محمد
ابرار احمد (درجہ اولی جامعۃُ المدینہ فیضان
عثمان غنی کراچی ،پاکستان )
ہم اللہ پاک کے بندے ہیں اللہ پاک نے ہم پر عبادت کو
لازم کیا ، عبادت اور نیک اعمال کے قبول ہونے اور ان پر اجرو ثواب پانے کے لیے
اخلاص ایک نہایت ضروری چیز ہے ۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کسی بھی نیک عمل
میں محض رضائے الہی حاصل کرنے کا ارادہ کرنا اخلاص کہلاتا ہے ۔( احیاء العلوم ج
104/5 کتاب النیتہ و لاخلاص و الصدق الباب الثانی فی لاخلاص )
اخلاص کی حقیقت یہ
ہے کہ بندہ اللہ تعالٰی کی عبادت کے علاوہ ہر ایک کی عبادت سے بری ہو جائے۔ (مفردات
امام راغب کتاب الخاء ص293)
کثیر آیات و
احادیث میں اخلاص اپنانے کے فضائل بیان ہوئے ہیں چنانچہ اللہ پاک نے قرآن مجید میں
ارشاد فرمایا:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ کنز العرفان: اور ان
لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے
۔(البینہ:5)
ایک مقام پر
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاص کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا :اپنے دین میں
اخلاص رکھو تمہارا تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا۔(مستدرک، کتاب الرقاق، ۵ / ۴۳۵، الحدیث: ۷۹۱۴)
ایک مقام پر
ارشاد فرمایا : جس مسلمان میں تین اوصاف ہوں اس کے دل میں کھوٹ نہ ہوگا :
(1) اس کا عمل خالص اللہ پاک کے لیے ہو(2) وہ آئمہ مسلمین
کی خیر خواہی کرے (3)اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑلے۔(ترمذی کتاب العلم ما
جاء فی الحث علی تبلیغ السماع 299/4 الحدیث 2667)
جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاص کے حصول کے
فضائل بیان فرمائے وہیں ترک اخلاص کی مذمت بھی بیان فرمائی۔ چنانچہ فرمایا "
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے میں شریک سے بے نیاز ہوں جس نے کسی عمل میں میرے ساتھ
میرے غیر کو شریک کیا میں اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔(مسلم کتاب الزھد والرقائق
باب من اشرک فی عملہ غیر اللہ ص 1594 الحدیث 2985)
ان باتوں سے
معلوم ہوا کہ نماز و روزہ حج و زکوۃ جہاد الغرض کوئی بھی عبادت ہو اس کی قبولیت کا
دارو مدار اخلاص پر ہے بغیر اس کے کوئی بھی نیک عمل اللہ پاک کی بارگاہ میں مقبول
نہیں گویا عبادت کی کنجی اخلاص ہے۔
Dawateislami