شخص اپنے اخلاص میں اخلاص کو دیکھتا ہے تو اس کا اخلاص، اخلاص کا محتاج ہو تا ہے۔ (لباب الاحیاء، فصل فی الاخلاص، ص ۳۲۸)

سلف صالحین کی عادت مبارکہ میں اخلاص تھا  ۔ وہ ہرایک عمل میں اخلاص کو مد نظر رکھتے تھے اور ریا کا شائبہ بھی ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتاتھا  ۔ وہ جانتے تھے کہ کوئی عمل بجز اخلاص مقبول نہیں  ۔ وہ لوگوں میں زاہدعابد بننے کے لئے کوئی کام نہیں کرتے تھے ۔انہیں اس بات کی کچھ پرواہ نہ ہوتی تھی کہ لوگ انہیں اچھا سمجھیں گے یا برا  ۔ ان کا مقصودمحض رضائے حق سبحانہ و  تَعَالٰی ہوتاتھا ۔ ساری دنیا ان کی نظروں میں ہیچ تھی وہ جانتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ عمل قلیل بھی کافی ہوتاہے، مگر اخلاص کے سوا رات دن بھی عبادت کرتارہے تو کسی کام کی نہیں  ۔

رسول کریم ص ﷺ   نے حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب یمن بھیجا تو فرمایا: اخلص دینک یکفک العمل القلیل۔(المستدرک علی الصحیحین، کتاب الرقاق، الحدیث:۷۹۱۴ ، ج۵، ص)

اخلاص کی اہمیت اور فضائل: جب ہم نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے فضل، اس کی تائید، مدد واعانت اور توفیق سے اس بدترین کبیرہ گناہ اور اس کے ان متعلقات کے بارے میں گفتگو مکمل کر لی جن کی مخلوق کو حاجت پیش آتی ہے اور کتاب کے موضوع کے اعتبار سے اس پر تفصیلی کلام کر لیا اگرچہ ریا کاری اور اس کے توابع کے بیان میں خصوصًا  ’’ اِحْیَائُ عُلُوْمِ الدِّیْن ‘‘  میں علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰی کے کلام کی بنسبت ہمارا کلام نہایت ہی مختصر ہے اب ہم اپنے کلا م کا اختتام اخلاص کی مدح، مخلصین کے ثواب اور ان کے لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی تیار کردہ نعمتوں پر دلالت کرنے والی چند احادیث مبارکہ پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ مخلوق کے لئے اخلاص کو اپنانے اور ریاکاری سے دوری اختیار کرنے کا سبب بن سکے کیونکہ اشیاء کی کامل معرفت ان کی اضداد ہی سے حاصل ہوتی ہے۔

(1) حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک  ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ ‘‘

 (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال…الخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)


اخلاص کی تعریف:اخلاص یہ ہے کہ خود اخلاص پر نظر نہ رہے کیونکہ جو شخص اپنے اخلاص میں اخلاص کو دیکھتا ہے تو اس کا اخلاص، اخلاص کا محتاج ہوتا ہے۔ (لباب الاحیاء ، فصل في الاخلاص، ص ۳۲۸)

اللہ عَزَّ وَ جَل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ ( البینہ: ۵)

اس آیت مبارکہ میں اخلاص کے ساتھ شرک و نفاق سے دور رہ کر اللہ عَزَّ وَجل کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع ( پیروکار ) ہو کر نماز قائم نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے کا حکم علم دیا گیا ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، صفحہ ۲۶)

اخلاص کی تعریف:دو کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا ارادہ کر نا خلاص کہلاتا ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، صفحہ ۲۵)

عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَ إِنَّمَا لِإِمْرِي مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِمْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ۔

روایت ہے عمر ابن خطاب (راضی ہو اللہ ان پر ) سے لے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے : کہ اعمال نیتوں سے ہیں ہر شخص کے لئے وہ ہی ہے جو نیت کرے سے بس جس کی ہجرت اللہ ورسول کی طرف ہو تو اُس کی ہجرت اللہ ورسول ہی کی طرف ہو گی ۴ اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہو اس کی ہجرت اس طرف ہو گی جس کے لئے کی ۔(مرآةالمناجیح شرح مشکوٰةالمصابیح جلد1)

