اللہ تعالیٰ نے جب انسان کی تخلیق فرمائی تو اسکو بہت
ساری صفات سے متصف کیا ان میں اچھی صفات بھی ہیں اور بری بھی ہیں۔ تو آج ہم بات
کرتے ہیں اچھی صفات میں سے ایک صفت اخلاص کی۔
اخلاص اسلامی
تعلیمات کی روح اور تمام اعمال کی بنیاد ہے۔ اخلاص سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے ہر
قول و فعل میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو پیشِ نظر رکھے اور کسی قسم کی ریاکاری یا
نمود و نمائش سے اجتناب کرے۔ اسلام میں اعمال کی قبولیت کا انحصار ان کی ظاہری شکل
پر نہیں بلکہ نیت کی پاکیزگی پر ہے۔ ایک مخلص انسان نہ صرف اپنی ذات کی اصلاح کرتا
ہے بلکہ اپنے کردار کے ذریعے معاشرے میں بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس مقالے میں
اخلاص کے مفہوم اور اس کی اہمیت پر چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
(1) حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ
عالیشان ہے : ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ
نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا
پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف
اس نے ہجرت کی۔ ‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال…الخ،الحدیث:
۵۴،ص۷)
(2)شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین ﷺ کا
فرمانِ عالیشان ہے : ’’ سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ ‘‘ (جامع الاحادیث،قسم
الاقوال،الحدیث: ۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)
(3) سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ مومن کی نیت اس کے
عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت
کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے
۔ ‘‘ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲ ،ج۶،ص۱۸۵)
(4)نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر ﷺ کا فرمانِ عالیشان
ہے : ’’ اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ، تھوڑا عمل بھی تمہارے لئے کافی ہوگا۔ ‘‘
(المستدرک ،کتاب الرقاق ، الحدیث ۷۹۱۴،
ج۵، ص۴۳۵)
(5) دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر ﷺ کا فرمانِ
عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی عمل قبول فرماتا ہے جواس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا جاتا
ہے۔ ‘‘ (سنن الدارقطنی،کتاب الطہارت، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)
ان احادیث سے ہمیں یہی درس ملتا ہے کہ ہم مسلمان ہونے کی
حیثیت سے اپنے اعمال کے موتیوں کو اخلاص کی لڑی کے ساتھ آراستہ کریں اور ریاکاری
اور دکھاوے سے خود کو اور اعمال کو محفوظ رکھیں۔
اللہ پاک ہم سب کو اخلاص کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ
النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
Dawateislami