اِخلاص کی تعریف:‏کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔

اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اِخلاص ہے۔

(1) تھوڑا عمل بھی کافی:‏حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نجات دلانے والے اعمال صفحہ26)

(2) اخلاص پیدا کرو :حضرت سیدنا ضحاك بن قيس رضى الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :کہ اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے: کہ میں شرک سے پاک ہوں لہذا جس نے میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ میرے شریک کے لیے ہیں اے لوگو اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ تعالی صرف اخلاص کے ساتھ کیے جانے والے اعمال ہی کو قبول فرماتا ہے ۔(مجمع الزوائدکتاب الزھدباب ما جاء فی اریاء ،رقم 17653،جلد10، صفہ379)

(3) ا پنے دین میں مخلص ہوں جاؤ :حضرت سیدنا ابو عمران رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ نے یمن کی طرف بھیجے جاتے وقت عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تَعَالٰی علیہ وسلم مجھے کچھ نصیحت فرمایے نبی مکرم نورمجسم رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے دین میں مخلص ہوں جاؤ تھوڑا عمل بھی تمہیں کفایت کرے گا ۔(جنت میں لے جانے والے اعمال، باب اخلاص کابیان ،صفحہ708،حدیث نمبر 2020)

( 4) حضرت سیدنا مسعد بن صعب اپنے والد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب میں نے یہ گمان کیا کہ مجھے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کچھ فضیلت حاصل ہے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں نمازوں اور اخلاص کے سبب اس امت کی مدد کی جاتی ہے ۔(نسائی، کتاب الجھاد، باب الاستنصار بالضیف، جلد 6صفہ45)

(5)اجر شہرت کے لیے جہاد کرتا ہے :سیدنا ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نور کےپیکر دو جہاں کے تاجور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوں کر عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جواجر اور شہرت کے لیے جہاد کرتا ہے اس کے لیے کیا ہےرسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لیے کچھ نہیں اس نے تین مرتبہ یہی عرض کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے کہ اس کےلیے اس میں کچھ نہیں پھر فرمایا کہ اللہ عزوجل صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جواخلاص اور اللہ عزوجل کی رضا کے لیے کیا جاتا ہے ۔( نسائی کتاب الجھاد باب من غزلیات الاجرولزکر جلد 6صفہ25)اللہ پاک ہم سب کو اخلاص عطا فرمائے آمین بجاہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