اخلاص کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے۔نیت کی درستگی کے بغیر کوئی بھی عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔اخلاص اعمال کو وزن اور روح عطا کرتا ہے، ورنہ عمل ظاہری ہونے کے باوجود بے فائدہ رہتا ہے۔ریاکاری اخلاص کی ضد ہے، جو اعمال کو ضائع کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بندے کے دل اور نیت کو دیکھتا ہے، نہ کہ ظاہری شکل و صورت کو۔اخلاص کے ذریعے ہی بندہ اللہ کی رضا اور جنت کا مستحق بنتا ہے۔

(1) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی"۔(صحیح بخاری، حدیث: 1 ؛ صحیح مسلم، حدیث: 1907)

(2) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے کیا جائے"۔(سنن نسائی، حدیث: 3140)

(4) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے"۔(صحیح مسلم، حدیث: 2564)

(5) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (تین آدمیوں کا واقعہ):"قیامت کے دن سب سے پہلے شہید، عالم اور سخی کا حساب ہو گا، مگر ریاکاری کی وجہ سے انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا"۔(صحیح مسلم، حدیث: 1905)

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ۔ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ۔(سورۃ البینہ: 5)

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ(۱۱) ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ مجھے حکم ہے کہ اللہ کو پوجوں نرا اس کا بندہ ہوکر۔ (سورۃ الزمر: 11)

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ ترجمہ کنز الایمان: جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں ۔(سورۃ الشوریٰ: 20)

اخلاص دینِ اسلام کی بنیاد ہے۔ نیت کی پاکیزگی کے بغیر کوئی بھی عبادت یا نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ قبول نہیں۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے تمام اعمال کو ریاکاری سے بچا کر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے۔


 اِخلاص کی تعریف: ‏ ’’ کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ ‘‘ ( نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، ص 25 )

اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں اخلاص کے متعلق ارشاد فرماتا ہے :وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ، ہر باطل سے جدا ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ 30 ، سورةالبینہ 98 ، آیت 5 )

اس آیت مبارکہ میں اخلاص کے ساتھ شرک و نفاق سے دور رہ کر اللہ عزوجل کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع ( پیروکار) ہوکر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے ۔

آیے اب ہم اخلاص کی اہمیت حدیث کی روشنی میں ملاحظہ کرتے ہیں :

(1) اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے: روایت ہے عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے: کہ اعمال نیّتوں سے ہیں ہرشخص کے لئے وُہ ہی ہے جو نیّت کرے بس جس کی ہجرت اللہ و رسول کی طرف ہو تو اُس کی ہجرت اللہ ورسول ہی کی طرف ہوگی اور جس کی ہجرت دنیاحاصل کرنے یا عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہو اس کی ہجرت اس طرف ہوگی جس کے لئے کی ۔ ( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف جلد 1 ، ص 31 ، حدیث 1 )

(2) اللہ تبارک و تعالیٰ امت کی مدد فرماتا ہے:حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک ان کے والد سعد نے خیال کیا کہ انہیں اپنے سے کم درجہ صحابہ پر فضیلت حاصل ہے ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد فرماتا ہے کمزوروں کی دعا اور ان کی نماز اور ان کے اخلاص کی وجہ سے ۔ (عنایتہ الملھم شرح اتحاف المسلم ، ص29 )

( 3) اللہ رب العزت دلوں کی طرف دیکھتا ہے : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تمہارے جسموں کی طرف اور تمہاری صورتوں کی طرف نہیں دیکھتا لیکن وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا ہیں ۔ ( عنایتہ الملھم شرح اتحاف المسلم ، ص 31 )

(4) تھوڑا عمل ہی کافی ہے:حضور نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے ۔ ( فرض علوم ، اخلاص کا بیان ، ص 630)

(5) گناہ بخش دیئے جائے گے: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، روزے کا بیان ، ج 3 ، ص 145، حدیث 1862 )

اخلاص ایمان کی جان ہے ، عبادت کی زینت ہے اور ہر اعمال کی قبولیت کی کنجی ہے ، جو شخص اخلاص کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا قرب اور دائمی کامیابی سے ہمکنار ہو جاتا ہے ۔

امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں۔

مِرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو کر اِخلاص ایسا عطا یاالٰہی

