خلیل
احمد عطاری(درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان )
اخلاص ایک ایسا وصف ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے
لئے کام کرنے کی توفیق عطا کرتا ہے جب ہم کسی کام کو اخلاص کے ساتھ کرتے ہیں تو
ہمارے دل میں اس کام کی محبت اور اہمیت کا احساس ہوتا ہے اخلاص کے کچھ اہم پہلو یہ
ہیں۔ نیت کی صفائی، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کام کرنا،دکھاوا اور شہرت سے بچنا،
خلوص اور سچائی، اخلاص ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے اور ہمارے کاموں کو مقبول
بناتا ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اخلاص:احادیثِ
نبوی ﷺ اخلاص کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں نیت کی صفائی اور خلوص کے ساتھ کیے گئے
اعمال اللہ تعالیٰ کی نظر میں بہت قیمتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ظاہری شکل و صورت کی
بجائے دل کی نیت اور اعمال کو دیکھتا ہے ۔اخلاص کے ساتھ کیا گیا عمل ہی قبول ہوتا
ہے۔
اس واقعے سے معلوم ہوا کہ اخلاص کے ساتھ کیا ہوا عمل کبھی
ضائع نہیں ہوتا اللہ پاک نیت کو دیکھتا ہے اور
اسی کے مطابق بہترین نتیجہ عطا فرماتا ہے۔
اِنَّاۤ
اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ
الدِّیْنَؕ(۲)ترجمہ
کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری تو اللہ کو کو پوجو
نِرے اس کے بندے ہوکر۔ (سورۃ الزمر، آیت 2)
قُلْ
اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ(۱۱) ترجمہ
کنز الایمان: تم فرماؤ مجھے حکم ہے کہ اللہ کو پوجوں نرا اس کا بندہ ہوکر۔ (سورۃ
الزمر، آیت نمبر11)
عَنۡ عُمَرَ بْنَ
الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى المِنْبَرِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا
لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ترجمہ:اعمال کا دار و مدار نیتوں
پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔(صحیح البخاری: حدیث
نمبر 1۔صحیح مسلم: حدیث نمبر 1907)
Dawateislami