اِخلاص کی تعریف: ’’ کسی
بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ ‘‘ (
نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، ص 25 )
اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں اخلاص کے متعلق
ارشاد فرماتا ہے :وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین
کو خالص کرتے ہوئے ، ہر باطل سے جدا ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ
سیدھا دین ہے۔ (پ 30 ، سورةالبینہ 98 ، آیت 5 )
اس آیت مبارکہ میں اخلاص کے ساتھ شرک و نفاق سے دور رہ
کر اللہ عزوجل کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع ( پیروکار)
ہوکر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے ۔
آیے اب ہم اخلاص
کی اہمیت حدیث کی روشنی میں ملاحظہ کرتے ہیں :
(1)
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے: روایت ہے عمر ابن خطاب رضی اللہ
عنہ سے فرماتے ہیں فرمایانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے: کہ اعمال نیّتوں
سے ہیں ہرشخص کے لئے وُہ ہی ہے جو نیّت
کرے بس جس کی ہجرت اللہ و رسول کی طرف ہو تو اُس کی ہجرت اللہ
ورسول ہی کی طرف ہوگی اور جس کی ہجرت دنیاحاصل کرنے یا عورت سے نکاح کرنے کے لئے
ہو اس کی ہجرت اس طرف ہوگی جس کے لئے کی ۔
( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف جلد 1 ، ص 31 ، حدیث 1 )
(2) اللہ تبارک و
تعالیٰ امت کی مدد فرماتا ہے:حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے
روایت کرتے ہیں کہ بے شک ان کے والد سعد نے خیال کیا کہ انہیں اپنے سے کم درجہ
صحابہ پر فضیلت حاصل ہے ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ
تعالیٰ اس امت کی مدد فرماتا ہے کمزوروں کی دعا اور ان کی نماز اور ان کے اخلاص کی
وجہ سے ۔ (عنایتہ الملھم شرح اتحاف المسلم ، ص29 )
( 3) اللہ رب
العزت دلوں کی طرف دیکھتا ہے : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تمہارے
جسموں کی طرف اور تمہاری صورتوں کی طرف نہیں دیکھتا لیکن وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا
ہیں ۔ ( عنایتہ الملھم شرح اتحاف المسلم ، ص 31 )
(4)
تھوڑا عمل ہی کافی ہے:حضور نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن
جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی
تمہیں کافی ہے ۔ ( فرض علوم ، اخلاص کا بیان ، ص 630)
(5)
گناہ بخش دیئے جائے گے: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله
صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ
بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس
کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت
کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
، روزے کا بیان ، ج 3 ، ص 145، حدیث
1862 )
اخلاص ایمان کی جان ہے ، عبادت کی زینت ہے اور ہر اعمال
کی قبولیت کی کنجی ہے ، جو شخص اخلاص کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا
قرب اور دائمی کامیابی سے ہمکنار ہو جاتا ہے ۔
امیر اہلسنت
دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں۔
مِرا ہر عمل بس
ترے واسطے ہو کر اِخلاص ایسا
عطا یاالٰہی
عطا کردے اِخلاص
کی مجھ کو نعمت نہ نزدیک آئے ریا یاالٰہی
Dawateislami