عطا کردے اِخلاص کی مجھ کو نعمت نہ نزدیک آئے ریا یاالٰہی


پیارے پیارے اسلامی بھائیو!اسلام میں اعمال کی قبولیت کا دارومدار صرف ظاہری صورت پر نہیں بلکہ باطنی کیفیت یعنی نیت اور اخلاص پر ہے۔ دینِ اسلام کی روح یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام افعال و اقوال صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے کرے۔ چاہے وہ نماز ہو، روزہ، صدقہ یا کوئی بھی نیکی اگر وہ اللہ کی رضا کے بغیر، ریاکاری یا دنیاوی مقصد کے تحت کی جائے تو وہ عمل بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت نہیں پاتا۔ اخلاص ہی وہ معیار ہے جو معمولی عمل کو بھی عظیم بنا دیتا ہے۔

اخلاص کی تعریف:’’کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)

عمل میں اخلاص کے فوائد :(1)اعمال کی قبولیت (2)چھوٹا عمل بھی عظیم بن جاتا ہے۔ (3)ریاکاری سے نجات (4)اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے۔(5)دل کو سکون اور اطمینان ملتا ہے۔(6)قیامت کے دن نجات کا ذریعہ۔(7)دعا کی قبولیت۔

احادیث ِ اخلاص:نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اخلاص کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا :اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ، تھوڑا عمل بھی تمہارے لئے کافی ہوگا۔ (المستدرک ،کتاب الرقاق ، الحدیث ۷۹۱۴، ج۵ ،ص۴۳۵)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس حدیث پاک سے اخلاص کی اہمیت کا اندازا ہوجاتا ہے کے اخلاص کے ساتھ عمل یعنی صرف اللہ پاک کے لیے عمل کرنا وہ چاہے تھوڑا سا ئی عمل ہی کیوں نہ ہو بلکہ اگر اخلاص کے ساتھ اچھے کام کی نیت بھی کرلے تو بندہ کو اجر ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ آئیے اس سے متعلق بھی حدیث مبارکہ ملاحظہ کرتے ہیں: چناچہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے ۔ ‘‘ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲،ج ۶، ص۱۸۵)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس کے علاوہ بھی بہت ساری احادیث کریمہ اخلاص کی فضیلت پر دال ہیں ۔احادیث کریمہ میں اخلاص اختیار کرنے کا بھی فرمایا گیا ہے: چناچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عز وجل کے لئے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ عز وجل وہی عمل قبول فرماتا ہے جواس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ‘‘ (سنن الدارقطنی،کتاب الطہارت، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)

سرکار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اے لوگو! اللہ عز وجل کے لئے اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہ اللہ عز وجل وہی اعمال قبول فرماتاہے جو اس کے لئے اخلاص کے ساتھ کئے جاتے ہیں او ریہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہ عَزَّ وَجَلَّ اورر شتہ داری کی وجہ سے کیا ہے۔ ‘‘(سنن الدارقطنی،کتاب

الطہار ت ، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے احادیث کریمہ میں ملاحظہ کیا کے عمل وہی قبول ہوتا ہے جس میں اخلاص ہو اخلاص کے بغیر عمل قبول نہی ہوتا جس عمل میں ریا کاری ہو دکھاوا ہو وہ عمل رد کردیا جاتا ہے قیامت والے دن اس عمل کا کوئی فائدہ نہ ہوگا جس میں ریا کاری ہو اور اخلاص نہ ہو ۔اللہ پاک سے دعا ہے کے اللہ پاک ہمیں اپنے مخلص بندوں میں سے بنائےاخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائےصرف اور صرف اپنے لیے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیینﷺ۔


اخلاص یعنی نیت کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص رکھنا دین اسلام کا بنیادی ستون ہے۔ کوئی بھی عمل، چاہے وہ عبادت ہو یا خدمت خلق، اگر خالص اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو تو وہ قابلِ قبول نہیں۔ قرآن و حدیث میں اخلاص کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔

اخلاص کی تعریف: اخلاص کا مطلب ہے کہ انسان اپنے ہر قول و فعل، عبادت و معاملات میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصود بنائے، ریاکاری، دکھاوا، یا دنیاوی فائدہ اس میں شامل نہ ہو۔قرآن پاک میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا : مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ کنزالعرفان: اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ۔ (الاعراف:29)

اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی عبادت صرف اس کی رضا حاصل کرنے یا اس کے حکم کی بجا آوری کی نیت سے کی جائے ،اس میں کسی کو دکھانے یا سنانے کی نیت ہو، نہ اس میں کسی اور کو شریک کیا جائے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۲ / ۸۷، ملتقطاً)

