اسلام دینِ نیت اور دل کی سچائی کا نام ہے۔ ظاہری اعمال
کی قبولیت کا دارومدار دل کی کیفیت، نیت کی درستگی اور عمل کے پیچھے چھپے اخلاص پر
ہوتا ہے۔ اگر کوئی عمل ظاہری طور پر کتنا ہی بڑا اور خوبصورت ہو، لیکن اس کے پیچھے
نیت خالص نہ ہو، تو وہ اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں۔
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں
اصل قیمت نیت اور اخلاص کی ہے، نہ کہ صرف ظاہری عمل کی۔ اس مضمون میں ہم اخلاص کی
اہمیت، فضیلت اور اس کی کمی کے نتائج پر روشنی ڈالیں گے۔
اخلاص کی اہمیت: جب ہم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل، اس
کی تائید، مدد واعانت اور توفیق سے اس بدترین کبیرہ گناہ اور اس کے ان متعلقات کے
بارے میں گفتگو مکمل کر لی جن کی مخلوق کو حاجت پیش آتی ہے اور کتاب کے موضوع کے
اعتبار سے اس پر تفصیلی کلام کر لیا اگرچہ ریا کاری اور اس کے توابع کے بیان میں
خصوصًا ’’ احیاء علوم الدین ‘‘ میں علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰی کے کلام کی
بنسبت ہمارا کلام نہایت ہی مختصر ہے اب ہم اپنے کلا م کا اختتام اخلاص کی مدح،
مخلصین کے ثواب اور ان کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تیار کردہ نعمتوں پر دلالت
کرنے والی چند آیات اور احادیث مبارکہ سے کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ مخلوق کے لئے
اخلاص کو اپنانے اور ریاکاری سے دو ری اختیار کرنے کا سبب بن سکے کیونکہ اشیاء کی
کامل معرفت ان کی اضداد ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵)ترجمۂ
کنز الایمان : اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہواکہ اللہ کی بند گی کریں نرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰ ۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (پ۰ ۳، البینہ: ۵)
نیکی کا ارادہ بھی باعثِ ثواب:عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ
وَالذِّكْرَ، مَالَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا
شَيْءَ لَهُ فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ
الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ ترجمہ:اور
حضرت ابوامامہ باہلی روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو
عرض کیا، آپ ہمیں اجر و شہرت کے لیے لڑنے والے کے متعلق بتائیں کہ اسے کیا ملے گا؟
تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اسے کچھ نہیں ملے گا۔ اس آدمی نے تین مرتبہ یہ بات
دہرائی، آپ ﷺ نے تینوں مرتبہ یہی ارشاد فرمایا کہ اسے کچھ نہیں ملے گا۔ پھر آپ نے
ارشاد فرمایا:اللہ صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو خالص ہو اور اسی کی رضا کے لیے کیا
گیا ہو۔(سنن النسائی، كتاب الجهاد، باب من غزا يلتمس الأجر والذكر، رقم : 3140)
اللہ کی رحمت اور بندے کی نیت:وحدثنا أبو هريرة عن محمد رسول الله ﷺ فذكر أحاديث منها قال: قال
رسول الله ﷺ: قال الله عز وجل: إذا تحدث : عبدى بأن يعمل حسنة فأنا أكتبها له حسنة
ما لم يعمل . فإذا عملها فأنا أكتبها بعشر أمثالها . وإذا تحدث بأن يعمل سيئة فأنا
أغفرها له ما لم يعملها فإذا عملها فأنا أكتبها له بمثلها . وقال رسول الله ﷺ:
قالت الملائكة: رب ذاك عبدك يريد أن يعمل سيئة وهو أبصر به فقال: ارقبوه فإن عملها
فاكتبوها له بمثلها ، وإن تركها فاكتبوها له حسنة ، إنما تركها من جرائي۔ترجمہ:اور
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
کہ جب میرا بندہ کسی نیکی کے کرنے کا ارادہ و نیت کرتا ہے تو میں اس کے عمل کرنے
سے پہلے ہی اس کی ایک نیکی لکھ لیتا ہوں اگر عمل کر لے تو میں دس گنا لکھ لیتا ہوں
اور جب کسی برائی کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو جب تک وہ برائی اس سے سرزد نہ ہو تو
میں اس کو معاف کرتا ہوں اگر وہ برائی کر لے تو میں اس کے بدلے ایک گناہ ہی لکھتا
ہوں اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:فرشتے کہتے ہیں اے رب! یہ بندہ برائی کا
ارادہ کرتا ہے، (حالانکہ وہ اس کے معاملہ کو زیادہ جانتا ہے) اللہ تعالیٰ فرماتا
ہے:اس کا انتظار کرو اور اس کو مہلت دو اگر یہ برائی کر لے تو ایک لکھنا اور اگر
اس برائی کو ترک کر دے اور اس سے باز آ جائے تو ایک نیکی لکھ لینا کیونکہ اس نے یہ
گناہ میری وجہ سے ترک کیا۔(صحیح مسلم، کتاب الإيمان، رقم : 244)اللہ تعالیٰ ہم سب
کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
محمد
اسداللہ عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی ،پاکستان)
اخلاص ایک قلبی کیفیت کا نام ہے جو کہ"ریا" کی
متضاد ہے۔ اسکا ایک معنی "عبادت بے ریا" بیان کیا گیا ہے ، یعنی بندہ ہر
