اخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔

(احیاءالعلوم،بیان حقیقۃ الاخلاص، ۵ / ۱۰۷)

معلوم ہوا کہ اخلاص یہ ہے کہ بندہ اپنے قول و فعل، عبادت و خدمت اور ہر نیکی میں صرف اللہ کریم کی رضا مقصود رکھے، نہ تعریف کی خواہش ہو اور نہ دنیاوی مفاد کی طلب۔

قرآن پاک میں مخلص مومن کی مثال :وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِۚ-فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۲۶۵) ترجمۂ کنزالایمان : اور ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے دل جمانے کو اس با غ کی سی ہے جو بھوڑ(ریتلی زمین)پر ہو اس پر زور کا پانی پڑا تو دونے میوے لایا پھر اگر زور کا مینھ اسے نہ پہنچے تو اوس کافی ہے اور اللہ تمہارے کا م دیکھ رہا ہے۔( پ ۳ ، البقرۃ: ۲۶۵)

خَزائنُ العرفان میں ہے: یہ مومن مخلص کے اعمال کی ایک مثال ہے کہ جس طرح بلند خطہ کی بہتر زمین کاباغ ہر حال میں خوب پھلتا ہے خواہ بارش کم ہو یا زیادہ! ایسے ہی با اخلاص مومن کا صدقہ اور انفاق خواہ کم ہو یا زیادہ اللہ کریم اس کو بڑھاتا ہے اور وہ تمہاری نیت اور اخلاص کو جانتاہے ۔(خزائن العرفان،ص۸۱)

نبی کریم ﷺ کے 3 فرامین سے اخلاص کی اہمیت کو سمجھئے:

(1)اخلاص کے ساتھ عمل کرو:نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے :اے لوگو! اللہ کریم کے لئے اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہ اللہ عزوجل وہی اعمال قبول فرماتاہے جو اس کے لئے اخلاص کے ساتھ کئے جاتے ہیں اوریہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہ کریم اور رشتہ داری کی وجہ سے کیا ہے۔( سنن الدارقطنی، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰)

(2)امّت تین گروہ میں بٹ جائے گی:حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جب آخری زمانہ آئے گا تو میری امّت تین گروہ میں بٹ جائے گی ۔ایک گروہ خالصًا اللہ کریم کی عبادت کرے،دوسرا گروہ دکھاوے کے لیے اللہ کریم کی عبادت کرے گا اورتیسرا گروہ اس لیے عبادت کرے گا کہ وہ لوگوں کا مال ہڑپ کرجائے ۔جب اللہ کریم بروزِ قیامت ان کو اٹھائے گا تو لوگو ں کامال کھاجانے والے سے فرمائے گا :میری عزت اورمیرے جلال کی قسم ! میری عبادت سے تیرا کیاارادہ تھا ؟‘‘ عرض کرے گا : ’’تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم! لوگوں کو دکھانا۔‘‘ اللہ کریم فرما ئے گا : ’’اس کی کوئی نیکی میری بارگاہ میں مقبول نہیں، اسے دوزخ میں ڈال دو۔‘‘ پھر خالصًا اپنی عبادت کرنے والے سے فرمائے گا: ’’میری عزّت اور میرے جلال کی قسم ! میری عبادت سے تیرا کیا مقصود تھا؟‘‘ وہ عرض کرے گا:’’ تیری عزت و جلال کی قسم !میرے اِرادے کو تو بہتر جانتا ہے ، میں نے تیری رضا چاہی۔‘‘ارشاد فرمائے گا :’’میرے بندے نے سچ کہا،اسے جنت کی طر ف لے جاؤ ۔‘‘( المعجم الاوسط ،رقم الحدیث ، ۵۱۰۵ )

(3)دِلی استغناء اور لوگوں کی محتاجی:حضرت سیِّدُنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس کی نیت آخرت کمانا ہو تو اللہ کریم اس کی غنا اس کے دل میں ڈال دے گا اور اس کی متفرقات کو جمع کردے گا اور اس کے پاس دنیا ذلیل ہو کر آئے گی اور جس کی نیت دنیا طلبی ہو تو اللہ کریم فقیری اس کی آنکھوں کے سامنے کردے گا اور اس پر اس کے کام پراگندہ کردے گا اور اس کے پاس آئے گی اتنی جتنی اس کے لیے لکھی گئی ۔( مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،الحدیث، ۵۳۲۰ )

ہمارے اسلاف کے اخلاص پر مبنی دو انمول واقعات ملاحظہ فرمائیں :

(1)بعدِ وصال سخاوت کا پتا چلا:حضرت سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زندگی میں دو مرتبہ اپنا سارا مال راہِ خدا عزوجل میں خیرات کیا اور آپ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ آپ بہت سے غرباء اہل مدینہ کے گھروں میں ایسے پوشیدہ طریقوں سے رقم بھیجا کرتے تھے کہ ان غرباء کو خبر ہی نہیں ہوتی تھی کہ یہ رقم کہاں سے آتی ہے؟مگر جب آپ کا وصال ہو گیاتو ان غریبوں کو پتا چلاکہ یہ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سخاوت تھی۔( سیر اعلام النبلاء،ج ۵ ،ص ۳۳۶ ، ۳۳۷ )

(2)مسلسل چالیس سال تک روزے:حضرتِ سَیِّدُنا داوٗد طائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسلسل چالیس سال تک روزے رکھتے رہے مگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اِخلاص کا یہ عالَم تھاکہ اپنے گھر والوں تک کو خبر نہ ہونے دی۔ کام پر جاتے ہوئے دوپہر کا کھانا ساتھ لے لیتے اور راستے میں کسی کو دے دیتے،مغرِب کے بعد گھر آکر کھانا کھا لیا کرتے۔( فیضان سنّت،ج ۱ ،ص ۱۴۴۵ بحوالہ مَعْدِنِ اَخلاق حصّہ اول ص ۱۸۲)

اولیائے کرام کی زندگیاں ہمیں یہی سبق دیتی ہیں کہ اصل کامیابی تعریف، شہرت یا اثر میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ عمل رب کریم کے لیے ہو اور رب کریم ہی کے لیے چھپا رہے۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم نیکیاں چھوڑنے کے بجائے اپنی نیتوں کو سنواریں، دل کو اخلاص کے صابن سے دھوئیں اور ہر عبادت کے بعد قبولیت کی بھیک مانگیں کہ یااللہ عزوجل اپنے محبوب ﷺ کا واسطہ ہماری خالی جھولیوں کو دولتِ اخلاص سے بھر دے۔

میرا ہر عمل بس تیرے واسطے ہو کر اِخلاص ایسا عطا یا الہی عزوجل