اخلاص کی حقیقت اور عمل میں اخلاص کے فضائل: امام راغب اصفہانی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: اخلاص کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت (اور اس کی رضا جوئی) کے علاوہ ہر ایک کی عبادت( اور اس کی رضا جوئی) سے بری ہو جائے۔ (مفردات امام راغب، کتاب الخاء، ص۲۹۳)

کثیر احادیث میں اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کے فضائل بیان ہوئے ہیں :

اخلاص کی وجہ سے امت کی مدد:حضرت سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں ، ان کی نمازوں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے اِس امت کی مدد فرماتا ہے۔ (نسائی، کتاب الجہاد، الاستنصار بالضعیف، ص۵۱۸، الحدیث: ۳۱۷۵)

کوئی وصیت کیجیے:حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب تاجدارِ رسالت ص ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے عرض کی:یا رسولَ اللہ ! مجھے کوئی وصیت کیجئے۔ رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے دین میں اخلاص رکھو ،تمہا را تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔ (مستدرک، کتاب الرقاق، ۵ / ۴۳۵، الحدیث: ۷۹۱۴)

ترکِ اخلاص کی مذمت: جس طرح احادیث میں اخلاص کے فضائل بیان ہوئے ہیں اسی طرح ترک ِاخلاص کی بھی بکثرت مذمت کی گئی ہے:

(1) حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ قیامت کے دن مہر لگے ہوئے نامۂ اعمال لائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: ’’اس اعمال نامے کو قبول کر لواور اس اعمال نامے کو چھوڑ دو۔ فرشتے عرض کریں گے: تیری عزت کی قسم! ہم نے وہی لکھا ہے جو اس نے عمل کیا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا ’’تم نے سچ کہا، (مگر) اس کا عمل میری ذات کے لئے نہ تھا، آج میں صرف اسی عمل کو قبول کروں گا جو میری ذات کے لئے کیا گیا ہو گا۔ (معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد، ۴ / ۳۲۸، الحدیث: ۶۱۳۳)

اخلاص دین کا جوہر اور عمل کی روح ہے۔ بغیر اخلاص کے بڑے سے بڑا عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے، اور اخلاص کے ساتھ معمولی عمل بھی عظیم بن جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر عمل سے پہلے نیت درست کریں اور خالص اللہ کے لیے کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کی دولت عطا فرمائے اور ہمیں ریاکاری سے محفوظ رکھے، آمین۔


اخلاص ایک ایسا وصف ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کام کرنے کی توفیق عطا کرتا ہے جب ہم کسی کام کو اخلاص کے ساتھ کرتے ہیں تو ہمارے دل میں اس کام کی محبت اور اہمیت کا احساس ہوتا ہے اخلاص کے کچھ اہم پہلو یہ ہیں۔ نیت کی صفائی، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کام کرنا،دکھاوا اور شہرت سے بچنا، خلوص اور سچائی، اخلاص ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے اور ہمارے کاموں کو مقبول بناتا ہے۔

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اخلاص:احادیثِ نبوی ﷺ اخلاص کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں نیت کی صفائی اور خلوص کے ساتھ کیے گئے اعمال اللہ تعالیٰ کی نظر میں بہت قیمتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ظاہری شکل و صورت کی بجائے دل کی نیت اور اعمال کو دیکھتا ہے ۔اخلاص کے ساتھ کیا گیا عمل ہی قبول ہوتا ہے۔

اس واقعے سے معلوم ہوا کہ اخلاص کے ساتھ کیا ہوا عمل کبھی ضائع نہیں ہوتا اللہ پاک نیت کو دیکھتا ہے اور

اسی کے مطابق بہترین نتیجہ عطا فرماتا ہے۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ(۲)ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری تو اللہ کو کو پوجو نِرے اس کے بندے ہوکر۔ (سورۃ الزمر، آیت 2)

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ(۱۱) ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ مجھے حکم ہے کہ اللہ کو پوجوں نرا اس کا بندہ ہوکر۔ (سورۃ الزمر، آیت نمبر11)

عَنۡ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى المِنْبَرِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ترجمہ:اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔(صحیح البخاری: حدیث نمبر 1۔صحیح مسلم: حدیث نمبر 1907)


اخلاص وہ عظیم صفت ہے جو بندے کے ہر عمل کو اللہ تعالیٰ کے ہاں قیمتی بنا دیتی ہے۔ قرآن و حدیث دونوں میں اخلاص پر خاص زور دیا گیا ہے، کیونکہ بغیر اخلاص کے کوئی عبادت مقبول نہیں ہوتی۔ نیت کی درستگی ہی اصل کامیابی ہے۔ ظاہری اعمال اگرچہ زیادہ ہوں، مگر اخلاص کے بغیر وہ بے وزن ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے ایک مسلمان کی زندگی میں اخلاص کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جیسا کہ حضور جان عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا :اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔(صحیح بخاری حدیث 1 جلد ۱ صفحہ 3 دار ابن کثیر)