نیک کام خالصتا (essentially) اللہ ہی کیلئے کرے ۔
اخلاص کی تعریف :’’کسی بھی نیک عمل میں
محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘(نجات دلانے والے
اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)
جس طرح علم کے بغیر عمل ممکن نہیں اسی طرح اخلاص کے بغیر
عمل بیکار اور فضول ہے۔ ان دونوں چیزوں میں سے کوئی ایک بھی فوت ہو جائے تو سمجھنا
چاہیے کہ ابھی بندے کا دین وایمان ناقص اور نامکمل ہے۔ ان امور کے باہمی امتزاج سے
ہی بندہ مومن کامل ہوتا ہے۔ مذہب اسلام میں اخلاص اور حسن نیت کی بڑی اہمیت ہے۔
اعمال کی در ستی اور افعال کی صحت کا دارومدار اخلاص اور حسن نیت پر ہے۔
احادیث کریمہ میں کثیر مقامات پر اخلاص کی اہمیت اور رِیا
کی مذمت ملتی ہے آئیے چند احادیث ملاحظہ کیجئے ۔
(1)حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر تھا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: خوشخبری ہے مخلصین کے لیے، وہ تاریکیوں میں ہدایت کے چراغ ہیں،
ان لوگوں کے ذریعے ہر تاریک فتنہ چھٹ جاتا ہے۔ (أخرجہ ابو نعيم فی الحلیۃ: 16/ 1
والبيہقی الشعب 5/343 والديلمی فی الفردوس 2/448)
(3)حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُعاذ بن
جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے
ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔‘‘(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
(4)شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ
پروردگار عَزَّ وَجَلَّ و ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی عمل
قبول فرماتاہے جو اخلاص کے ساتھ اور اس کی رضا کے لئے کیا جاتا ہے ‘ ‘ ۔ (سنن النسائی،کتاب الجہاد،الحدیث: ۳۱۴۲،ص۲۲۹۰)
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار ﷺ کا فرمانِ
عالیشان ہے : ’’ اے لوگو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی اعمال قبول فرماتاہے جو اس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیے جاتے
ہیں اور یہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور رشتہ داری کی وجہ
سے کیا ہے۔ ‘‘ (سنن الدارقطنی،کتاب الطہار ت ، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)
اللہ پاک اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے ہمیں اخلاص کی دولت
سے مالا مال فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
محمد
ابرار احمد (درجہ اولی جامعۃُ المدینہ فیضان
عثمان غنی کراچی ،پاکستان )
ہم اللہ پاک کے بندے ہیں اللہ پاک نے ہم پر عبادت کو
لازم کیا ، عبادت اور نیک اعمال کے قبول ہونے اور ان پر اجرو ثواب پانے کے لیے
اخلاص ایک نہایت ضروری چیز ہے ۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کسی بھی نیک عمل
میں محض رضائے الہی حاصل کرنے کا ارادہ کرنا اخلاص کہلاتا ہے ۔( احیاء العلوم ج
104/5 کتاب النیتہ و لاخلاص و الصدق الباب الثانی فی لاخلاص )
اخلاص کی حقیقت یہ
ہے کہ بندہ اللہ تعالٰی کی عبادت کے علاوہ ہر ایک کی عبادت سے بری ہو جائے۔ (مفردات
امام راغب کتاب الخاء ص293)
کثیر آیات و
احادیث میں اخلاص اپنانے کے فضائل بیان ہوئے ہیں چنانچہ اللہ پاک نے قرآن مجید میں
ارشاد فرمایا:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ کنز العرفان: اور ان
لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے
۔(البینہ:5)
ایک مقام پر
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاص کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا :اپنے دین میں
اخلاص رکھو تمہارا تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا۔(مستدرک، کتاب الرقاق، ۵ / ۴۳۵، الحدیث: ۷۹۱۴)
ایک مقام پر
ارشاد فرمایا : جس مسلمان میں تین اوصاف ہوں اس کے دل میں کھوٹ نہ ہوگا :
(1) اس کا عمل خالص اللہ پاک کے لیے ہو(2) وہ آئمہ مسلمین
کی خیر خواہی کرے (3)اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑلے۔(ترمذی کتاب العلم ما
جاء فی الحث علی تبلیغ السماع 299/4 الحدیث 2667)
جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاص کے حصول کے
فضائل بیان فرمائے وہیں ترک اخلاص کی مذمت بھی بیان فرمائی۔ چنانچہ فرمایا "
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے میں شریک سے بے نیاز ہوں جس نے کسی عمل میں میرے ساتھ
میرے غیر کو شریک کیا میں اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔(مسلم کتاب الزھد والرقائق
باب من اشرک فی عملہ غیر اللہ ص 1594 الحدیث 2985)
ان باتوں سے
معلوم ہوا کہ نماز و روزہ حج و زکوۃ جہاد الغرض کوئی بھی عبادت ہو اس کی قبولیت کا
دارو مدار اخلاص پر ہے بغیر اس کے کوئی بھی نیک عمل اللہ پاک کی بارگاہ میں مقبول
