محمد
محسن عطاء(درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی، کراچی،پاکستان )
اخلاص کی تعریف :اخلاص یہ ہے کہ خود اخلاص پر نظر نہ رہے کیونکہ
جو شخص اپنے اخلاص میں اخلاص کو دیکھتا ہے تو اس کا اخلاص، اخلاص کا محتاج ہو تا
ہے۔ (لباب الاحیاء، فصل فی الاخلاص، ص ۳۲۸)
سلف صالحین کی عادت مبارکہ میں اخلاص تھا ۔ وہ ہرایک
عمل میں اخلاص کو مد نظر رکھتے تھے اور ریا کا شائبہ بھی ان کے دلوں میں پیدا نہیں
ہوتاتھا ۔ وہ جانتے تھے کہ کوئی عمل بجز اخلاص مقبول نہیں ۔ وہ لوگوں
میں زاہدعابد بننے کے لئے کوئی کام نہیں کرتے تھے ۔انہیں اس بات کی کچھ پرواہ نہ
ہوتی تھی کہ لوگ انہیں اچھا سمجھیں گے یا برا ۔ ان کا مقصودمحض رضائے حق
سبحانہ و تَعَالٰی ہوتاتھا ۔ ساری دنیا ان کی نظروں میں ہیچ تھی
وہ جانتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ عمل قلیل بھی کافی ہوتاہے، مگر اخلاص کے سوا رات دن
بھی عبادت کرتارہے تو کسی کام کی نہیں ۔
رسول کریم ص
ﷺ نے حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب یمن بھیجا
تو فرمایا: اخلص دینک یکفک العمل القلیل۔(المستدرک
علی الصحیحین، کتاب الرقاق، الحدیث:۷۹۱۴ ، ج۵، ص)
اخلاص کی اہمیت اور فضائل: جب ہم نے اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کے فضل، اس کی تائید، مدد واعانت اور توفیق سے اس
بدترین کبیرہ گناہ اور اس کے ان متعلقات کے بارے میں گفتگو مکمل کر لی جن کی مخلوق
کو حاجت پیش آتی ہے اور کتاب کے موضوع کے اعتبار سے اس پر تفصیلی کلام کر لیا
اگرچہ ریا کاری اور اس کے توابع کے بیان میں خصوصًا ’’ اِحْیَائُ
عُلُوْمِ الدِّیْن ‘‘ میں علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ
تَعَالٰی کے کلام کی بنسبت ہمارا کلام نہایت ہی مختصر ہے اب ہم اپنے کلا م کا اختتام
اخلاص کی مدح، مخلصین کے ثواب اور ان کے لئے اللہ عَزَّ
وَجَلَّ کی تیار کردہ نعمتوں پر دلالت کرنے والی چند احادیث مبارکہ پیش
کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ مخلوق کے لئے اخلاص کو اپنانے اور ریاکاری سے دوری اختیار
کرنے کا سبب بن سکے کیونکہ اشیاء کی کامل معرفت ان کی اضداد ہی سے حاصل ہوتی ہے۔
(1) حضور نبی
ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اعمال
کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی
ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی
اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ
عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح
کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ ‘‘
(صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان
الاعمال…الخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)
Dawateislami