اخلاص کے بہت سے فضائل و فوائد احادیث مبارکہ میں منقول ہیں چنانچہ حضور جان عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا :حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے:‏’’ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمارے دلوں اور ‏تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے۔‏(مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ الخ، ص۱۳۸۷، الحدیث: ‏‏۳۴(۲۵۶۴)

لہذا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دل کی کیفیت و اخلاص دیکھا جاتا ہے نہ کہ فقط ظاہری ‏حالت۔ ‏

اسی طرح ‏حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اللہ وحدہ لا شریک کے لئے کامل اخلاص پر اور بلا شریک اس کی عبادت پر، نماز قائم کرنے پر اور زکوٰۃ دینے پر ہمیشہ عمل پیرا رہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گا اس کی موت اس حال میں ہو گی کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو گا۔ ‎‎(سنن ابن ماجہ :جلد 1 صفحہ 49 حديث 70 دار الرسالۃ العالمیۃ)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا گیا تو انہوں نے بارگاهِ رسالت مآب ﷺ میں عرض کیا : یا رسول اللہ! مجھے کوئی وصیت کیجئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : دین میں اخلاص پیدا کر، تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔ ( مستدرك على الصحيحين جلد 8 صفحہ 595 حديث 8041 دار الرسالۃ العالميۃ)

احادیث کریمہ میں جہاں اخلاص کے فضائل اور ترغیبات ہیں وہیں اخلاص سے عمل نہ کرنے بلکہ ریاکاری یا کسی اور سبب سے اعمال کرنے پر وعیدات بھی ہیں چنانچہ حدیث پاک میں ہے کہ حضور جان عالم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت میں لے ‏جانے کا حکم ہو گا، یہاں تک کہ جب وہ جنت کے قریب پہنچ کر اس کی خوشبو سونگھیں ‏گے اور اس کے محلات اور اہل جنت کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تیار کردہ نعمتیں دیکھ لیں ‏گے، تو ندا دی جائے گی : ’’ انہیں لوٹا دو کیونکہ ان کا جنت میں کوئی حصہ نہیں ۔ ‘‘ تو ‏وہ ایسی حسرت لے کر لوٹیں گے جیسی اولین وآخرین نے نہ پائی ہو گی، پھر وہ عرض ‏کریں گے : ’’ یارب عَزَّ وَجَلَّ ! اگر تو وہ نعمتیں دکھانے سے پہلے ہی ہمیں جہنم میں ‏داخل کر دیتا تو یہ ہم پر زیادہ آسان ہوتا۔ ‘‘ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’ بدبختو! ‏میں نے ارادۃً تمہارے ساتھ ایسا کیا ہے جب تم تنہائی میں ہوتے تو میرے ساتھ اعلانِ جنگ ‏کرتے اور جب لوگوں کے سامنے ہوتے تو میری بارگاہ میں دوغلے پن سے حاضر ہوتے، ‏نیز لوگوں کے دکھلاوے کے لئے عمل کر تے جبکہ تمہارے دلوں میں میری خاطر اس ‏کے بالکل برعکس صورت ہوتی، لوگوں سے محبت کرتے اور مجھ سے محبت نہ کرتے، ‏لوگوں کی عزت کرتے اور میری عزت نہ کرتے، لوگوں کے لئے عمل چھوڑ دیتے مگر ‏میرے لئے برائی نہ چھوڑتے تھے، آج میں تمہیں اپنے ثواب سے محروم کرنے کے ساتھ ‏ساتھ اپنے عذاب کامزہ بھی چکھاؤں گا۔ ‘‘ ‏ (المعجم الاوسط،الحدیث: ۵۴۷۸،ج۴،ص۱۳۵،مختصراً)

اسی طرح حضور جان عالم ﷺ کا فرمان ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی طالب شہرت ریاکار اور لہوولعب میں پڑے رہنے والے کا کوئی عمل قبول نہیں فرماتا۔ (حلیۃ الاولیاء،الربیع بن حثیم ، الحدیث: ۱۷۳۲،ج۲،ص۱۳۹)

