ابو
صَفی محمد علی(درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
اخلاص وہ باطنی کیفیت ہے جو عمل کو روح عطا کرتی اور
بندے کے عمل کو قبولیت کے آسمان تک پہنچا دیتی ہے۔ ظاہری طور پر نیک اعمال کی کثرت
اگر اخلاص سے خالی ہو تو وہ محض ایک صورت رہ جاتی ہے، جبکہ معمولی سا عمل اگر خالص
اللہ کے لیے ہو تو وہ وزن میں پہاڑ بن جاتا ہے۔ اسلام نے نیت کی اصلاح کو اعمال کی
بنیاد قرار دیا ہے، اسی لیے شریعتِ مطہرہ میں اخلاص کو ایمان کی جان اور عبادت کی
روح کہا گیا ہے۔ جو دل اخلاص سے روشن ہو جائے، اس کی عبادت، اخلاق اور معاملات سب
میں نورِ صدق نمایاں ہو جاتا ہے۔
اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے:رسولِ
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: إِنَّمَا
الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى
یعنی اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت
کی۔ (صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی، حدیث نمبر 1؛ صحیح مسلم، کتاب الإمارة، حدیث
نمبر 1907)۔
اس حدیثِ مبارکہ
سے واضح ہوتا ہے کہ عمل کی اصل قدر اس کی نیت میں پوشیدہ ہے، اور اخلاص کے بغیر
کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں وزن نہیں رکھتا۔
ریا اخلاص کو کھا جانے والی بیماری ہے:نبی
کریم ﷺ نے فرمایا: أَخْوَفُ مَا أَخَافُ
عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ صحابۂ کرام رضی الله عنهم نے
عرض کیا: یا رسول اللہ! شرکِ اصغر کیا ہے؟ فرمایا: الرِّيَاءُ یعنی مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ چھوٹا
شرک ہے۔ پوچھا گیا: چھوٹا شرک کیا ہے؟ فرمایا: ریا۔ (مسند احمد بن حنبل، مسند
محمود بن لبید، حدیث نمبر 23630)۔ اس فرمانِ نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ اخلاص کے
مقابلے میں ریا اتنی خطرناک ہے کہ اسے شرکِ اصغر قرار دیا گیا، جو اعمال کو برباد
کر دیتی ہے۔ عنوان کے مطابق نہیں
اخلاص اللہ کے لیے دین کو خالص کرنا ہے:حضور
ﷺ نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ
مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ
یعنی اللہ تعالیٰ کسی عمل کو قبول نہیں فرماتا مگر وہ جو خالص اسی کے لیے کیا گیا
ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود ہو۔ (سنن النسائی، کتاب الجهاد، حدیث نمبر 3140)
یہ حدیث اخلاص کا وہ میزان ہے جس پر ہر عمل کو تولنا چاہیے،
کیونکہ قبولیت کا دروازہ صرف اخلاص سے کھلتا ہے۔
اخلاص نجات کا ذریعہ ہے:رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ قَالَ لَا
إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا دَخَلَ الْجَنَّةَ یعنی
جس نے لا إله إلا الله
اخلاص کے ساتھ کہا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (مسند احمد بن حنبل، مسند معاذ بن جبل،
حدیث نمبر 22007)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اخلاص محض اعمال تک محدود نہیں
بلکہ ایمان کی بنیاد میں شامل ہے، اور یہی اخلاص بندے کو ابدی نجات تک پہنچاتا ہے۔
اخلاص دراصل بندے اور اس کے رب کے درمیان وہ راز ہے جسے
نہ فرشتے پوری طرح جان پاتے ہیں اور نہ مخلوق۔ یہی وجہ ہے کہ مخلص بندہ شہرت کا
طالب نہیں ہوتا بلکہ رضاے الٰہی اس کا واحد مقصد ہوتا ہے۔ جب دل اخلاص سے لبریز ہو
جائے تو عمل میں سچائی، عبادت میں لذت اور کردار میں استقامت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسی
زندگی دوسروں کے لیے نمونہ اور اہلِ بصیرت کے لیے باعثِ رشک بن جاتی ہے، کیونکہ
اخلاص ہی وہ جوہر ہے جو انسان کو اللہ کے قریب اور عمل کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیتا
ہے۔
Dawateislami