اخلاص کی تعریف:اخلاص یہ ہے کہ خود اخلاص پر نظر نہ رہے کیونکہ جو شخص اپنے اخلاص میں اخلاص کو دیکھتا ہے تو اس کا اخلاص، اخلاص کا محتاج ہوتا ہے۔ (لباب الاحیاء ، فصل في الاخلاص، ص ۳۲۸)

اللہ عَزَّ وَ جَل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ ( البینہ: ۵)

اس آیت مبارکہ میں اخلاص کے ساتھ شرک و نفاق سے دور رہ کر اللہ عَزَّ وَجل کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع ( پیروکار ) ہو کر نماز قائم نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے کا حکم علم دیا گیا ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، صفحہ ۲۶)

اخلاص کی تعریف:دو کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا ارادہ کر نا خلاص کہلاتا ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، صفحہ ۲۵)

عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَ إِنَّمَا لِإِمْرِي مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِمْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ۔

روایت ہے عمر ابن خطاب (راضی ہو اللہ ان پر ) سے لے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے : کہ اعمال نیتوں سے ہیں ہر شخص کے لئے وہ ہی ہے جو نیت کرے سے بس جس کی ہجرت اللہ ورسول کی طرف ہو تو اُس کی ہجرت اللہ ورسول ہی کی طرف ہو گی ۴ اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہو اس کی ہجرت اس طرف ہو گی جس کے لئے کی ۔(مرآةالمناجیح شرح مشکوٰةالمصابیح جلد1)

اخلاص کے ساتھ تھوڑاعمل بھی کافی:حضور نبی کریم عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلوةِ وَالتَّسْلِين حضرت معاذ بن جبل رَضِيَ اللهُ تعالى عنہ سے فرمایا: ”اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، صفحہ ۲۶)

رسول کریم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ نے حضرت معاذ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عنه کو جب یمن بھیجا تو فرمایا: اخلص دينك يكفك العمل القليل.کہ اپنے دین میں اخلاص کر تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔(المستدرك على الصحيحين، كتاب الرقاق الحديث : ۷۹۱۴ ، ج ۵، ص ۴۳۵)

اخلاص كا حكم: کسی عمل میں فقط اخلاص ہونے یا اس کے ساتھ کسی اور غرض کی آمیزش ہونے کے اعتبار سے اعمال کی تین صورتیں ہیں :

(1) جس عمل سے مقصود صرف ریا کاری ہو اس کا قطعی طور پر گناہ ہو گا اور وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی اور عذاب کا سبب ہے۔ (۲) جو عمل خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہو گا تو وہ رضائے الہی اور اجر و ثواب کا سبب ہے۔ (۳) جو عمل خالصتا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے نہ ہو بلکہ اس میں ریا کاری اور نفسانی اغراض کی آمیزش ہو تو قوت کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں : اگر رضائے الٰہی اور دوسری غرض دونوں قوت میں برابر ہوں تو دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہو کر ساقط ہو جائیں گی اور اس عمل کا نہ تو ثواب ہو گا نہ ہی عذاب اور اگر ریا کی قوت زیادہ ہو تو یہ عمل کچھ نفع نہ دے گا بلکہ الٹا نقصان اور عذاب کو لازم کرے گا، البتہ اس میں رضائے الہی کا جتنا عنصر ہو گا اتنا عذاب میں کمی ہو جائے گی اور اس عمل کا عذاب اُس عمل کے عذاب سے ہلکا ہو گا جو خالص ریاکاری کے ساتھ ہو اور جس میں رضائے الٰہی بالکل نہ ہو اور اگر رضائے الہی کا عنصر غالب ہو تو یہ جس قدر قوی ہو گا اُسی قدر ثواب زیادہ ہو گا اور جتنا ریا ہو گا اتنا ثواب کم ہو جائے گا۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، صفحہ ۲۷، ۲۶)

اخلاص پیدا کرنے کے کچھ طریقے:

(1)اپنی نیت درست کیجیے : کہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے ، جب تک نیت خالص نہ ہو گی عمل میں اخلاص پیدا نہیں ہو گا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اخلاص ہے۔

(2)دنیوی اغراض کو دور کیجئے : ایسی دُنیوی اغراض جن سے مقصود آخرت کی تیاری و معاونت نہ ہوا گر ہر عمل سے اُن کو دُور کر دیا جائے اور صرف رضائے الہی پیش نظر ہو تو اعمال میں ریا کاری یعنی دکھاوے کے امکانات کا فی کم ہو جاتے ہیں۔

البتہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں کا عسرت و تنگی کے ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ تعالیٰ انہیں قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادت الٰہی بجالا سکیں اور درس و تدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اس طرح کا ارادہ نیک ارادہ ہے دنیا کا ارادہ نہیں۔

(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے: کیونکہ اعمال وہی قبول ہوں گے جو ریا کاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیسے ہوں گے اور اعمال کو ریا کاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے که بندہ خود کو ہر وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتار ہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب ہو گا اتنا ہی عمل میں ریا کاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہو گی۔

(4)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے : کہ اخلاص میں بہت بڑی رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پر چند تعریفی کلمات سن کر نفس بے حد سکون محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریا کاری پر ابھارتا ہے جو اخلاص کی دشمن ہے اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔ لہٰذا نفسانی خواہشات پر قابو پائے اور اعمال میں اخلاص حاصل کیجئے۔

اس سے ہمیں یہ معلوم ہواکہ ہمیں ہر کسی سےاچھا سلوک رکھنا چاہیے اگرچہ دشمن ہو یا دوست اگرچہ وہ ہم سے سلوک نہ کرے پھر بھی ہمیں اچھا سلوک کرنا چاہیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے دشمنوں سے بھی اچھا سلوک کرتے تھے۔