ایک اور حدیث مبارکہ میں حضور جان عالم ﷺ نے فرمایا ‏:جب قیامت کا دن آئے گا تو ایک منادی جمع ہونے والوں کو ندا دے گاکہ لوگوں کو پوجنے ‏والے کہاں ہیں ؟ کھڑے ہوجاؤ اور جن کے لئے تم عمل کرتے تھے ان سے جا کر اپنا اَجر ‏وصول کرو کیونکہ میں ایسا کوئی عمل قبول نہیں کرتا جس میں دنیا یا اس کے کسی فرد ‏کا دخل ہو۔ ‏ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۲۴۷۶،ج۱،ص۳۶۱)‏

بے شک اخلاص کے بغیر ہر نیکی بے روح اور بے وزن ہو جاتی ہے، اور اخلاص کے ‏ساتھ معمولی عمل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم بن جاتا ہے۔ بندۂ مومن کو چاہیے کہ اپنے ہر ‏قول و فعل میں نیت کی اصلاح کرتا رہے، کیونکہ قبولیت کا دارومدار اسی پر ہے۔ ریا، ‏شہرت اور دکھاوے سے بچ کر خالص اللہ کی رضا کو مقصد بنانا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ ‏جو شخص اخلاص کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ دنیا میں سکون اور آخرت میں نجات پا لیتا ‏ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچی نیت اور کامل اخلاص کے ساتھ اپنی رضا والے کام کرنے کی ‏توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔ ‏


   اخلاص اسلام کی بنیادی روح ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے، نہ دکھاوے کے لیے، نہ تعریف کے لیے اور نہ ہی کسی دنیوی فائدے کے لیے۔ جس عمل میں اخلاص نہ ہو وہ اللہ کے نزدیک قابلِ قبول نہیں ہوتا، چاہے وہ بظاہر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

(1) وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ۔(سورۃ البینہ: 5)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عبادت کی اصل شرط اخلاص ہے۔ عبادت ہو یا کوئی نیک عمل، اگر وہ خالص اللہ کے لیے نہ ہو تو اس کی کوئی قدر نہیں۔

(2) قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ(۱۴) ترجمہ کنز العرفان: تم فرماؤ :میں اللہ ہی کی عبادت کرتاہوں خالص اس کا بندہ ہوکر۔ (سورۃ الزمر: 14)

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک مومن کی زندگی کا مقصد اللہ کی عبادت اور اس کے لیے اخلاص اختیار کرنا ہے۔

ایمان اور نظر کے اعتبار سے اخلاص:ایمان کا کمال اخلاص میں ہے۔ جب بندہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور دلوں کے بھید جانتا ہے تو وہ اپنے اعمال کو خالص بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اخلاص دراصل دل کی وہ کیفیت ہے جس میں بندہ صرف اللہ کی رضاکو اہم سمجھتا ہے، لوگوں کی نہیں۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عمل کی قبولیت کا اصل معیار نیت ہے، اور نیت کا خالص ہونا ہی اخلاص کہلاتا ہے۔

(1)تین آدمی اور غار:تین آدمی سفر میں تھے، بارش کی وجہ سے ایک غار میں پناہ لی۔ اچانک ایک بڑا پتھر غار کے منہ پر آ گرا اور راستہ بند ہو گیا۔ تینوں نے صرف اللہ کے لیے خالص نیت کے ساتھ کیے گئے اعمال کا واسطہ دے کر دعا کی۔ ہر ایک نے اپنا ایک خالص عمل پیش کیا، تو اللہ تعالیٰ نے پتھر کو ہٹا دیا اور وہ سب نجات پا گئے۔(صحیح البخاری،احادیث الانبیاء،باب: حدیث الغار،حدیث نمبر: 2272) (صحیح مسلم،کتاب: الذکر والدعاء،حدیث نمبر: 2743)

یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت مقبول ہوتا ہے اور وہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی نجات کا سبب بنتا ہے۔اخلاص دینِ اسلام کی بنیاد اور روح ہے۔ قرآن و حدیث دونوں میں اخلاص پر زور دیا گیا ہے۔ ایمان کی مضبوطی اخلاص سے ہی ممکن ہے۔ بغیر اخلاص کے نہ عبادت قبول ہوتی ہے اور نہ نیکی کا اجر ملتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے تمام اعمال میں اخلاص کو اختیار کرے اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائے۔