نہیں گویا عبادت کی کنجی اخلاص ہے۔
اخلاص دینِ اسلام کی روح اور ہر نیک عمل کی بنیاد ہے۔
انسان کے ظاہری اعمال خواہ کتنے ہی خوبصورت کیوں نہ ہوں، اگر ان میں خلوص نہ ہو تو
وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ قبول نہیں ہوتے۔ قرآنِ مجید نے بارہا اس حقیقت کو بیان
کیا کہ عبادت صرف اللہ کے لیے خالص ہونی چاہیے۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی
اخلاص کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعدد
مواقع پر فرمایا کہ عمل کی اصل قدر و قیمت نیت کے ساتھ وابستہ ہے۔ چنانچہ حدیثِ
پاک إنَّما الأعمالُ بالنِّيَّاتِ
یعنی اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 4927 )
اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک
عمل اس وقت قیمتی بنتا ہے جب اس کے پیچھے پاکیزہ نیت موجود ہو۔ اگر انسان نیک عمل
اس لیے کرے کہ لوگ اسے نیک کہیں، یا اس کی تعریف کریں، تو اس کے دل میں ریاکاری
داخل ہو جاتی ہے جو اخلاص کے خلاف ہے۔ عبادت کی قبولیت کا معیار محض ظاہری اداکاری
نہیں، بلکہ دل کا اخلاص ہے۔اخلاص کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے انسان کی شخصیت
میں پاکیزگی اور عمل میں استقامت پیدا ہوتی ہے۔ جو شخص اللہ کے لیے کام کرتا ہے وہ
مشکلات سے گھبراتا نہیں، لوگوں کی تعریف یا تنقید سے متاثر نہیں ہوتا۔ اس کے دل میں
صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے۔ عمل کا وزن اخلاص کے
ساتھ بڑھ جاتا ہے، چاہے وہ عمل بظاہر چھوٹا سا ہی کیوں نہ ہو۔
اخلاص انسان کی زندگی میں برکتیں بھی پیدا کرتا ہے۔
اخلاص انسان کی مشکلات آسان کرتا ہے، اس کے دل میں سکون پیدا کرتا ہے، اور اس کے
کاموں میں اللہ تعالیٰ خیر اور برکت عطا فرماتا ہے۔ اخلاص کا ایک ثمرہ یہ بھی ہے
کہ انسان کے عمل میں اخفا یعنی خاموشی پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنے نیک کام چھپ کر کرنے
کو پسند کرتا ہے تاکہ اس کا عمل خالص رہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم
اکثر نیک اعمال چھپ کر کیا کرتے تھے۔ یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ اخلاص
انسان کو تکبر سے بچاتا ہے۔ ریاکاری اور دکھاوا تکبر کی طرف لے جاتے ہیں جبکہ
اخلاص انسان کو عاجزی سکھاتا ہے۔ جب دل میں صرف اللہ کی رضا کا مقصد ہو تو انسان
خود کو کمزور اور محتاج سمجھتے ہوئے اس کے در پر جھک جاتا ہے۔ یہی کیفیت بندگی کی
اصل روح ہے۔ اخلاص ہر مسلمان کی زندگی کے لیے ناگزیر ہے۔ احادیثِ نبویہ ﷺ سے معلوم
ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں اصل قیمت نیت کی ہے، اور وہی اعمال معتبر ہیں جو اللہ کے لیے
کیے جائیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر نیک کام سے پہلے اپنی نیت کو درست کریں، اپنے دل کی
اصلاح کریں، ریاکاری سے بچیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائیں۔ اخلاص کے
ساتھ کیے گئے نیک اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اللہ
تعالیٰ ہمیں اخلاص کی دولت نصیب فرمائے۔ آمین۔
نعیم
اکرم (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ ،کراچی،پاکستان)
اِخلاص کی تعریف:’’کسی بھی نیک عمل میں
محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘ (نجات دلانے والے
اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (پ۳۰،
البینہ: ۵)
اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ
کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے
متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ (نجات
دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:حضورنبی
کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل
بھی تمہیں کافی ہے۔‘‘(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
اخلاص کو تمام عبادات اور نیک اعمال میں روح کی حیثیت
حاصل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے اخلاص کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ
الْخَالِصُترجمہ کنز الایمان: ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے۔
(الزمر:3)
حضرت سیدنا سہل تستری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
اخلاص یہ کہ بندے کا ٹھہرنا اور حرکت کرنا بھی خالصتاً اللہ رب العزت کیلئے ہو
جائے۔حضرت سیدنا ابو عثمان نیشاپوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اخلاص یہ ہے کہ
بندہ فقط خالق کی طرف ہمہ وقت متوجہ رہنے سے مخلوق کو دیکھنا بھولنا جائے۔حضرت سیدنا
جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اِخلاص اللہ اوراس کے بندے کے درمیان ایک
راز ہے، اسے فرشتہ نہ جانے کہ لکھ لے اور شیطان بھی نہ جانے کہ خرابی پیدا کرے اور
