اسلام دینِ نیت اور دل کی سچائی کا نام ہے۔ ظاہری اعمال کی قبولیت کا دارومدار دل کی کیفیت، نیت کی درستگی اور عمل کے پیچھے چھپے اخلاص پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی عمل ظاہری طور پر کتنا ہی بڑا اور خوبصورت ہو، لیکن اس کے پیچھے نیت خالص نہ ہو، تو وہ اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں۔

یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اصل قیمت نیت اور اخلاص کی ہے، نہ کہ صرف ظاہری عمل کی۔ اس مضمون میں ہم اخلاص کی اہمیت، فضیلت اور اس کی کمی کے نتائج پر روشنی ڈالیں گے۔

اخلاص کی اہمیت: جب ہم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل، اس کی تائید، مدد واعانت اور توفیق سے اس بدترین کبیرہ گناہ اور اس کے ان متعلقات کے بارے میں گفتگو مکمل کر لی جن کی مخلوق کو حاجت پیش آتی ہے اور کتاب کے موضوع کے اعتبار سے اس پر تفصیلی کلام کر لیا اگرچہ ریا کاری اور اس کے توابع کے بیان میں خصوصًا ’’ احیاء علوم الدین ‘‘ میں علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰی کے کلام کی بنسبت ہمارا کلام نہایت ہی مختصر ہے اب ہم اپنے کلا م کا اختتام اخلاص کی مدح، مخلصین کے ثواب اور ان کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تیار کردہ نعمتوں پر دلالت کرنے والی چند آیات اور احادیث مبارکہ سے کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ مخلوق کے لئے اخلاص کو اپنانے اور ریاکاری سے دو ری اختیار کرنے کا سبب بن سکے کیونکہ اشیاء کی کامل معرفت ان کی اضداد ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵)ترجمۂ کنز الایمان : اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہواکہ اللہ کی بند گی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰ ۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ۰ ۳، البینہ: ۵)

نیکی کا ارادہ بھی باعثِ ثواب:عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّكْرَ، مَالَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ ترجمہ:اور حضرت ابوامامہ باہلی روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا، آپ ہمیں اجر و شہرت کے لیے لڑنے والے کے متعلق بتائیں کہ اسے کیا ملے گا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اسے کچھ نہیں ملے گا۔ اس آدمی نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی، آپ ﷺ نے تینوں مرتبہ یہی ارشاد فرمایا کہ اسے کچھ نہیں ملے گا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا:اللہ صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو خالص ہو اور اسی کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔(سنن النسائی، كتاب الجهاد، باب من غزا يلتمس الأجر والذكر، رقم : 3140)

اللہ کی رحمت اور بندے کی نیت:وحدثنا أبو هريرة عن محمد رسول الله ﷺ فذكر أحاديث منها قال: قال رسول الله ﷺ: قال الله عز وجل: إذا تحدث : عبدى بأن يعمل حسنة فأنا أكتبها له حسنة ما لم يعمل . فإذا عملها فأنا أكتبها بعشر أمثالها . وإذا تحدث بأن يعمل سيئة فأنا أغفرها له ما لم يعملها فإذا عملها فأنا أكتبها له بمثلها . وقال رسول الله ﷺ: قالت الملائكة: رب ذاك عبدك يريد أن يعمل سيئة وهو أبصر به فقال: ارقبوه فإن عملها فاكتبوها له بمثلها ، وإن تركها فاكتبوها له حسنة ، إنما تركها من جرائي۔ترجمہ:اور حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ کسی نیکی کے کرنے کا ارادہ و نیت کرتا ہے تو میں اس کے عمل کرنے سے پہلے ہی اس کی ایک نیکی لکھ لیتا ہوں اگر عمل کر لے تو میں دس گنا لکھ لیتا ہوں اور جب کسی برائی کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو جب تک وہ برائی اس سے سرزد نہ ہو تو میں اس کو معاف کرتا ہوں اگر وہ برائی کر لے تو میں اس کے بدلے ایک گناہ ہی لکھتا ہوں اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:فرشتے کہتے ہیں اے رب! یہ بندہ برائی کا ارادہ کرتا ہے، (حالانکہ وہ اس کے معاملہ کو زیادہ جانتا ہے) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اس کا انتظار کرو اور اس کو مہلت دو اگر یہ برائی کر لے تو ایک لکھنا اور اگر اس برائی کو ترک کر دے اور اس سے باز آ جائے تو ایک نیکی لکھ لینا کیونکہ اس نے یہ گناہ میری وجہ سے ترک کیا۔(صحیح مسلم، کتاب الإيمان، رقم : 244)اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