زندگی کے اس پرفتن دور میں نیکیاں کرنا دشوار ہوتا چلا جا رہا ہے معاشرے کی اکثریت ہمیں گناہوں میں مبتلا نظر آرہی ہے چاہے وہ چھوٹی سی چھوٹی نیکی ہو یا بڑی سے بڑی ہر عمل میں کوتاہیاں ہی نظر آرہی ہیں اگر ہم میں سے کوئی شخص نیکیوں پر قادر بھی ہو جائے تو وہ اپنے اعمال میں اپنے اس فعل میں محض لوگوں کی واہ واہ کے لیے حب جاہ کے لیے کرتا ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ اگر ہم اپنے رب عزوجل سے رشتہ جوڑنا چاہتے ہیں تعلق جو ڑنا چاہتے ہیں تو اپنے عمل میں اپنے افعال میں اپنے معاملات میں اخلاص کو جگہ دے اخلاص کو اجاگر کریں کیونکہ کوئی بھی عمل کوئی بھی نیکی ہماری اخلاص کے بغیر قابل قبول نہیں اخلاص کے بغیر اس کا کوئی درجہ نہیں ۔

اخلاص کی تعریف: کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الہی حاصل کرنے کا ارادہ کرنا اخلاص ہے۔

(1) وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ30،البینہ:5)

(2) مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ-وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ(۲۰) ترجمہ کنز الایمان: جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اُس کا کچھ حصہ نہیں ۔ (پارہ 25 سورۃ الشوری آیت نمبر 20)

(1)حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)

(2) سرکار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اے لوگو اللہ عزوجل کے لیے اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہ اللہ عزوجل وہی اعمال قبول فرماتا ہے جو اس کے لیے اخلاص کے ساتھ کیےجاتے ہیں اور یہ نہ کہو کہ یہ عمل اللہ عزوجل کے لیے اور رشتے داری کے لیے۔( سنن دار قطنی ج1ص73 حدیث130)

(3) حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم میں سے کوئی شخص کسی ایسی سخت چٹان میں کوئی عمل کرے جس کا نہ تو کوئی دروازہ ہو اور نہ ہی روشندان تب بھی اس کا عمل ظاہر ہو جائے گا اور جو ہونا ہے ہو کر رہے گا۔( مسند امام احمد بن حنبل ج4ص57 حدیث1123)

لہذا آیت کریمہ اور احادیث مبارکہ سے یہ بات اور واضح ہو چکی ہے کہ اگر ہمارے نیک اعمال میں اخلاص نہیں تو کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں اسی لیے ہمیں چاہیے کہ نیکیاں کریں تو ان کو اس طرح چھپا کر کریں کہ جس طرح ہم اپنے گناہوں کو چھپاتے ہیں اس سے ہماری نیکیوں میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا اور اخلاص بھی شامل حال ہوگا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے نیک اعمال میں اخلاص پیدا کریں تو ہمیں چاہیے کہ ان طریقوں پر عمل کریں :(1)اپنی نیت درست کیجیے(2)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے(4)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے(5)اِخلاص کے فضائل کو پیش نظر رکھیے(6)اپنے گناہوں کو یاد رکھیے( 7)اپنی نیکیوں کو چھپائیں۔

ان شاءاللہ اگر ان مختصر طریقوں پر آپ عمل پیرا ہو گئے تو آپ کے نیک اعمال میں اخلاص ہی اخلاص ہوگا نیکیاں کرتے رہیں چاہے وہ چھوٹی سی چھوٹی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ ہمیں نہیں پتہ کہ ہمارا کون سا عمل رب عزوجل کی بارگاہ میں قبول ہو جائے اور ہماری بخشش کا ذریعہ بن جائے اپنے رب عزوجل سے اٹھتے بیٹھتے یہی دعا کرتے رہیں کہ یہی اپنا ذہن بنا لیں کہ:

میرا ہر عمل بس تیرے واسطے ہو کر اخلاص ایسا عطا یا الہی


اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں اعمال کی ظاہری صورت کے ساتھ ساتھ نیت کی کیفیت کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ انسان کے ہر عمل کی قبولیت کا دار و مدار صرف اس کے ظاہر پر نہیں بلکہ اس نیت پر ہے جو دل میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسی خالص نیت کو اسلام کی اصطلاح میں اخلاص کہا جاتا ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے ہر قول و فعل میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو پیشِ نظر رکھے، نہ کہ دکھاوا، شہرت یا دنیاوی مفاد۔

بعض اوقات بغیر اخلاص کے بڑے سے بڑا عمل بھی قابل قبول نہیں ہوتا جبکہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی اجرِ عظیم کا سبب بن جاتا ہے۔ لہٰذا اخلاص وہ بنیاد ہے جس پر ایک مومن کی عبادات، اخلاق اور کردار کی عمارت قائم ہوتی ہے۔قرآن پاک میں مختلف مقامات پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اخلاص کے فضائل بیان فرمائے ہیں :اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ۰ ۳، البینہ: ۵)