خواہش نفس کو بھی اس کا علم نہ ہو کہ اسے اپنی طرف مائل کرے۔( احیاء العلوم، ۵ / ۲۷۱ تا ۲۷۴ملتقطا، الرسالۃ القشیریۃ، باب
الاخلاص، ص۲۴۴)
محمد
رفیق عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے،
اور اس کی عبادت کی بنیاد اخلاص ہے۔ اخلاص کا مطلب ہے کہ ہر عمل خلوص نیت اور صرف
اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کے اعمال کو قبولیت کا درجہ
دلاتی ہے اور اسے دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔
نیَّت کی تعریف: نِیَّت دل کے پختہ
اِرادے کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی چیز کا ہو اور شریعت میں عبادت کے ارادے کونِیَّت
کہتے ہیں۔‘‘ (نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری، ۱
/ ۲۲۴)
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا
لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ
کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین
کو خالص کرتے ہوئے۔ (البینہ،آیت،5)
تاجدارِ مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:بروزِ قیامت کچھ مُہر
بند صحیفے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں نَصْب (پیش)کئے جائیں گے تو اللہ
عزَّوَجَلَّ فرشتوں سے فرمائے گا: یہ چھوڑ دو اوریہ قبول کرلو۔ فرشتے عرض کریں گے
: یاربّ عزَّوَجَلَّ! تیری عزت کی قسم!ہم تواس میں خیر ہی دیکھتے ہیں ،اللہ عزَّوَجَلَّ جوسب سے زیادہ جاننے والا ہے
ارشاد فرمائے گا:یہ اعمال میرے غیر کیلیے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں
گا جو میری رِضا کے لئے کئے گئے تھے۔ (دار قطنی،کتاب الطہارۃ، باب النیۃ، ۱/۷۳، حدیث: ۱۲۹ )
اللہ
عزَّوَجَلَّ کے مَحبوب،دانائے غُیُوب ص ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جو نیکی کا ارادہ کرے
لیکن اس پر عمل نہ کرسکے تو اللہ عزَّوَجَلَّ اس کے نامۂ اعمال میں ایک کامِل نیکی کاثواب لکھ دیتا ہے۔‘‘
(مسلم،کتاب الایمان،باب اذا ہم العبد بحسنۃ کتبت الخ، حدیث:۱۳۱، ص۸۰)
انسان کو
مددِ الٰہی اس کے اِخلاص کے مطابق ملتی ہے،جس کے نیک اَعمال میں جتنا زیادہ اِخلاص
ہوگا اسے اتنی ہی زیادہ مددِ الٰہی نصیب ہوگی۔نِیَّت ہی کی وجہ سے اعمال اچھے یا
بُرے اور مرتبے کے لحاظ سے چھوٹے یا بڑے ہوتے ہیں اور اچھی نِیَّت کی وجہ سے انسان
کو کبھی نہ کبھی اچھے عمل کی توفیق ضرور مل جاتی ہے۔حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں کہ تورات شریف میں اللہ عزَّوَجَلَّ کا یہ
فرمان لکھا ہے:’’جس عمل سے میری رِضا مطلوب ہووہ تھوڑا بھی زیادہ ہے اور جس عمل سے
میرے غیر کا قَصد کیا گیا ہو وہ زیادہ بھی تھوڑا ہے۔‘‘ (احیاء العلوم،۵/۸۹)
اخلاص ایمان کی ایک صفت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی
ہے۔ یہ ایمان کی ایسی طاقت ہے جو انسان کو دنیا کے وسوسوں سے بچاتی ہے اور اسے
آخرت کی کامیابی نصیب کرتی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کو اخلاص کے ساتھ گزارنے کی کوشش
کرنی چاہیے اور ہر عمل کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنا چاہیے۔
اخلاص کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال صرف اللہ
تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے۔نیت کی درستگی کے بغیر کوئی بھی عمل اللہ کے ہاں
قبول نہیں ہوتا۔اخلاص اعمال کو وزن اور روح عطا کرتا ہے، ورنہ عمل ظاہری ہونے کے
باوجود بے فائدہ رہتا ہے۔ریاکاری اخلاص کی ضد ہے، جو اعمال کو ضائع کر دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ بندے کے دل اور نیت کو دیکھتا ہے، نہ کہ ظاہری شکل و صورت کو۔اخلاص کے
ذریعے ہی بندہ اللہ کی رضا اور جنت کا مستحق بنتا ہے۔
(1) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا
جس کی اس نے نیت کی"۔(صحیح بخاری، حدیث: 1 ؛ صحیح مسلم، حدیث: 1907)
(2) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ صرف وہی
عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے کیا جائے"۔(سنن نسائی، حدیث: 3140)
(4) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تمہاری صورتوں اور
مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے"۔(صحیح مسلم،
حدیث: 2564)
(5) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (تین آدمیوں کا
واقعہ):"قیامت کے دن سب سے پہلے شہید، عالم اور سخی کا حساب ہو گا، مگر ریاکاری
کی وجہ سے انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا"۔(صحیح مسلم، حدیث: 1905)
وَ
مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ۔ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ۔(سورۃ البینہ: 5)
قُلْ
اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ(۱۱) ترجمہ
کنز الایمان: تم فرماؤ مجھے حکم ہے کہ اللہ کو پوجوں نرا اس کا بندہ ہوکر۔ (سورۃ
الزمر: 11)
مَنْ
كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ ترجمہ
کنز الایمان: جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں ۔(سورۃ
الشوریٰ: 20)
اخلاص دینِ اسلام کی بنیاد ہے۔ نیت کی پاکیزگی کے بغیر
کوئی بھی عبادت یا نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ قبول نہیں۔ اس لیے ہر مسلمان پر
لازم ہے کہ وہ اپنے تمام اعمال کو ریاکاری سے بچا کر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے
انجام دے۔
اِخلاص کی تعریف: ’’ کسی
بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ ‘‘ (
نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، ص 25 )
اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں اخلاص کے متعلق
ارشاد فرماتا ہے :وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین
کو خالص کرتے ہوئے ، ہر باطل سے جدا ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ
سیدھا دین ہے۔ (پ 30 ، سورةالبینہ 98 ، آیت 5 )
اس آیت مبارکہ میں اخلاص کے ساتھ شرک و نفاق سے دور رہ
کر اللہ عزوجل کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع ( پیروکار)
ہوکر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے ۔
آیے اب ہم اخلاص
کی اہمیت حدیث کی روشنی میں ملاحظہ کرتے ہیں :
(1)
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے: روایت ہے عمر ابن خطاب رضی اللہ
عنہ سے فرماتے ہیں فرمایانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے: کہ اعمال نیّتوں
سے ہیں ہرشخص کے لئے وُہ ہی ہے جو نیّت
کرے بس جس کی ہجرت اللہ و رسول کی طرف ہو تو اُس کی ہجرت اللہ
ورسول ہی کی طرف ہوگی اور جس کی ہجرت دنیاحاصل کرنے یا عورت سے نکاح کرنے کے لئے
ہو اس کی ہجرت اس طرف ہوگی جس کے لئے کی ۔
( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف جلد 1 ، ص 31 ، حدیث 1 )
(2) اللہ تبارک و
تعالیٰ امت کی مدد فرماتا ہے:حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے
روایت کرتے ہیں کہ بے شک ان کے والد سعد نے خیال کیا کہ انہیں اپنے سے کم درجہ
صحابہ پر فضیلت حاصل ہے ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ
تعالیٰ اس امت کی مدد فرماتا ہے کمزوروں کی دعا اور ان کی نماز اور ان کے اخلاص کی
وجہ سے ۔ (عنایتہ الملھم شرح اتحاف المسلم ، ص29 )
( 3) اللہ رب
العزت دلوں کی طرف دیکھتا ہے : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تمہارے
جسموں کی طرف اور تمہاری صورتوں کی طرف نہیں دیکھتا لیکن وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا
ہیں ۔ ( عنایتہ الملھم شرح اتحاف المسلم ، ص 31 )
(4)
تھوڑا عمل ہی کافی ہے:حضور نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن
جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی
تمہیں کافی ہے ۔ ( فرض علوم ، اخلاص کا بیان ، ص 630)
(5)
گناہ بخش دیئے جائے گے: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله
صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ
بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس
کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت
کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
، روزے کا بیان ، ج 3 ، ص 145، حدیث
1862 )
اخلاص ایمان کی جان ہے ، عبادت کی زینت ہے اور ہر اعمال
کی قبولیت کی کنجی ہے ، جو شخص اخلاص کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا
قرب اور دائمی کامیابی سے ہمکنار ہو جاتا ہے ۔
امیر اہلسنت
دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں۔
مِرا ہر عمل بس
ترے واسطے ہو کر اِخلاص ایسا
عطا یاالٰہی
عطا کردے اِخلاص
کی مجھ کو نعمت نہ نزدیک آئے ریا یاالٰہی
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!اسلام میں اعمال کی قبولیت کا
دارومدار صرف ظاہری صورت پر نہیں بلکہ باطنی کیفیت یعنی نیت اور اخلاص پر ہے۔ دینِ
اسلام کی روح یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام افعال و اقوال صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے
کرے۔ چاہے وہ نماز ہو، روزہ، صدقہ یا کوئی بھی نیکی اگر وہ اللہ کی رضا کے بغیر، ریاکاری
یا دنیاوی مقصد کے تحت کی جائے تو وہ عمل بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت نہیں
پاتا۔ اخلاص ہی وہ معیار ہے جو معمولی عمل کو بھی عظیم بنا دیتا ہے۔
اخلاص کی تعریف:’’کسی بھی نیک عمل میں
محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘(نجات دلانے والے
اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)
عمل میں اخلاص کے فوائد :(1)اعمال
کی قبولیت (2)چھوٹا عمل بھی عظیم بن
جاتا ہے۔ (3)ریاکاری سے نجات (4)اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے۔(5)دل کو سکون اور
اطمینان ملتا ہے۔(6)قیامت کے دن نجات کا ذریعہ۔(7)دعا کی قبولیت۔
احادیث ِ اخلاص:نبی پاک صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے اخلاص کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا :اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ،
تھوڑا عمل بھی تمہارے لئے کافی ہوگا۔ (المستدرک ،کتاب الرقاق ، الحدیث ۷۹۱۴، ج۵ ،ص۴۳۵)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس حدیث پاک سے اخلاص کی اہمیت
کا اندازا ہوجاتا ہے کے اخلاص کے ساتھ عمل یعنی صرف اللہ پاک کے لیے عمل کرنا وہ
چاہے تھوڑا سا ئی عمل ہی کیوں نہ ہو بلکہ اگر اخلاص کے ساتھ اچھے کام کی نیت بھی
کرلے تو بندہ کو اجر ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ آئیے اس سے متعلق بھی حدیث مبارکہ
ملاحظہ کرتے ہیں: چناچہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمانِ عالیشان
ہے : ’’ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے
اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے
تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے ۔ ‘‘ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲،ج ۶، ص۱۸۵)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس کے علاوہ بھی بہت ساری
احادیث کریمہ اخلاص کی فضیلت پر دال ہیں ۔احادیث کریمہ میں اخلاص اختیار کرنے کا
بھی فرمایا گیا ہے: چناچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے :
’’ اللہ عز وجل کے لئے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ عز وجل وہی عمل
قبول فرماتا ہے جواس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ‘‘ (سنن الدارقطنی،کتاب
الطہارت، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)
سرکار صلی اللہ
تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اے لوگو! اللہ عز وجل کے لئے
اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہ اللہ عز وجل وہی اعمال قبول فرماتاہے جو اس کے لئے
اخلاص کے ساتھ کئے جاتے ہیں او ریہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہ عَزَّ
وَجَلَّ اورر شتہ داری کی وجہ سے کیا ہے۔ ‘‘(سنن الدارقطنی،کتاب
الطہار ت ، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے احادیث کریمہ میں
ملاحظہ کیا کے عمل وہی قبول ہوتا ہے جس میں اخلاص ہو اخلاص کے بغیر عمل قبول نہی
ہوتا جس عمل میں ریا کاری ہو دکھاوا ہو وہ عمل رد کردیا جاتا ہے قیامت والے دن اس
عمل کا کوئی فائدہ نہ ہوگا جس میں ریا کاری ہو اور اخلاص نہ ہو ۔اللہ پاک سے دعا
ہے کے اللہ پاک ہمیں اپنے مخلص بندوں میں سے بنائےاخلاص کی دولت سے مالا مال
فرمائےصرف اور صرف اپنے لیے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیینﷺ۔
اخلاص یعنی نیت کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص رکھنا دین
اسلام کا بنیادی ستون ہے۔ کوئی بھی عمل، چاہے وہ عبادت ہو یا خدمت خلق، اگر خالص
اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو تو وہ قابلِ قبول نہیں۔ قرآن و حدیث میں اخلاص کی بار
بار تاکید کی گئی ہے۔
اخلاص کی تعریف: اخلاص کا مطلب ہے کہ
انسان اپنے ہر قول و فعل، عبادت و معاملات میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصود
بنائے، ریاکاری، دکھاوا، یا دنیاوی فائدہ اس میں شامل نہ ہو۔قرآن پاک میں اللہ پاک
نے ارشاد فرمایا : مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ
ترجمہ کنزالعرفان: اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ۔ (الاعراف:29)
اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی
عبادت صرف اس کی رضا حاصل کرنے یا اس کے حکم کی بجا آوری کی نیت سے کی جائے ،اس میں
کسی کو دکھانے یا سنانے کی نیت ہو، نہ اس میں کسی اور کو شریک کیا جائے۔ (خازن،
الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۲ / ۸۷، ملتقطاً)
اخلاص کی حقیقت اور عمل میں اخلاص کے فضائل:
امام راغب اصفہانی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: اخلاص کی حقیقت یہ
ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت (اور اس کی رضا جوئی) کے علاوہ ہر ایک کی عبادت(
اور اس کی رضا جوئی) سے بری ہو جائے۔ (مفردات امام راغب، کتاب الخاء، ص۲۹۳)
کثیر احادیث میں اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کے فضائل بیان
ہوئے ہیں :
