اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں اعمال کی ظاہری صورت کے
ساتھ ساتھ نیت کی کیفیت کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ انسان کے ہر عمل کی قبولیت
کا دار و مدار صرف اس کے ظاہر پر نہیں بلکہ اس نیت پر ہے جو دل میں پوشیدہ ہوتی
ہے۔ اسی خالص نیت کو اسلام کی اصطلاح میں اخلاص کہا جاتا ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے
کہ بندہ اپنے ہر قول و فعل میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو پیشِ نظر رکھے، نہ کہ
دکھاوا، شہرت یا دنیاوی مفاد۔
بعض
اوقات بغیر اخلاص کے بڑے سے بڑا عمل بھی قابل قبول نہیں ہوتا جبکہ اخلاص کے ساتھ کیا
گیا چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی اجرِ عظیم کا سبب بن جاتا ہے۔ لہٰذا اخلاص وہ بنیاد ہے
جس پر ایک مومن کی عبادات، اخلاق اور کردار کی عمارت قائم ہوتی ہے۔قرآن پاک میں
مختلف مقامات پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اخلاص کے فضائل بیان فرمائے ہیں :اللہ
تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ
الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ
دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو
ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو
کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ۰ ۳، البینہ: ۵)
احادیث کریمہ میں
مختلف مقامات پر حضور علیہ السلام نے اپنے غلاموں کو اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کے
بارے میں ارشاد فرمایا چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہیں:
اعمال کامدار نیت پر :حضور
نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اعمال کے ثواب
کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت
اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی
عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت
کی۔ ‘‘
(صحیح البخاری ،
کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال الخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)
دل روشن ہوجات ہے: سیِّدُ
المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین ﷺ کا
فرمانِ عالیشان ہے : ’’ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی
نیت سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی
عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے ۔ ‘‘ (المعجم الکبیر ، الحدیث: ۵۹۴۲،ج۶،ص۱۸۵)
افضل عمل: شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین،
سراجُ السالکین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)
اسکے علاوہ اور بھی کئی مقامات پر حضور ﷺنے اخلاص کے
فضائل بیان فرمائے ہیں۔ اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہیں کہ اللہ تبارک وتعالی ہمیں
اخلاص کے ساتھ اعمال کر نے اور ریاکاری جیسے کبیرہ گناہ سے بچنے کی توفیق عطا
فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔
Dawateislami