اخلاص کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال صرف اللہ
تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے۔نیت کی درستگی کے بغیر کوئی بھی عمل اللہ کے ہاں
قبول نہیں ہوتا۔اخلاص اعمال کو وزن اور روح عطا کرتا ہے، ورنہ عمل ظاہری ہونے کے
باوجود بے فائدہ رہتا ہے۔ریاکاری اخلاص کی ضد ہے، جو اعمال کو ضائع کر دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ بندے کے دل اور نیت کو دیکھتا ہے، نہ کہ ظاہری شکل و صورت کو۔اخلاص کے
ذریعے ہی بندہ اللہ کی رضا اور جنت کا مستحق بنتا ہے۔
(1) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا
جس کی اس نے نیت کی"۔(صحیح بخاری، حدیث: 1 ؛ صحیح مسلم، حدیث: 1907)
(2) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ صرف وہی
عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے کیا جائے"۔(سنن نسائی، حدیث: 3140)
(4) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تمہاری صورتوں اور
مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے"۔(صحیح مسلم،
حدیث: 2564)
(5) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (تین آدمیوں کا
واقعہ):"قیامت کے دن سب سے پہلے شہید، عالم اور سخی کا حساب ہو گا، مگر ریاکاری
کی وجہ سے انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا"۔(صحیح مسلم، حدیث: 1905)
وَ
مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ۔ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ۔(سورۃ البینہ: 5)
قُلْ
اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ(۱۱) ترجمہ
کنز الایمان: تم فرماؤ مجھے حکم ہے کہ اللہ کو پوجوں نرا اس کا بندہ ہوکر۔ (سورۃ
الزمر: 11)
مَنْ
كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ ترجمہ
کنز الایمان: جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں ۔(سورۃ
الشوریٰ: 20)
اخلاص دینِ اسلام کی بنیاد ہے۔ نیت کی پاکیزگی کے بغیر
کوئی بھی عبادت یا نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ قبول نہیں۔ اس لیے ہر مسلمان پر
لازم ہے کہ وہ اپنے تمام اعمال کو ریاکاری سے بچا کر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے
انجام دے۔
Dawateislami