کسی بھی عمل کو صرف اللہ جل کی رضا کے لیے کرنا اس میں ریاکاری دکھلاوا یا کوئی دنیاوی غرض نہ ہو اسے اخلاص کہتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کی دعا غیب لوگوں کے حق میں بھی قبول کی جاتی ہے سے اب ہم اخلاص کے متعلق فرامین مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا مطالعہ کرتے ہیں

(1)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سےروایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دنیا سے اس حالت میں رخصت ہوا ہو اور وہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کے ایک ہونے پر ایمان رکھتا ہو کہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے وہ نماز قائم کرتا ہو وہ زکوۃ ادا کرتا ہو اور وہ دنیا سے الگ رہتا ہو تو اللہ تعالی اس سے راضی ہو جاتا ہے (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الایمان صفحہ نمبر 31)

(2)ابو فرانس سے روایت ہے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ایمان کیا ہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخلاص (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الایمان صفحہ نمبر 31)

(3)حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخلاص والے لوگوں کے لیے خوشخبری ہے کیونکہ وہ لوگ روشد و ہدایت کے چراغ ہیں جن کے سبب ہر فتنے کی تاریخی کا خاتمہ ہو جائے گا ۔(الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الایمان صفحہ نمبر 32)

(4)حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے والد گرامی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کیا ایک دفعہ انہوں نے یہ خیال کیا کہ وہ ان لوگوں پر فضیلت رکھتے ہیں جو کم درجے کے ہیں تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالی اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں نمازوں اور اخلاص کے سبب فرمائے گا (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الایمان صفحہ نمبر 33)

(5)حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا جانے لگا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کوئی ہدایت ارشاد فرمائے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے دین کو خالص کر لو تو عمل قلیل بھی تمہیں کفایت کرے گا (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الایمان صفحہ نمبر 32)اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تو جلد ہمیں اخلاص کے ساتھ نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے تمام اعمال میں اخلاص عطا فرمائے امین ثم امین۔