اخلاص کی تعریف :کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ ۳۰، البینہ: ۵)

اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:‏عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ امْرِءٍ مَّانَویٰ فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ فَہِجْرتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ لِدُنْیَایُصِیْبُہَااَوْاِمْرَاَۃیَنْکِحُہَافَہِجْرَتُہٗ اِلٰی مَاہَاجَرَ اِلَیْہِ۔

ترجمہ :اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مَدِینَۂِ مُنَوَّرَہ،سردارِمَکَّۂِ مُکَرَّمَہ ص ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا:’’اعمال نِیَّت ہی پرہیں ،ہرشخص کیلئے وہی ہے جواُس نے نِیَّت کی،جس کی ہجرت اللہ اور رَسول کی طرف ہوتواس کی ہجرت اللہ اوررسول ہی کی طرف ہے اورجس کی ہجرت حُصُولِ دنیایاکسی عورت کے لئے ہوجس سے وہ نکاح کرناچاہے تواس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔‘‘( بخا ری،کتاب بدء ا لوحی ،۱/۳۴، حدیث۵۴)

خالص عمل ہی قُبول ہوگا: تاجدارِ مَدِیْنَۂ مُنَوَّرَہ،سُلطَا نِ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا :بروزِقیامت کچھ مُہربند صحیفےاللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں نَصْب(پیش)کئے جائیں گے تواللہ عزَّوَجَلَّ فرشتوں سے فرمائے گا:یہ چھوڑدواوریہ قبول کرلو۔ فرشتے عرض کریں گے : یاربّ عزَّوَجَلَّ!تیری عزت کی قسم!ہم تواس میں خیرہی دیکھتے ہیں ،اللہ عزَّوَجَلَّ جوسب سے زیادہ جاننے والاہے ارشادفرمائے گا:یہ اعمال میرے غیرکیلئے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں گاجومیری رِضاکے لئے کئے گئے تھے۔ (دار قطنی،کتاب الطہارۃ، باب النیۃ، ۱/۷۳، حدیث:۱۲۹)

اِخلاص پیدا کرنے کے(5)طریقے:

(1)اپنی نیت درست کیجیے :‏کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اِخلاص ہے۔ بعض اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام فرماتے ہیں:’’اپنے اَعمال میں نیت کو خالص کرلو، تمہیں تھوڑا عمل بھی کفایت کرے گا۔‘‘لہٰذا خود کو اچھی اچھی نیتوں کا عادی بنائیے ۔

(2)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے:‏ایسی دُنیوی اَغراض جن سے مقصود آخرت کی تیاری ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر عمل سے اُن کو دُور کردیا جائے اور صرف رِضائے اِلٰہی پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی دِکھاوے کے اِمکانات کا فی کم ہوجاتے ہیں۔البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کا عسرت وتنگی کے ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ تَعَالٰی انہیں قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادتِ الٰہی بجالاسکیں اور درس وتدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اِس طرح کا اِرادہ نیک اِرادہ ہے دنیا کا اِرادہ نہیں۔

(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے:‏کیونکہ اَعمال وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیے ہوں گے اور اعمال کو ریاکاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے کہ بندہ خود کو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب ہوگا اتنا ہی عمل میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہوگی۔

(4)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے:کہ اِخلاص میں بہت بڑی رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پرچند تعریفی کلمات سن کر نفس بے حد سکون محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریاکاری پر اُبھارتا ہے جو اِخلاص کی دشمن ہے اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔لہٰذا نفسانی خواہشات پر قابو پائیے اور اَعمال میں اِخلاص حاصل کیجئے۔

(5)اپنے گناہوں کو یاد رکھیے:‏عموماً لوگ اپنی نیکیوں کو یاد رکھتے اور گناہوں کو بھول جاتے ہیں جس سے وہ ریاکاری اور خود پسندی جیسی موذی بیمار ی میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو اِخلاص کی سخت دشمن ہیں، لہٰذا اپنے گناہوں کو یاد رکھیے، نفس کو اُن پر ملامت کرتے رہیے کہ تو فلاں فلاں گناہوں کا مجموعہ ہے پھر کسی نیک عمل پر اِترانے کا کیا معنی؟ یوں کافی حد تک اسے تکبر وریاکاری سے دور رکھنے میں معاونت ملے گی اور اعمال میں اخلاص پیدا کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