احادیث کریمہ میں مختلف مقامات پر حضور علیہ السلام نے اپنے غلاموں کو اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کے بارے میں ارشاد فرمایا چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہیں:

اعمال کامدار نیت پر :حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اعمال کے ثواب کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ ‘‘

(صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال الخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)

دل روشن ہوجات ہے: سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے ۔ ‘‘ (المعجم الکبیر ، الحدیث: ۵۹۴۲،ج۶،ص۱۸۵)

افضل عمل: شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)

اسکے علاوہ اور بھی کئی مقامات پر حضور ﷺنے اخلاص کے فضائل بیان فرمائے ہیں۔ اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہیں کہ اللہ تبارک وتعالی ہمیں اخلاص کے ساتھ اعمال کر نے اور ریاکاری جیسے کبیرہ گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔


اخلاص کی تعریف: ہر چیز میں غیر کی آمیزش ہو سکتی ہے ۔ جب وہ چیز غیر کی آمیزش سے پاک صاف ہو تو اسکو اخلاص کہتے ہیں۔(احیاءالعلوم جلد5،ص264،مکتبۃ المدینہ)

اخلاص کو دین اسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔اسکی ضد ریاکاری ہے ۔ اور ریاکار انسان گناہگار اور عذاب نار کا حقدار ہے۔ اور مخلصین کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائیاں ہیں۔آئیں حدیث کی روشنی میں اخلاص کی اہمیت جانتے ہیں۔

(1) نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تین باتیں ایسی ہیں جن پر بندۂ مومن کا دل خیانت نہیں کرتا (1) خالص اللہ عزوجل کے لئے عمل کرنا (۲) حکمرانوں کی خیر خواہی اور(۳) (مسلمانوں کی) جماعت کو لازم پکڑنا۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنہ ،جلد1،ص151،حدیث230)

(2) حضرت سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میرے والد ماجد حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی الله تعالی عنہ کو گمان ہوا کہ انہیں مال دار صحابہ پر فضیلت حاصل ہے تو مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ تعالٰی علیہ وَالہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الله عزوجل نے اس امت کی ان کے ناتوانوں ، ان کی دعا، اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد فرمائی ہے۔(سنن النسائی ،جلد 2 ،حدیث3178،ص489)

(3)حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رَحمۃ اللهِ القوی فرماتے ہیں: رسول الله صَلَّى اللهُ تَعَالَى علیہ وَالِہ وَسلم نے ارشاد فرمایا: الله پاک ارشاد فرماتا ہے : اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں۔(فردوس الاخبار،2/145،حدیث4539)

(4)امير المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضى رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قلت عمل کی فکر نہ کرد بلکہ قبولیت عمل کی فکر کرو کیونکہ حضور نبی پاک ، صاحِبِ لولاک صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی الله تعالى عنہ سے فرمایا: اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہو گا۔ (نوادرالاصول،الاصل السادس، 1/44،حدیث45 بتغیرقلیل)

(5)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو آدمی چالیس روز تک محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اخلاص اختیار کرتا ہے تو اس کے دل کے ذریعے اس کی زبان پر علم و حکمت کے چشمے جاری کر دیے جاتے ہیں۔(الترغیب والترہیب مترجم،جلد 1 ،حدیث13 ،ص 35)

اللہ پاک ہمیں اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبین ﷺ


 اِخلاص کی تعریف:‏کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔

اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اِخلاص ہے۔

(1) تھوڑا عمل بھی کافی:‏حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نجات دلانے والے اعمال صفحہ26)

(2) اخلاص پیدا کرو :حضرت سیدنا ضحاك بن قيس رضى الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :کہ اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے: کہ میں شرک سے پاک ہوں لہذا جس نے میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ میرے شریک کے لیے ہیں اے لوگو اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ تعالی صرف اخلاص کے ساتھ کیے جانے والے اعمال ہی کو قبول فرماتا ہے ۔(مجمع الزوائدکتاب الزھدباب ما جاء فی اریاء ،رقم 17653،جلد10، صفہ379)

(3) ا پنے دین میں مخلص ہوں جاؤ :حضرت سیدنا ابو عمران رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ نے یمن کی طرف بھیجے جاتے وقت عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تَعَالٰی علیہ وسلم مجھے کچھ نصیحت فرمایے نبی مکرم نورمجسم رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے دین میں مخلص ہوں جاؤ تھوڑا عمل بھی تمہیں کفایت کرے گا ۔(جنت میں لے جانے والے اعمال، باب اخلاص کابیان ،صفحہ708،حدیث نمبر 2020)