اخلاص کی وجہ سے امت کی مدد:حضرت
سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ ص ﷺ
نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں ، ان کی نمازوں
اور ان کے اخلاص کی وجہ سے اِس امت کی مدد فرماتا ہے۔ (نسائی، کتاب الجہاد،
الاستنصار بالضعیف، ص۵۱۸، الحدیث:
۳۱۷۵)
کوئی وصیت کیجیے:حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب تاجدارِ رسالت ص ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے
عرض کی:یا رسولَ اللہ ! مجھے کوئی وصیت کیجئے۔ رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اپنے دین میں اخلاص رکھو ،تمہا را تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔ (مستدرک، کتاب
الرقاق، ۵ / ۴۳۵، الحدیث:
۷۹۱۴)
ترکِ اخلاص کی مذمت: جس
طرح احادیث میں اخلاص کے فضائل بیان ہوئے ہیں اسی طرح ترک ِاخلاص کی بھی بکثرت
مذمت کی گئی ہے:
(1) حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے
روایت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ قیامت کے دن مہر لگے ہوئے نامۂ
اعمال لائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: ’’اس اعمال نامے کو قبول کر
لواور اس اعمال نامے کو چھوڑ دو۔ فرشتے عرض کریں گے: تیری عزت کی قسم! ہم نے وہی
لکھا ہے جو اس نے عمل کیا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا ’’تم نے سچ کہا، (مگر) اس
کا عمل میری ذات کے لئے نہ تھا، آج میں صرف اسی عمل کو قبول کروں گا جو میری ذات
کے لئے کیا گیا ہو گا۔ (معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد، ۴ / ۳۲۸، الحدیث: ۶۱۳۳)
اخلاص دین کا جوہر اور عمل کی روح ہے۔ بغیر اخلاص کے بڑے
سے بڑا عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے، اور اخلاص کے ساتھ معمولی عمل بھی عظیم بن جاتا
ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر عمل سے پہلے نیت درست کریں اور خالص اللہ کے لیے کریں۔ اللہ
تعالیٰ ہمیں اخلاص کی دولت عطا فرمائے اور ہمیں ریاکاری سے محفوظ رکھے، آمین۔
خلیل
احمد عطاری(درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان )
اخلاص ایک ایسا وصف ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے
لئے کام کرنے کی توفیق عطا کرتا ہے جب ہم کسی کام کو اخلاص کے ساتھ کرتے ہیں تو
ہمارے دل میں اس کام کی محبت اور اہمیت کا احساس ہوتا ہے اخلاص کے کچھ اہم پہلو یہ
ہیں۔ نیت کی صفائی، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کام کرنا،دکھاوا اور شہرت سے بچنا،
خلوص اور سچائی، اخلاص ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے اور ہمارے کاموں کو مقبول
بناتا ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اخلاص:احادیثِ
نبوی ﷺ اخلاص کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں نیت کی صفائی اور خلوص کے ساتھ کیے گئے
اعمال اللہ تعالیٰ کی نظر میں بہت قیمتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ظاہری شکل و صورت کی
بجائے دل کی نیت اور اعمال کو دیکھتا ہے ۔اخلاص کے ساتھ کیا گیا عمل ہی قبول ہوتا
ہے۔
اس واقعے سے معلوم ہوا کہ اخلاص کے ساتھ کیا ہوا عمل کبھی
ضائع نہیں ہوتا اللہ پاک نیت کو دیکھتا ہے اور
اسی کے مطابق بہترین نتیجہ عطا فرماتا ہے۔
اِنَّاۤ
اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ
الدِّیْنَؕ(۲)ترجمہ
کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری تو اللہ کو کو پوجو
نِرے اس کے بندے ہوکر۔ (سورۃ الزمر، آیت 2)
قُلْ
اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ(۱۱) ترجمہ
کنز الایمان: تم فرماؤ مجھے حکم ہے کہ اللہ کو پوجوں نرا اس کا بندہ ہوکر۔ (سورۃ
الزمر، آیت نمبر11)
عَنۡ عُمَرَ بْنَ
الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى المِنْبَرِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا
لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ترجمہ:اعمال کا دار و مدار نیتوں
پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔(صحیح البخاری: حدیث
نمبر 1۔صحیح مسلم: حدیث نمبر 1907)
سید
محمد ارسلان قریشی عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی، کراچی
،پاکستان)
اخلاص وہ عظیم صفت ہے جو بندے کے ہر عمل کو اللہ تعالیٰ
کے ہاں قیمتی بنا دیتی ہے۔ قرآن و حدیث
دونوں میں اخلاص پر خاص زور دیا گیا ہے، کیونکہ بغیر اخلاص کے کوئی عبادت مقبول نہیں ہوتی۔ نیت کی درستگی ہی اصل کامیابی ہے۔ ظاہری
اعمال اگرچہ زیادہ ہوں، مگر اخلاص
کے بغیر وہ بے وزن ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے ایک مسلمان کی زندگی میں اخلاص کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جیسا کہ حضور جان عالم ﷺ نے ارشاد