اخلاص کے ساتھ تھوڑاعمل بھی کافی:حضور نبی کریم عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلوةِ وَالتَّسْلِين حضرت معاذ بن جبل رَضِيَ اللهُ تعالى عنہ سے فرمایا: ”اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، صفحہ ۲۶)

رسول کریم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ نے حضرت معاذ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عنه کو جب یمن بھیجا تو فرمایا: اخلص دينك يكفك العمل القليل.کہ اپنے دین میں اخلاص کر تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔(المستدرك على الصحيحين، كتاب الرقاق الحديث : ۷۹۱۴ ، ج ۵، ص ۴۳۵)

اخلاص كا حكم: کسی عمل میں فقط اخلاص ہونے یا اس کے ساتھ کسی اور غرض کی آمیزش ہونے کے اعتبار سے اعمال کی تین صورتیں ہیں :

(1) جس عمل سے مقصود صرف ریا کاری ہو اس کا قطعی طور پر گناہ ہو گا اور وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی اور عذاب کا سبب ہے۔ (۲) جو عمل خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہو گا تو وہ رضائے الہی اور اجر و ثواب کا سبب ہے۔ (۳) جو عمل خالصتا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے نہ ہو بلکہ اس میں ریا کاری اور نفسانی اغراض کی آمیزش ہو تو قوت کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں : اگر رضائے الٰہی اور دوسری غرض دونوں قوت میں برابر ہوں تو دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہو کر ساقط ہو جائیں گی اور اس عمل کا نہ تو ثواب ہو گا نہ ہی عذاب اور اگر ریا کی قوت زیادہ ہو تو یہ عمل کچھ نفع نہ دے گا بلکہ الٹا نقصان اور عذاب کو لازم کرے گا، البتہ اس میں رضائے الہی کا جتنا عنصر ہو گا اتنا عذاب میں کمی ہو جائے گی اور اس عمل کا عذاب اُس عمل کے عذاب سے ہلکا ہو گا جو خالص ریاکاری کے ساتھ ہو اور جس میں رضائے الٰہی بالکل نہ ہو اور اگر رضائے الہی کا عنصر غالب ہو تو یہ جس قدر قوی ہو گا اُسی قدر ثواب زیادہ ہو گا اور جتنا ریا ہو گا اتنا ثواب کم ہو جائے گا۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، صفحہ ۲۷، ۲۶)

اخلاص پیدا کرنے کے کچھ طریقے:

(1)اپنی نیت درست کیجیے : کہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے ، جب تک نیت خالص نہ ہو گی عمل میں اخلاص پیدا نہیں ہو گا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اخلاص ہے۔

(2)دنیوی اغراض کو دور کیجئے : ایسی دُنیوی اغراض جن سے مقصود آخرت کی تیاری و معاونت نہ ہوا گر ہر عمل سے اُن کو دُور کر دیا جائے اور صرف رضائے الہی پیش نظر ہو تو اعمال میں ریا کاری یعنی دکھاوے کے امکانات کا فی کم ہو جاتے ہیں۔

البتہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں کا عسرت و تنگی کے ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ تعالیٰ انہیں قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادت الٰہی بجالا سکیں اور درس و تدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اس طرح کا ارادہ نیک ارادہ ہے دنیا کا ارادہ نہیں۔

(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے: کیونکہ اعمال وہی قبول ہوں گے جو ریا کاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیسے ہوں گے اور اعمال کو ریا کاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے که بندہ خود کو ہر وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتار ہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب ہو گا اتنا ہی عمل میں ریا کاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہو گی۔

(4)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے : کہ اخلاص میں بہت بڑی رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پر چند تعریفی کلمات سن کر نفس بے حد سکون محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریا کاری پر ابھارتا ہے جو اخلاص کی دشمن ہے اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔ لہٰذا نفسانی خواہشات پر قابو پائے اور اعمال میں اخلاص حاصل کیجئے۔

اس سے ہمیں یہ معلوم ہواکہ ہمیں ہر کسی سےاچھا سلوک رکھنا چاہیے اگرچہ دشمن ہو یا دوست اگرچہ وہ ہم سے سلوک نہ کرے پھر بھی ہمیں اچھا سلوک کرنا چاہیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے دشمنوں سے بھی اچھا سلوک کرتے تھے۔


