اخلاص یعنی نیت کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص رکھنا دین
اسلام کا بنیادی ستون ہے۔ کوئی بھی عمل، چاہے وہ عبادت ہو یا خدمت خلق، اگر خالص
اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو تو وہ قابلِ قبول نہیں۔ قرآن و حدیث میں اخلاص کی بار
بار تاکید کی گئی ہے۔
اخلاص کی تعریف: اخلاص کا مطلب ہے کہ
انسان اپنے ہر قول و فعل، عبادت و معاملات میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصود
بنائے، ریاکاری، دکھاوا، یا دنیاوی فائدہ اس میں شامل نہ ہو۔قرآن پاک میں اللہ پاک
نے ارشاد فرمایا : مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ
ترجمہ کنزالعرفان: اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ۔ (الاعراف:29)
اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی
عبادت صرف اس کی رضا حاصل کرنے یا اس کے حکم کی بجا آوری کی نیت سے کی جائے ،اس میں
کسی کو دکھانے یا سنانے کی نیت ہو، نہ اس میں کسی اور کو شریک کیا جائے۔ (خازن،
الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۲ / ۸۷، ملتقطاً)
اخلاص کی حقیقت اور عمل میں اخلاص کے فضائل:
امام راغب اصفہانی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: اخلاص کی حقیقت یہ
ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت (اور اس کی رضا جوئی) کے علاوہ ہر ایک کی عبادت(
اور اس کی رضا جوئی) سے بری ہو جائے۔ (مفردات امام راغب، کتاب الخاء، ص۲۹۳)
کثیر احادیث میں اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کے فضائل بیان
ہوئے ہیں :
اخلاص کی وجہ سے امت کی مدد:حضرت
سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ ص ﷺ
نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں ، ان کی نمازوں
اور ان کے اخلاص کی وجہ سے اِس امت کی مدد فرماتا ہے۔ (نسائی، کتاب الجہاد،
الاستنصار بالضعیف، ص۵۱۸، الحدیث:
۳۱۷۵)
کوئی وصیت کیجیے:حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب تاجدارِ رسالت ص ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے
عرض کی:یا رسولَ اللہ ! مجھے کوئی وصیت کیجئے۔ رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اپنے دین میں اخلاص رکھو ،تمہا را تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔ (مستدرک، کتاب
الرقاق، ۵ / ۴۳۵، الحدیث:
۷۹۱۴)
ترکِ اخلاص کی مذمت: جس
طرح احادیث میں اخلاص کے فضائل بیان ہوئے ہیں اسی طرح ترک ِاخلاص کی بھی بکثرت
مذمت کی گئی ہے:
(1) حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے
روایت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ قیامت کے دن مہر لگے ہوئے نامۂ
اعمال لائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: ’’اس اعمال نامے کو قبول کر
لواور اس اعمال نامے کو چھوڑ دو۔ فرشتے عرض کریں گے: تیری عزت کی قسم! ہم نے وہی
لکھا ہے جو اس نے عمل کیا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا ’’تم نے سچ کہا، (مگر) اس
کا عمل میری ذات کے لئے نہ تھا، آج میں صرف اسی عمل کو قبول کروں گا جو میری ذات
کے لئے کیا گیا ہو گا۔ (معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد، ۴ / ۳۲۸، الحدیث: ۶۱۳۳)
اخلاص دین کا جوہر اور عمل کی روح ہے۔ بغیر اخلاص کے بڑے
سے بڑا عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے، اور اخلاص کے ساتھ معمولی عمل بھی عظیم بن جاتا
ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر عمل سے پہلے نیت درست کریں اور خالص اللہ کے لیے کریں۔ اللہ
تعالیٰ ہمیں اخلاص کی دولت عطا فرمائے اور ہمیں ریاکاری سے محفوظ رکھے، آمین۔
Dawateislami