محمد
عبید رضا العطاری(درجہ ثالثہ جامعۃ
المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
زندگی کے اس پرفتن دور میں نیکیاں کرنا دشوار ہوتا چلا
جا رہا ہے معاشرے کی اکثریت ہمیں گناہوں میں مبتلا نظر آرہی ہے چاہے وہ چھوٹی سی
چھوٹی نیکی ہو یا بڑی سے بڑی ہر عمل میں کوتاہیاں ہی نظر آرہی ہیں اگر ہم میں سے
کوئی شخص نیکیوں پر قادر بھی ہو جائے تو وہ اپنے اعمال میں اپنے اس فعل میں محض
لوگوں کی واہ واہ کے لیے حب جاہ کے لیے کرتا ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ اگر ہم اپنے رب
عزوجل سے رشتہ جوڑنا چاہتے ہیں تعلق جو ڑنا چاہتے ہیں تو اپنے عمل میں اپنے افعال
میں اپنے معاملات میں اخلاص کو جگہ دے اخلاص کو اجاگر کریں کیونکہ کوئی بھی عمل
کوئی بھی نیکی ہماری اخلاص کے بغیر قابل قبول نہیں اخلاص کے بغیر اس کا کوئی درجہ
نہیں ۔
اخلاص کی تعریف:
کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الہی حاصل کرنے کا ارادہ کرنا اخلاص ہے۔
(1) وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (پ30،البینہ:5)
(2) مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ
الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ-وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا
نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ(۲۰) ترجمہ
کنز الایمان: جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں اور جو دنیا
کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اُس کا کچھ حصہ نہیں ۔
(پارہ 25 سورۃ الشوری آیت نمبر 20)
(1)حضورنبی کریم
عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی
تمہیں کافی ہے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
(2) سرکار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا
:اے لوگو اللہ عزوجل کے لیے اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہ اللہ عزوجل وہی اعمال
قبول فرماتا ہے جو اس کے لیے اخلاص کے ساتھ کیےجاتے ہیں اور یہ نہ کہو کہ یہ عمل
اللہ عزوجل کے لیے اور رشتے داری کے لیے۔( سنن دار قطنی ج1ص73 حدیث130)
(3) حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر
تم میں سے کوئی شخص کسی ایسی سخت چٹان میں کوئی عمل کرے جس کا نہ تو کوئی دروازہ
ہو اور نہ ہی روشندان تب بھی اس کا عمل ظاہر ہو جائے گا اور جو ہونا ہے ہو کر رہے
گا۔( مسند امام احمد بن حنبل ج4ص57 حدیث1123)
لہذا آیت کریمہ اور احادیث مبارکہ سے یہ بات اور واضح
ہو چکی ہے کہ اگر ہمارے نیک اعمال میں اخلاص نہیں تو کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں اسی
لیے ہمیں چاہیے کہ نیکیاں کریں تو ان کو اس طرح چھپا کر کریں کہ جس طرح ہم اپنے
گناہوں کو چھپاتے ہیں اس سے ہماری نیکیوں میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا اور اخلاص بھی
شامل حال ہوگا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے نیک اعمال میں اخلاص پیدا کریں تو ہمیں
چاہیے کہ ان طریقوں پر عمل کریں :(1)اپنی نیت درست کیجیے(2)دُنیوی اَغراض کو دُور
کیجئے(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے(4)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے(5)اِخلاص
کے فضائل کو پیش نظر رکھیے(6)اپنے گناہوں کو یاد رکھیے( 7)اپنی نیکیوں کو چھپائیں۔
ان شاءاللہ اگر ان مختصر طریقوں پر آپ عمل پیرا ہو گئے
تو آپ کے نیک اعمال میں اخلاص ہی اخلاص ہوگا نیکیاں کرتے رہیں چاہے وہ چھوٹی سی چھوٹی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ ہمیں نہیں
پتہ کہ ہمارا کون سا عمل رب عزوجل کی بارگاہ میں قبول ہو جائے اور ہماری بخشش کا
ذریعہ بن جائے اپنے رب عزوجل سے اٹھتے بیٹھتے یہی دعا کرتے رہیں کہ یہی اپنا ذہن
بنا لیں کہ:
میرا
ہر عمل بس تیرے واسطے ہو کر اخلاص ایسا
عطا یا الہی
Dawateislami