اخلاص وہ باطنی کیفیت ہے جو عمل کو روح عطا کرتی اور بندے کے عمل کو قبولیت کے آسمان تک پہنچا دیتی ہے۔ ظاہری طور پر نیک اعمال کی کثرت اگر اخلاص سے خالی ہو تو وہ محض ایک صورت رہ جاتی ہے، جبکہ معمولی سا عمل اگر خالص اللہ کے لیے ہو تو وہ وزن میں پہاڑ بن جاتا ہے۔ اسلام نے نیت کی اصلاح کو اعمال کی بنیاد قرار دیا ہے، اسی لیے شریعتِ مطہرہ میں اخلاص کو ایمان کی جان اور عبادت کی روح کہا گیا ہے۔ جو دل اخلاص سے روشن ہو جائے، اس کی عبادت، اخلاق اور معاملات سب میں نورِ صدق نمایاں ہو جاتا ہے۔

اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے:رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى یعنی اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ (صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی، حدیث نمبر 1؛ صحیح مسلم، کتاب الإمارة، حدیث نمبر 1907)۔

اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ عمل کی اصل قدر اس کی نیت میں پوشیدہ ہے، اور اخلاص کے بغیر کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں وزن نہیں رکھتا۔

ریا اخلاص کو کھا جانے والی بیماری ہے:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ صحابۂ کرام رضی الله عنهم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! شرکِ اصغر کیا ہے؟ فرمایا: الرِّيَاءُ یعنی مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ چھوٹا شرک ہے۔ پوچھا گیا: چھوٹا شرک کیا ہے؟ فرمایا: ریا۔ (مسند احمد بن حنبل، مسند محمود بن لبید، حدیث نمبر 23630)۔ اس فرمانِ نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ اخلاص کے مقابلے میں ریا اتنی خطرناک ہے کہ اسے شرکِ اصغر قرار دیا گیا، جو اعمال کو برباد کر دیتی ہے۔ عنوان کے مطابق نہیں

اخلاص اللہ کے لیے دین کو خالص کرنا ہے:حضور ﷺ نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ یعنی اللہ تعالیٰ کسی عمل کو قبول نہیں فرماتا مگر وہ جو خالص اسی کے لیے کیا گیا ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود ہو۔ (سنن النسائی، کتاب الجهاد، حدیث نمبر 3140)

یہ حدیث اخلاص کا وہ میزان ہے جس پر ہر عمل کو تولنا چاہیے، کیونکہ قبولیت کا دروازہ صرف اخلاص سے کھلتا ہے۔

اخلاص نجات کا ذریعہ ہے:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا دَخَلَ الْجَنَّةَ یعنی جس نے لا إله إلا الله اخلاص کے ساتھ کہا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (مسند احمد بن حنبل، مسند معاذ بن جبل، حدیث نمبر 22007)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اخلاص محض اعمال تک محدود نہیں بلکہ ایمان کی بنیاد میں شامل ہے، اور یہی اخلاص بندے کو ابدی نجات تک پہنچاتا ہے۔

اخلاص دراصل بندے اور اس کے رب کے درمیان وہ راز ہے جسے نہ فرشتے پوری طرح جان پاتے ہیں اور نہ مخلوق۔ یہی وجہ ہے کہ مخلص بندہ شہرت کا طالب نہیں ہوتا بلکہ رضاے الٰہی اس کا واحد مقصد ہوتا ہے۔ جب دل اخلاص سے لبریز ہو جائے تو عمل میں سچائی، عبادت میں لذت اور کردار میں استقامت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسی زندگی دوسروں کے لیے نمونہ اور اہلِ بصیرت کے لیے باعثِ رشک بن جاتی ہے، کیونکہ اخلاص ہی وہ جوہر ہے جو انسان کو اللہ کے قریب اور عمل کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیتا ہے۔


الله تعالٰی انسان کے ظاہر کو نہیں بلکہ اس کے دل کو دیکھتا ہے دل کی پاکیزگی اور نیت کی سچائی کو ہی اخلاص کہا جاتا ہے اخلاص کے بغیر عبادات محض رسم بن کر رہ جاتی ہیں اس لیے ہر مسلمان کو اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اخلاص کی تعریف: کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الہی حاصل کرنے کا ارادہ کرنا اخلاص کہلاتا ہے۔