( 4) حضرت سیدنا مسعد بن صعب اپنے والد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب میں نے یہ گمان کیا کہ مجھے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کچھ فضیلت حاصل ہے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں نمازوں اور اخلاص کے سبب اس امت کی مدد کی جاتی ہے ۔(نسائی، کتاب الجھاد، باب الاستنصار بالضیف، جلد 6صفہ45)

(5)اجر شہرت کے لیے جہاد کرتا ہے :سیدنا ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نور کےپیکر دو جہاں کے تاجور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوں کر عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جواجر اور شہرت کے لیے جہاد کرتا ہے اس کے لیے کیا ہےرسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لیے کچھ نہیں اس نے تین مرتبہ یہی عرض کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے کہ اس کےلیے اس میں کچھ نہیں پھر فرمایا کہ اللہ عزوجل صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جواخلاص اور اللہ عزوجل کی رضا کے لیے کیا جاتا ہے ۔( نسائی کتاب الجھاد باب من غزلیات الاجرولزکر جلد 6صفہ25)اللہ پاک ہم سب کو اخلاص عطا فرمائے آمین بجاہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔


اسلام ایک جامع دین ہے جو انسان کی ظاہری اصلاح کے ساتھ اس کے باطن کی بھی تربیت کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں اعمال کی ظاہری کثرت کے بجائے ان کی باطنی کیفیت کو اصل معیار قرار دیا گیا ہے، اور اس کیفیت کا نام اخلاص ہے۔ اخلاص سے مراد یہ ہے کہ بندہ اپنے ہر قول، فعل، عبادت اور معاملے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصود بنائے، نہ کہ لوگوں کی تعریف یا دنیاوی فائدہ۔ اسی لیے اخلاص کو اعمال کی روح کہا گیا ہے۔نبی کریم ﷺ نے اخلاص کی بنیاد کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا۔

چُنانچہ حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی، حدیث: 1؛ صحیح مسلم، کتاب الإمارة، حدیث: 1907)

اس حدیث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہر عمل کی قبولیت کا انحصار نیت پر ہے۔ اگر نیت خالص ہو تو چھوٹا عمل بھی عظیم بن جاتا ہے، اور اگر نیت فاسد ہو تو بڑا عمل بھی ضائع ہو جاتا ہے۔

اخلاص کے ساتھ عمل کرنا مومن کی نشانی ہے جب بندہ اللہ عزوجل کے لیے عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں جو شخص اللہ عزوجل کے لیے عمل کرنے والا ہو وہ شیطان کے مکر وفریب سے بچ جاتا ہے اور اس کی دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں ۔ہمارے اسلاف و بزرگانِ دین بھی اپنے روز مرہ کے اعمال حسنہ میں نیتِ رضائے الہٰی اور اعمال کو بجا لانے میں اخلاص کو فوقیت دیتےتھے ۔

جبکہ اسکا برعکس عمل ریاکاری ہے اور احادیثِ مبارکہ میں ریاکاری کی سخت مذمت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں وارد حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں، جو عمل میرے ساتھ کسی اور کو شریک کر کے کیا جائے، میں اسے چھوڑ دیتا ہوں۔ (صحیح مسلم، کتاب الزهد والرقائق، حدیث: 2985)

اسی طرح قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کا حساب لیا جائے گا ان میں عالم، قاری اور سخی شامل ہوں گے، جنہوں نے اپنے اعمال اللہ کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کو دکھانے کے لیے کیے تھے۔ (صحیح مسلم، کتاب الامارة، حدیث: 1905) یہ حدیث اخلاص کی اہمیت اور ریا کے خطرے کو واضح کرتی ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے اخلاص کو نجات کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر جہنم حرام کر دی ہے جو خالص اللہ کی رضا کے لیے لا إلہ إلا اللہ کہے۔(صحیح بخاری، کتاب الصلاة، حدیث: 425؛ صحیح مسلم، کتاب المساجد، حدیث: 33)۔

الغرض حدیثِ پاک کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ اخلاص کے بغیر کوئی عبادت یا نیک عمل اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی نیت کی اصلاح کرے اور زندگی کے ہر شعبے میں اخلاص کو اپنائے، کیونکہ یہی فلاح اور کامیابی کی اصل بنیاد ہے۔