اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، اور اس کی عبادت کی بنیاد اخلاص ہے۔ اخلاص کا مطلب ہے کہ ہر عمل خلوص نیت اور صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کے اعمال کو قبولیت کا درجہ دلاتی ہے اور اسے دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔

نیَّت کی تعریف: نِیَّت دل کے پختہ اِرادے کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی چیز کا ہو اور شریعت میں عبادت کے ارادے کونِیَّت کہتے ہیں۔‘‘ (نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری، ۱ / ۲۲۴)

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ (البینہ،آیت،5)

تاجدارِ مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:بروزِ قیامت کچھ مُہر بند صحیفے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں نَصْب (پیش)کئے جائیں گے تو اللہ عزَّوَجَلَّ فرشتوں سے فرمائے گا: یہ چھوڑ دو اوریہ قبول کرلو۔ فرشتے عرض کریں گے : یاربّ عزَّوَجَلَّ! تیری عزت کی قسم!ہم تواس میں خیر ہی دیکھتے ہیں ،اللہ عزَّوَجَلَّ جوسب سے زیادہ جاننے والا ہے ارشاد فرمائے گا:یہ اعمال میرے غیر کیلیے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں گا جو میری رِضا کے لئے کئے گئے تھے۔ (دار قطنی،کتاب الطہارۃ، باب النیۃ، ۱/۷۳، حدیث: ۱۲۹ )

اللہ عزَّوَجَلَّ کے مَحبوب،دانائے غُیُوب ص ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جو نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرسکے تو اللہ عزَّوَجَلَّ اس کے نامۂ اعمال میں ایک کامِل نیکی کاثواب لکھ دیتا ہے۔‘‘ (مسلم،کتاب الایمان،باب اذا ہم العبد بحسنۃ کتبت الخ، حدیث:۱۳۱، ص۸۰)

انسان کو مددِ الٰہی اس کے اِخلاص کے مطابق ملتی ہے،جس کے نیک اَعمال میں جتنا زیادہ اِخلاص ہوگا اسے اتنی ہی زیادہ مددِ الٰہی نصیب ہوگی۔نِیَّت ہی کی وجہ سے اعمال اچھے یا بُرے اور مرتبے کے لحاظ سے چھوٹے یا بڑے ہوتے ہیں اور اچھی نِیَّت کی وجہ سے انسان کو کبھی نہ کبھی اچھے عمل کی توفیق ضرور مل جاتی ہے۔حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں کہ تورات شریف میں اللہ عزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان لکھا ہے:’’جس عمل سے میری رِضا مطلوب ہووہ تھوڑا بھی زیادہ ہے اور جس عمل سے میرے غیر کا قَصد کیا گیا ہو وہ زیادہ بھی تھوڑا ہے۔‘‘ (احیاء العلوم،۵/۸۹)

اخلاص ایمان کی ایک صفت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔ یہ ایمان کی ایسی طاقت ہے جو انسان کو دنیا کے وسوسوں سے بچاتی ہے اور اسے آخرت کی کامیابی نصیب کرتی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کو اخلاص کے ساتھ گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ہر عمل کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنا چاہیے۔