اسلام میں اعمال کی اصل بنیاد اخلاص ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول و فعل میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو پیشِ نظر رکھے، نہ کہ لوگوں کی تعریف، شہرت یا دنیاوی فائدہ۔ اگر عمل بظاہر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، لیکن اس میں اخلاص نہ ہو تو وہ اللہ کے نزدیک بے وزن ہو جاتا ہے۔ قرآن و حدیث میں اخلاص کو دین کی روح قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے متعدد احادیث میں اخلاص کی اہمیت کو واضح فرمایا ہے۔

(1) نیت کی بنیاد پر اعمال کا دار و مدار:حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔"(بخاری: 1، مسلم: 1907)یہ حدیث اس بات کی اصل بنیاد ہے کہ عمل کی قبولیت اخلاص پر منحصر ہے۔

(2) اللہ صرف خالص عمل قبول کرتا ہے:حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ اس عمل کو قبول نہیں کرتا جو صرف اسی کی رضا کے لیے نہ کیا گیا ہو۔"(سنن نسائی: 3140)اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ریاکاری والا عمل اللہ کے ہاں مردود ہے۔

(3) ریاکاری سے خبردار فرمایا گیا:حضرت محمود بن لبیدسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ چھوٹا شرک ہے۔" صحابہ نے پوچھا: چھوٹا شرک کیا ہے؟ فرمایا: "ریاکاری"۔(مسند احمد: 23630)ریاکاری اخلاص کے بالکل خلاف ہے اور ایمان کے لیے خطرناک ہے۔

(4) نیت کی وجہ سے اجر مل جاتا ہے:حضرت ابو کبشہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص نیکی کا ارادہ کرے لیکن کر نہ سکے، اللہ اسے مکمل اجر عطا فرماتا ہے۔(ترمذی: 2325)

اخلاص کے ساتھ نیت کرنا بھی اللہ کے ہاں قیمتی ہے۔

(5) اللہ دلوں کو دیکھتا ہے:حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تمہاری صورتوں اور مال کو نہیں بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔"(مسلم: 2564)

اصل چیز دل کی صفائی اور نیت کا خالص ہونا ہے۔

اخلاص وہ عظیم صفت ہے جو معمولی عمل کو بھی عظیم بنا دیتی ہے، اور اس کے بغیر بڑے سے بڑا عمل بھی بے کار ہو جاتا ہے۔ ایک مومن کی زندگی کا مقصد صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ اگر ہم نماز، روزہ، صدقہ، خدمتِ خلق اور دیگر اعمال میں اخلاص پیدا کر لیں تو ہماری زندگی سنور سکتی ہے اور آخرت میں کامیابی یقینی ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہر عمل میں اخلاص نصیب فرمائے، آمین۔


اخلاص (نیت کی پاکیزگی) دینِ اسلام کی بنیاد اور ہر عمل کی روح ہے۔ بندہ اگر سچے دل سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نیک عمل کرے، تو وہ عمل قبول ہوتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا ہو۔ اگر عمل ریاکاری، دکھاوے یا دنیاوی مقاصد کے لیے ہو، تو وہ اللہ کی بارگاہ میں مردود ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے فرامینِ مبارکہ میں بارہا اخلاص کی ضرورت و اہمیت کو بیان فرمایا ہے۔

(1)حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسول الله ﷺنے فرمایا: إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوىترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔(صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی، حدیث: 1، صفحہ: 3)

(2)نبی کریم ﷺ نے فرمایا:إن الله لا ينظر إلى صوركم ولا إلى أجسامكم، ولكن ينظر إلى قلوبكم وأعمالكم

ترجمہ :اللہ نہ تمہاری شکلوں کو دیکھتا ہے نہ جسموں کو، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔( صحیح مسلم، کتاب البر و الصلۃ، حدیث: 2564، صفحہ: 1176)

(3)نبی ﷺ نے فرمایا: مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللهُ بِهِ، وَمَنْ رَاءَى رَاءَى اللهُ بِهِ ترجمہ:جو دکھاوے کے لیے عمل کرے گا، اللہ اسے قیامت کے دن رسوا کرے گا۔( صحیح مسلم، کتاب الزہد والرقائق، حدیث: 2986، صفحہ: 1284)

(4) آپ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ صرف اسی عمل کو قبول کرتا ہے جو صرف اسی کے لیے کیا جائے اور جس میں اس کی رضا مطلوب ہو ۔( سنن نسائی، کتاب الجهاد، حدیث: 3140، صفحہ: 728)

