اخلاص وہ عظیم صفت ہے جو بندے کے ہر عمل کو اللہ تعالیٰ کے ہاں قیمتی بنا دیتی ہے۔ قرآن ‎و حدیث دونوں میں اخلاص پر خاص زور دیا گیا ہے، کیونکہ بغیر اخلاص کے کوئی عبادت ‎مقبول نہیں ہوتی۔ نیت کی درستگی ہی اصل کامیابی ہے۔ ظاہری اعمال اگرچہ زیادہ ہوں، مگر ‎اخلاص کے بغیر وہ بے وزن ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے ایک مسلمان کی زندگی میں اخلاص کو ‎بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جیسا کہ حضور جان عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ‎:اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ‎۔‎(صحیح بخاری حدیث 1 جلد ۱ صفحہ 3 دار ابن کثیر) ‎

اخلاص کے بہت سے فضائل و فوائد احادیث مبارکہ میں منقول ہیں چنانچہ حضور جان ‎عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ‎:حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے:‏’’ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمارے دلوں اور ‏تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے۔‏(مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ الخ، ص۱۳۸۷، الحدیث: ‏‏۳۴(۲۵۶۴)

لہذا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دل کی کیفیت و اخلاص دیکھا جاتا ہے نہ کہ فقط ظاہری ‏حالت۔ ‏

اسی طرح ‏حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی ‎اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اللہ وحدہ لا شریک کے لئے کامل اخلاص پر اور ‎بلا شریک اس کی عبادت پر، نماز قائم کرنے پر اور زکوٰۃ دینے پر ہمیشہ عمل پیرا ‎رہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گا اس کی موت اس حال میں ہو گی کہ اللہ تعالیٰ ‎اس سے راضی ہو گا۔ ‎‎(سنن ابن ماجہ :جلد 1 صفحہ 49 حديث 70 دار الرسالۃ العالمیۃ)‎

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی ‎طرف بھیجا گیا تو انہوں نے بارگاهِ رسالت مآب ﷺ میں عرض کیا : یا رسول اللہ! مجھے کوئی وصیت کیجئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : دین میں اخلاص پیدا کر، تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ‎ہو گا۔ ‎( مستدرك على الصحيحين جلد 8 صفحہ 595 حديث 8041 دار الرسالۃ العالميۃ) ‎

احادیث کریمہ میں جہاں ‎اخلاص‎ کے فضائل اور ترغیبات ہیں وہیں اخلاص سے عمل نہ ‎کرنے‎ بلکہ ریاکاری یا کسی اور سبب سے اعمال کرنے پر وعیدات بھی ہیں چنانچہ حدیث ‎پاک میں ہے کہ ‎حضور جان عالم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت میں لے ‏جانے کا حکم ہو گا، یہاں تک کہ جب وہ جنت کے قریب پہنچ کر اس کی خوشبو سونگھیں ‏گے اور اس کے محلات اور اہل جنت کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تیار کردہ نعمتیں دیکھ لیں ‏گے، تو ندا دی جائے گی : ’’ انہیں لوٹا دو کیونکہ ان کا جنت میں کوئی حصہ نہیں ۔ ‘‘ تو ‏وہ ایسی حسرت لے کر لوٹیں گے جیسی اولین وآخرین نے نہ پائی ہو گی، پھر وہ عرض ‏کریں گے : ’’ یارب عَزَّ وَجَلَّ ! اگر تو وہ نعمتیں دکھانے سے پہلے ہی ہمیں جہنم میں ‏داخل کر دیتا تو یہ ہم پر زیادہ آسان ہوتا۔ ‘‘ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’ بدبختو! ‏میں نے ارادۃً تمہارے ساتھ ایسا کیا ہے جب تم تنہائی میں ہوتے تو میرے ساتھ اعلانِ جنگ ‏کرتے اور جب لوگوں کے سامنے ہوتے تو میری بارگاہ میں دوغلے پن سے حاضر ہوتے، ‏نیز لوگوں کے دکھلاوے کے لئے عمل کر تے جبکہ تمہارے دلوں میں میری خاطر اس ‏کے بالکل برعکس صورت ہوتی، لوگوں سے محبت کرتے اور مجھ سے محبت نہ کرتے، ‏لوگوں کی عزت کرتے اور میری عزت نہ کرتے، لوگوں کے لئے عمل چھوڑ دیتے مگر ‏میرے لئے برائی نہ چھوڑتے تھے، آج میں تمہیں اپنے ثواب سے محروم کرنے کے ساتھ ‏ساتھ اپنے عذاب کامزہ بھی چکھاؤں گا۔ ‘‘ ‏‎ (المعجم الاوسط،الحدیث: ۵۴۷۸،ج۴،ص۱۳۵،مختصراً)

‎ اسی طرح حضور جان عالم ﷺ کا فرمان ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی طالب شہرت ریاکار ‎اور لہوولعب میں پڑے رہنے والے کا کوئی عمل قبول نہیں فرماتا۔ ‎ (حلیۃ الاولیاء،الربیع بن حثیم ، الحدیث: ۱۷۳۲،ج۲،ص۱۳۹)‎

ایک اور حدیث مبارکہ میں حضور جان عالم ﷺ نے فرمایا ‏:جب قیامت کا دن آئے گا تو ایک منادی جمع ہونے والوں کو ندا دے گاکہ لوگوں کو پوجنے ‏والے کہاں ہیں ؟ کھڑے ہوجاؤ اور جن کے لئے تم عمل کرتے تھے ان سے جا کر اپنا اَجر ‏وصول کرو کیونکہ میں ایسا کوئی عمل قبول نہیں کرتا جس میں دنیا یا اس کے کسی فرد ‏کا دخل ہو۔ ‏ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۲۴۷۶،ج۱،ص۳۶۱)‏

بے شک اخلاص کے بغیر ہر نیکی بے روح اور بے وزن ہو جاتی ہے، اور اخلاص کے ‏ساتھ معمولی عمل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم بن جاتا ہے۔ بندۂ مومن کو چاہیے کہ اپنے ہر ‏قول و فعل میں نیت کی اصلاح کرتا رہے، کیونکہ قبولیت کا دارومدار اسی پر ہے۔ ریا، ‏شہرت اور دکھاوے سے بچ کر خالص اللہ کی رضا کو مقصد بنانا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ ‏جو شخص اخلاص کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ دنیا میں سکون اور آخرت میں نجات پا لیتا ‏ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچی نیت اور کامل اخلاص کے ساتھ اپنی رضا والے کام کرنے کی ‏توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔ ‏