اخلاص اسلام کی بنیادی روح ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے، نہ دکھاوے کے لیے، نہ تعریف کے لیے اور نہ ہی کسی دنیوی فائدے کے لیے۔ جس عمل میں اخلاص نہ ہو وہ اللہ کے نزدیک قابلِ قبول نہیں ہوتا، چاہے وہ بظاہر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

(1) وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ۔(سورۃ البینہ: 5)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عبادت کی اصل شرط اخلاص ہے۔ عبادت ہو یا کوئی نیک عمل، اگر وہ خالص اللہ کے لیے نہ ہو تو اس کی کوئی قدر نہیں۔

(2) قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ(۱۴) ترجمہ کنز العرفان: تم فرماؤ :میں اللہ ہی کی عبادت کرتاہوں خالص اس کا بندہ ہوکر۔ (سورۃ الزمر: 14)

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک مومن کی زندگی کا مقصد اللہ کی عبادت اور اس کے لیے اخلاص اختیار کرنا ہے۔

ایمان اور نظر کے اعتبار سے اخلاص:ایمان کا کمال اخلاص میں ہے۔ جب بندہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور دلوں کے بھید جانتا ہے تو وہ اپنے اعمال کو خالص بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اخلاص دراصل دل کی وہ کیفیت ہے جس میں بندہ صرف اللہ کی رضاکو اہم سمجھتا ہے، لوگوں کی نہیں۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عمل کی قبولیت کا اصل معیار نیت ہے، اور نیت کا خالص ہونا ہی اخلاص کہلاتا ہے۔

(1)تین آدمی اور غار:تین آدمی سفر میں تھے، بارش کی وجہ سے ایک غار میں پناہ لی۔ اچانک ایک بڑا پتھر غار کے منہ پر آ گرا اور راستہ بند ہو گیا۔ تینوں نے صرف اللہ کے لیے خالص نیت کے ساتھ کیے گئے اعمال کا واسطہ دے کر دعا کی۔ ہر ایک نے اپنا ایک خالص عمل پیش کیا، تو اللہ تعالیٰ نے پتھر کو ہٹا دیا اور وہ سب نجات پا گئے۔(صحیح البخاری،احادیث الانبیاء،باب: حدیث الغار،حدیث نمبر: 2272) (صحیح مسلم،کتاب: الذکر والدعاء،حدیث نمبر: 2743)

یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت مقبول ہوتا ہے اور وہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی نجات کا سبب بنتا ہے۔اخلاص دینِ اسلام کی بنیاد اور روح ہے۔ قرآن و حدیث دونوں میں اخلاص پر زور دیا گیا ہے۔ ایمان کی مضبوطی اخلاص سے ہی ممکن ہے۔ بغیر اخلاص کے نہ عبادت قبول ہوتی ہے اور نہ نیکی کا اجر ملتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے تمام اعمال میں اخلاص کو اختیار کرے اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائے۔