خلاصہ یہ ہے کہ اخلاص ہر نیکی کی اصل بنیاد ہے۔ اگر نیت خالص ہو تو چھوٹا عمل بھی اللہ کے ہاں بڑا درجہ پاتا ہے، اور اگر نیت میں ریاکاری ہو تو بڑا عمل بھی ناقبول ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات ہمیں یہی درس دیتی ہیں کہ ہر کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے دل کو صاف رکھیں اور اعمال کو صرف اللہ کے لیے انجام دیں تاکہ وہ قبول ہوں اور آخرت میں نجات کا سبب بنیں۔


کسی بھی عمل کو صرف اللہ جل کی رضا کے لیے کرنا اس میں ریاکاری دکھلاوا یا کوئی دنیاوی غرض نہ ہو اسے اخلاص کہتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کی دعا غیب لوگوں کے حق میں بھی قبول کی جاتی ہے سے اب ہم اخلاص کے متعلق فرامین مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا مطالعہ کرتے ہیں

(1)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سےروایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دنیا سے اس حالت میں رخصت ہوا ہو اور وہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کے ایک ہونے پر ایمان رکھتا ہو کہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے وہ نماز قائم کرتا ہو وہ زکوۃ ادا کرتا ہو اور وہ دنیا سے الگ رہتا ہو تو اللہ تعالی اس سے راضی ہو جاتا ہے (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الایمان صفحہ نمبر 31)

(2)ابو فرانس سے روایت ہے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ایمان کیا ہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخلاص (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الایمان صفحہ نمبر 31)

(3)حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخلاص والے لوگوں کے لیے خوشخبری ہے کیونکہ وہ لوگ روشد و ہدایت کے چراغ ہیں جن کے سبب ہر فتنے کی تاریخی کا خاتمہ ہو جائے گا ۔(الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الایمان صفحہ نمبر 32)

(4)حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے والد گرامی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کیا ایک دفعہ انہوں نے یہ خیال کیا کہ وہ ان لوگوں پر فضیلت رکھتے ہیں جو کم درجے کے ہیں تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالی اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں نمازوں اور اخلاص کے سبب فرمائے گا (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الایمان صفحہ نمبر 33)

(5)حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا جانے لگا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کوئی ہدایت ارشاد فرمائے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے دین کو خالص کر لو تو عمل قلیل بھی تمہیں کفایت کرے گا (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الایمان صفحہ نمبر 32)اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تو جلد ہمیں اخلاص کے ساتھ نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے تمام اعمال میں اخلاص عطا فرمائے امین ثم امین۔


اسلام میں اخلاص کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر نیک عمل صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے، نہ کہ لوگوں کو دکھانے، تعریف حاصل کرنے یا دنیاوی فائدے کے لیے۔ شریعتِ اسلامیہ میں اعمال کی قبولیت کا دار و مدار اخلاص پر رکھا گیا ہے، اسی لیے نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے نیت اور اخلاص کی اصلاح پر زور دیا۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:"اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔"(صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی، حدیث نمبر 1،صحیح مسلم، حدیث نمبر 1907)

یہ حدیث اخلاص کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اگر عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، جب تک نیت خالص نہ ہو وہ اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں۔ نماز، روزہ، صدقہ، حج سب کی بنیاد نیت اور اخلاص ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"سب سے پہلے جن لوگوں کا قیامت کے دن فیصلہ کیا جائے گا ان میں ایک وہ شخص ہوگا جس نے علم حاصل کیا اور قرآن پڑھا، لیکن یہ سب اس لیے کیا کہ لوگ اسے عالم کہیں چنانچہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔"(صحیح مسلم، کتاب الامارہ، حدیث نمبر 1905)

یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ بغیر اخلاص کے دینی خدمات بھی انسان کو نجات نہیں دلا سکتیں۔ اگر مقصد اللہ کی رضا کے بجائے شہرت ہو تو عمل وبال بن جاتا ہے۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود ہو۔"(سنن نسائی، کتاب الجہاد، حدیث نمبر 3140)

