پیارے پیارے اسلامی بھائیو!اسلام میں اعمال کی قبولیت کا
دارومدار صرف ظاہری صورت پر نہیں بلکہ باطنی کیفیت یعنی نیت اور اخلاص پر ہے۔ دینِ
اسلام کی روح یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام افعال و اقوال صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے
کرے۔ چاہے وہ نماز ہو، روزہ، صدقہ یا کوئی بھی نیکی اگر وہ اللہ کی رضا کے بغیر، ریاکاری
یا دنیاوی مقصد کے تحت کی جائے تو وہ عمل بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت نہیں
پاتا۔ اخلاص ہی وہ معیار ہے جو معمولی عمل کو بھی عظیم بنا دیتا ہے۔
اخلاص کی تعریف:’’کسی بھی نیک عمل میں
محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘(نجات دلانے والے
اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)
عمل میں اخلاص کے فوائد :(1)اعمال
کی قبولیت (2)چھوٹا عمل بھی عظیم بن
جاتا ہے۔ (3)ریاکاری سے نجات (4)اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے۔(5)دل کو سکون اور
اطمینان ملتا ہے۔(6)قیامت کے دن نجات کا ذریعہ۔(7)دعا کی قبولیت۔
احادیث ِ اخلاص:نبی پاک صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے اخلاص کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا :اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ،
تھوڑا عمل بھی تمہارے لئے کافی ہوگا۔ (المستدرک ،کتاب الرقاق ، الحدیث ۷۹۱۴، ج۵ ،ص۴۳۵)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس حدیث پاک سے اخلاص کی اہمیت
کا اندازا ہوجاتا ہے کے اخلاص کے ساتھ عمل یعنی صرف اللہ پاک کے لیے عمل کرنا وہ
چاہے تھوڑا سا ئی عمل ہی کیوں نہ ہو بلکہ اگر اخلاص کے ساتھ اچھے کام کی نیت بھی
کرلے تو بندہ کو اجر ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ آئیے اس سے متعلق بھی حدیث مبارکہ
ملاحظہ کرتے ہیں: چناچہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمانِ عالیشان
ہے : ’’ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے
اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے
تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے ۔ ‘‘ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲،ج ۶، ص۱۸۵)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس کے علاوہ بھی بہت ساری
احادیث کریمہ اخلاص کی فضیلت پر دال ہیں ۔احادیث کریمہ میں اخلاص اختیار کرنے کا
بھی فرمایا گیا ہے: چناچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے :
’’ اللہ عز وجل کے لئے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ عز وجل وہی عمل
قبول فرماتا ہے جواس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ‘‘ (سنن الدارقطنی،کتاب
الطہارت، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)
سرکار صلی اللہ
تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اے لوگو! اللہ عز وجل کے لئے
اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہ اللہ عز وجل وہی اعمال قبول فرماتاہے جو اس کے لئے
اخلاص کے ساتھ کئے جاتے ہیں او ریہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہ عَزَّ
وَجَلَّ اورر شتہ داری کی وجہ سے کیا ہے۔ ‘‘(سنن الدارقطنی،کتاب
الطہار ت ، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے احادیث کریمہ میں
ملاحظہ کیا کے عمل وہی قبول ہوتا ہے جس میں اخلاص ہو اخلاص کے بغیر عمل قبول نہی
ہوتا جس عمل میں ریا کاری ہو دکھاوا ہو وہ عمل رد کردیا جاتا ہے قیامت والے دن اس
عمل کا کوئی فائدہ نہ ہوگا جس میں ریا کاری ہو اور اخلاص نہ ہو ۔اللہ پاک سے دعا
ہے کے اللہ پاک ہمیں اپنے مخلص بندوں میں سے بنائےاخلاص کی دولت سے مالا مال
فرمائےصرف اور صرف اپنے لیے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیینﷺ۔
Dawateislami