سید
محمد ارسلان قریشی عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی، کراچی
،پاکستان)
اخلاص وہ عظیم صفت ہے جو بندے کے ہر عمل کو اللہ تعالیٰ
کے ہاں قیمتی بنا دیتی ہے۔ قرآن و حدیث
دونوں میں اخلاص پر خاص زور دیا گیا ہے، کیونکہ بغیر اخلاص کے کوئی عبادت مقبول نہیں ہوتی۔ نیت کی درستگی ہی اصل کامیابی ہے۔ ظاہری
اعمال اگرچہ زیادہ ہوں، مگر اخلاص
کے بغیر وہ بے وزن ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے ایک مسلمان کی زندگی میں اخلاص کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جیسا کہ حضور جان عالم ﷺ نے ارشاد
فرمایا :اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔(صحیح بخاری
حدیث 1 جلد ۱ صفحہ
3 دار ابن کثیر)
اخلاص کے بہت سے فضائل و فوائد احادیث مبارکہ میں منقول
ہیں چنانچہ حضور جان عالم ﷺ
نے ارشاد فرمایا :حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ سے مروی ہے:’’ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا
بلکہ تمارے دلوں اور تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے۔(مسلم، کتاب البر والصلۃ
والآداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ الخ، ص۱۳۸۷، الحدیث: ۳۴(۲۵۶۴)
لہذا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دل کی کیفیت و اخلاص دیکھا
جاتا ہے نہ کہ فقط ظاہری حالت۔
اسی طرح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو
شخص اللہ وحدہ لا شریک کے لئے کامل اخلاص پر اور بلا
شریک اس کی عبادت پر، نماز قائم کرنے پر اور زکوٰۃ دینے پر ہمیشہ عمل پیرا رہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گا اس کی موت اس حال میں ہو گی
کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو گا۔ (سنن ابن ماجہ :جلد 1 صفحہ 49 حديث 70 دار
الرسالۃ العالمیۃ)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا گیا تو انہوں نے بارگاهِ رسالت مآب ﷺ میں عرض
کیا : یا رسول اللہ! مجھے کوئی وصیت کیجئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : دین میں اخلاص پیدا
کر، تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔
( مستدرك على الصحيحين جلد 8 صفحہ 595 حديث
8041 دار الرسالۃ العالميۃ)
احادیث کریمہ میں جہاں اخلاص کے فضائل اور ترغیبات ہیں وہیں اخلاص سے عمل
نہ کرنے بلکہ ریاکاری یا کسی اور سبب سے اعمال کرنے
پر وعیدات بھی ہیں چنانچہ حدیث پاک میں
ہے کہ حضور جان عالم ﷺ کا
فرمانِ عالیشان ہے : ’’ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت میں لے جانے کا حکم ہو گا، یہاں
تک کہ جب وہ جنت کے قریب پہنچ کر اس کی خوشبو سونگھیں گے اور اس کے محلات اور اہل
جنت کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تیار کردہ نعمتیں دیکھ لیں گے، تو ندا دی جائے
گی : ’’ انہیں لوٹا دو کیونکہ ان کا جنت میں کوئی حصہ نہیں ۔ ‘‘ تو وہ ایسی حسرت
لے کر لوٹیں گے جیسی اولین وآخرین نے نہ پائی ہو گی، پھر وہ عرض کریں گے : ’’ یارب
عَزَّ وَجَلَّ ! اگر تو وہ نعمتیں دکھانے سے پہلے ہی ہمیں جہنم میں داخل کر دیتا
تو یہ ہم پر زیادہ آسان ہوتا۔ ‘‘ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’ بدبختو! میں نے ارادۃً تمہارے ساتھ ایسا کیا
ہے جب تم تنہائی میں ہوتے تو میرے ساتھ اعلانِ جنگ کرتے اور جب لوگوں کے سامنے
ہوتے تو میری بارگاہ میں دوغلے پن سے حاضر ہوتے، نیز لوگوں کے دکھلاوے کے لئے عمل
کر تے جبکہ تمہارے دلوں میں میری خاطر اس کے بالکل برعکس صورت ہوتی، لوگوں سے
محبت کرتے اور مجھ سے محبت نہ کرتے، لوگوں کی عزت کرتے اور میری عزت نہ کرتے،
لوگوں کے لئے عمل چھوڑ دیتے مگر میرے لئے برائی نہ چھوڑتے تھے، آج میں تمہیں
اپنے ثواب سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عذاب کامزہ بھی چکھاؤں گا۔ ‘‘ (المعجم الاوسط،الحدیث: ۵۴۷۸،ج۴،ص۱۳۵،مختصراً)
اسی طرح
حضور جان عالم ﷺ کا فرمان ہے اللہ عَزَّ
وَجَلَّ کسی طالب شہرت ریاکار اور
لہوولعب میں پڑے رہنے والے کا کوئی عمل قبول نہیں فرماتا۔ (حلیۃ الاولیاء،الربیع بن حثیم ، الحدیث: ۱۷۳۲،ج۲،ص۱۳۹)
ایک اور حدیث مبارکہ میں حضور جان عالم ﷺ نے فرمایا :جب
قیامت کا دن آئے گا تو ایک منادی جمع ہونے والوں کو ندا دے گاکہ لوگوں کو پوجنے
والے کہاں ہیں ؟ کھڑے ہوجاؤ اور جن کے لئے تم عمل کرتے تھے ان سے جا کر اپنا اَجر
وصول کرو کیونکہ میں ایسا کوئی عمل قبول نہیں کرتا جس میں دنیا یا اس کے کسی فرد
کا دخل ہو۔ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۲۴۷۶،ج۱،ص۳۶۱)
بے شک اخلاص کے بغیر ہر نیکی بے روح اور بے وزن ہو جاتی
ہے، اور اخلاص کے ساتھ معمولی عمل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم بن جاتا ہے۔ بندۂ
مومن کو چاہیے کہ اپنے ہر قول و فعل میں نیت کی اصلاح کرتا رہے، کیونکہ قبولیت کا
دارومدار اسی پر ہے۔ ریا، شہرت اور دکھاوے سے بچ کر خالص اللہ کی رضا کو مقصد
بنانا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ جو شخص اخلاص کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ دنیا میں
سکون اور آخرت میں نجات پا لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچی نیت اور کامل اخلاص کے
ساتھ اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین بجاہ النبی
الامین ﷺ۔
Dawateislami