یہ روایت اس بات کو بالکل واضح کر دیتی ہے کہ اخلاص قبولیت کی شرط ہے، اختیار نہیں۔

ایک اور ایمان افروز حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"بندہ کبھی اللہ کی رضا کے لیے کوئی ایسا چھوٹا سا عمل کر لیتا ہے جسے وہ معمولی سمجھتا ہے، مگر اللہ اس کے ذریعے اسے بلند درجات عطا فرما دیتا ہے۔"(صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث نمبر 6478)

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا چھوٹا عمل بھی اللہ کے نزدیک بڑا بن جاتا ہے، جبکہ ریاکاری کے ساتھ کیا گیا بڑا عمل بے وزن ہو جاتا ہے۔

اسی مضمون کی تائید میں نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: جو شہرت طلب کرے گا( قیامت کے دن) اس کے عیبوں کی تشہیر ہو گی اورجو شخص لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ دے گا۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث نمبر 6499،صحیح مسلم، حدیث نمبر 2986)

ان تمام احادیث سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ اخلاص دین کی روح ہے۔ اعمال کی کثرت نجات کی ضمانت نہیں بلکہ دل کی سچائی اور نیت کی پاکیزگی اصل معیار ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اعمال کے ساتھ ساتھ اپنی نیت کا بھی محاسبہ کرے، کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت صرف ایک ظاہری عمل بن کر رہ جاتا ہے، جبکہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا معمولی عمل بھی اللہ کی رضا اور نجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔اللہ پاک ہمیں اخلاص کی دولت سے مالامال فرمائے آمین یارب العالمین۔


اخلاص اسلام کی روح ہے۔ بغیر اخلاص کے نہ عبادت کا وزن ہے اور نہ عمل کی قبولیت۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر عمل صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے، نہ کہ لوگوں کو دکھانے، تعریف حاصل کرنے یا دنیاوی فائدے کے لیے۔ قرآن و حدیث میں اخلاص کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے، اور نبی کریم ﷺ نے بار بار اس کی تاکید فرمائی۔

(1) نیت اور اخلاص:إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَىترجمہ:اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔(صحیح البخاری: حدیث 1،صحیح مسلم: حدیث 1907)

یہ حدیث اخلاص کی بنیاد ہے۔ اگر نیت خالص نہ ہو تو بڑا عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے، اور اگر نیت خالص ہو تو چھوٹا عمل بھی اللہ کے ہاں عظیم بن جاتا ہے۔

(2)اللہ صرف خالص عمل قبول فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ ترجمہ:اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول فرماتا ہے جو خالص ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود ہو۔(سنن نسائی:

حدیث 3140،مسند احمد: حدیث 20659)

یہ حدیث واضح کر دیتی ہے کہ ریاکاری یا دکھاوے والا عمل اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں، چاہے وہ بظاہر کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو۔

(3) قیامت کے دن سب سے پہلے ریاکاروں کا انجام:إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِمْ

ترجمہ:قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کا فیصلہ ہوگا ان میں وہ بھی ہوں گے جنہوں نے علم، جہاد اور صدقہ اس لیے کیا کہ لوگ تعریف کریں۔(صحیح مسلم: حدیث 1905)

یہ حدیث ریاکاری کے خطرناک انجام کو بیان کرتی ہے اور اخلاص کی اہمیت کو مزید واضح کرتی ہے کہ بغیر اخلاص کے بڑے بڑے اعمال بھی ہلاکت کا سبب بن سکتے ہیں۔

(4) اخلاص نجات کا ذریعہ:مَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا دَخَلَ الْجَنَّةَ۔ ترجمہ: جس نے اخلاص کے ساتھ لا إله إلا الله کہا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(مسند احمد: حدیث 14636،المعجم الأوسط للطبرانی)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ صرف کلمہ کہنا کافی نہیں بلکہ اس میں اخلاص ہونا ضروری ہے، تبھی نجات حاصل ہوگی۔

اخلاص وہ صفت ہے جو عمل کو زندہ کرتی ہے۔ بغیر اخلاص کے عبادت ایک رسم بن جاتی ہے اور اخلاص کے ساتھ معمولی عمل بھی اللہ کے ہاں عظیم ہو جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ہر عمل، عبادت، خدمت اور دعوت میں نیت کو خالص کریں اور صرف اللہ کی رضا کو مقصد بنائیں، کیونکہ اخلاص ہی قبولیت کی کنجی اور نجات کا راستہ ہے۔