فرمایا :اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔(صحیح بخاری
حدیث 1 جلد ۱ صفحہ
3 دار ابن کثیر)
اخلاص کے بہت سے فضائل و فوائد احادیث مبارکہ میں منقول
ہیں چنانچہ حضور جان عالم ﷺ
نے ارشاد فرمایا :حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ سے مروی ہے:’’ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا
بلکہ تمارے دلوں اور تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے۔(مسلم، کتاب البر والصلۃ
والآداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ الخ، ص۱۳۸۷، الحدیث: ۳۴(۲۵۶۴)
لہذا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دل کی کیفیت و اخلاص دیکھا
جاتا ہے نہ کہ فقط ظاہری حالت۔
اسی طرح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو
شخص اللہ وحدہ لا شریک کے لئے کامل اخلاص پر اور بلا
شریک اس کی عبادت پر، نماز قائم کرنے پر اور زکوٰۃ دینے پر ہمیشہ عمل پیرا رہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گا اس کی موت اس حال میں ہو گی
کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو گا۔ (سنن ابن ماجہ :جلد 1 صفحہ 49 حديث 70 دار
الرسالۃ العالمیۃ)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا گیا تو انہوں نے بارگاهِ رسالت مآب ﷺ میں عرض
کیا : یا رسول اللہ! مجھے کوئی وصیت کیجئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : دین میں اخلاص پیدا
کر، تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔
( مستدرك على الصحيحين جلد 8 صفحہ 595 حديث
8041 دار الرسالۃ العالميۃ)
احادیث کریمہ میں جہاں اخلاص کے فضائل اور ترغیبات ہیں وہیں اخلاص سے عمل
نہ کرنے بلکہ ریاکاری یا کسی اور سبب سے اعمال کرنے
پر وعیدات بھی ہیں چنانچہ حدیث پاک میں
ہے کہ حضور جان عالم ﷺ کا
فرمانِ عالیشان ہے : ’’ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت میں لے جانے کا حکم ہو گا، یہاں
تک کہ جب وہ جنت کے قریب پہنچ کر اس کی خوشبو سونگھیں گے اور اس کے محلات اور اہل
جنت کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تیار کردہ نعمتیں دیکھ لیں گے، تو ندا دی جائے
گی : ’’ انہیں لوٹا دو کیونکہ ان کا جنت میں کوئی حصہ نہیں ۔ ‘‘ تو وہ ایسی حسرت
لے کر لوٹیں گے جیسی اولین وآخرین نے نہ پائی ہو گی، پھر وہ عرض کریں گے : ’’ یارب
عَزَّ وَجَلَّ ! اگر تو وہ نعمتیں دکھانے سے پہلے ہی ہمیں جہنم میں داخل کر دیتا
تو یہ ہم پر زیادہ آسان ہوتا۔ ‘‘ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’ بدبختو! میں نے ارادۃً تمہارے ساتھ ایسا کیا
ہے جب تم تنہائی میں ہوتے تو میرے ساتھ اعلانِ جنگ کرتے اور جب لوگوں کے سامنے
ہوتے تو میری بارگاہ میں دوغلے پن سے حاضر ہوتے، نیز لوگوں کے دکھلاوے کے لئے عمل
کر تے جبکہ تمہارے دلوں میں میری خاطر اس کے بالکل برعکس صورت ہوتی، لوگوں سے
محبت کرتے اور مجھ سے محبت نہ کرتے، لوگوں کی عزت کرتے اور میری عزت نہ کرتے،
لوگوں کے لئے عمل چھوڑ دیتے مگر میرے لئے برائی نہ چھوڑتے تھے، آج میں تمہیں
اپنے ثواب سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عذاب کامزہ بھی چکھاؤں گا۔ ‘‘ (المعجم الاوسط،الحدیث: ۵۴۷۸،ج۴،ص۱۳۵،مختصراً)
اسی طرح
حضور جان عالم ﷺ کا فرمان ہے اللہ عَزَّ
وَجَلَّ کسی طالب شہرت ریاکار اور
لہوولعب میں پڑے رہنے والے کا کوئی عمل قبول نہیں فرماتا۔ (حلیۃ الاولیاء،الربیع بن حثیم ، الحدیث: ۱۷۳۲،ج۲،ص۱۳۹)
ایک اور حدیث مبارکہ میں حضور جان عالم ﷺ نے فرمایا :جب
قیامت کا دن آئے گا تو ایک منادی جمع ہونے والوں کو ندا دے گاکہ لوگوں کو پوجنے
والے کہاں ہیں ؟ کھڑے ہوجاؤ اور جن کے لئے تم عمل کرتے تھے ان سے جا کر اپنا اَجر
وصول کرو کیونکہ میں ایسا کوئی عمل قبول نہیں کرتا جس میں دنیا یا اس کے کسی فرد
کا دخل ہو۔ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۲۴۷۶،ج۱،ص۳۶۱)
بے شک اخلاص کے بغیر ہر نیکی بے روح اور بے وزن ہو جاتی
ہے، اور اخلاص کے ساتھ معمولی عمل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم بن جاتا ہے۔ بندۂ
مومن کو چاہیے کہ اپنے ہر قول و فعل میں نیت کی اصلاح کرتا رہے، کیونکہ قبولیت کا
دارومدار اسی پر ہے۔ ریا، شہرت اور دکھاوے سے بچ کر خالص اللہ کی رضا کو مقصد
بنانا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ جو شخص اخلاص کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ دنیا میں
سکون اور آخرت میں نجات پا لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچی نیت اور کامل اخلاص کے
ساتھ اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین بجاہ النبی
الامین ﷺ۔
Dawateislami