حافظ
محمد اویس قرنی (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان ابو عطار ملیر ،کراچی،پاکستان)
اسلام کی بنیاد صرف ظاہری اعمال پر نہیں بلکہ نیت اور
باطنی کیفیت پر رکھی گئی ہے۔ بسا اوقات انسان بڑے بڑے اعمال انجام دیتا ہے، لیکن
اگر ان میں اخلاص نہ ہو تو وہ اللہ کے ہاں بے وزن ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے شریعتِ
اسلامیہ نے ہر عمل سے پہلے نیت کو درست کرنے کی تعلیم دی ہے۔ اخلاص وہ روح ہے جو
عبادت کو زندگی بخشتی ہے۔ بغیر اخلاص کے عبادت محض ایک رسم بن جاتی ہے، جبکہ اخلاص
کے ساتھ کیا گیا چھوٹا سا عمل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا مقام پا لیتا ہے۔ نبی
کریم ﷺ نے اپنی احادیثِ مبارکہ میں اخلاص کی ایسی عظمت بیان فرمائی ہے جو ہر
مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
(1) اعمال کا دارومدار نیت پر ہے: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ،
حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ
إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ
بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ
وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا
يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ
إِلَيْه .
ترجمہ:امام مالک نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے محمد بن
ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ بن وقاص سے، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا مدار نیت پر
ہی ہے، اور آدمی کے لیے وہی (اجر) ہے جس کی اس نے نیت کی۔ جس شخص کی ہجرت اللہ اور
اس کے رسول کی طرف تھی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس شخص کی
ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے تھی تو اس کی ہجرت اسی
چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی تھی۔“ (صحيح مسلم،كتاب الامارة،حدیث: 4927)
(2) اللہ صرف خالص عمل قبول کرتا ہے:أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ هِلَالٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا
مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ
بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ،
قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ
رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّكْرَ، مَالَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ،
يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ ثُمَّ
قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا،
وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ .ترجمہ:ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا
فرماتے ہیں جو جہاد کرتا ہے، اور جہاد کی اجرت و مزدوری چاہتا ہے، اور شہرت و
ناموری کا خواہشمند ہے، اسے کیا ملے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس کے لیے کچھ نہیں ہے“ ۔ اس نے اپنی بات تین مرتبہ دہرائی۔ اور رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم اس سے یہی فرماتے رہے کہ اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو، اور اس سے اللہ کی
رضا مقصود و مطلوب ہو“۔ (سنن نسائی،كتاب الجهاد،حدیث: 3142)
اخلاص ہی وہ کسوٹی ہے جس پر انسان کے اعمال تولے جاتے ہیں۔
اگر نیت درست ہو تو معمولی عمل بھی انسان کو جنت کے اعلیٰ درجات تک پہنچا دیتا ہے،
اور اگر نیت خراب ہو تو بڑی سے بڑی عبادت بھی ضائع ہو جاتی ہے۔ آج کے دور میں ریاکاری،
نمود و نمائش اور شہرت کی خواہش عام ہو چکی ہے، اس لیے ہمیں اپنے دلوں کا محاسبہ
کرتے رہنا چاہیے۔ ایک مومن کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے ہر عمل میں اللہ کی رضا کو
مقدم رکھے۔ اگر ہماری نماز، روزہ، صدقہ اور اخلاق سب اخلاص سے بھر جائیں تو نہ صرف
ہماری زندگی سنور جائے بلکہ آخرت میں بھی کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچا
اخلاص عطا فرمائے۔ آمین۔
محمد
نعیم رضا عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
اخلاص ایک ایسا خوبصورت لفظ ہے جو بظاہر مختصر مگر اپنے
اندر ایمان کی پوری روح سموئے ہوئے ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا ہر قول،
ہر عمل اور ہر نیت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو، نہ دکھاوے کے لیے،
نہ شہرت کے لیے اور نہ ہی کسی دنیاوی فائدے کی خاطر۔رسولِ اکرم ﷺ نے دین کی بنیاد
ہی نیت کو قرار دیا۔ احادیثِ مبارکہ ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ اگر عمل بڑا ہو مگر نیت
خالص نہ ہو تو وہ اللہ کے ہاں وزن نہیں رکھتا، اور اگر عمل چھوٹا ہو لیکن نیت میں
اخلاص ہو تو وہ بھی قبولیت کا درجہ پا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں عبادات
ہوں یا معاملات، سب کی اصل روح اخلاص ہی ہے۔آج
کے اس دور میں جہاں اعمال میں نمائش، شہرت اور تعریف کی خواہش عام ہو چکی ہے، وہاں
ہمیں احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ اخلاص کیا ہے، اس
کی کیا اہمیت ہے اور یہ ہمارے اعمال کو کس طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول بناتا ہے۔
اخلاص کی تعریف:"کسی بھی نیک عمل میں
محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے"۔(نجات دلانے
والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)
اللہ
عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ
مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵)ترجمۂ
کنزالایمان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ
لاتےایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں ۔ (پ۳۰، البینہ: ۵)
اِس آیت
مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی
کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے
اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ
عالیشان ہے : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت
کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا
پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف
اس نے ہجرت کی۔ (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال الخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال ﷺ کا فرمانِ عالیشان
ہے مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرتے ہوئے جب ایک بیابان علاقے میں پہنچے گا تو اس
گروہ کے اگلے پچھلے لوگ زمین میں دھنس جائیں گے۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم! ان کے اگلوں ، پچھلوں کو زمین میں کیسے دھنسایاجائے گا حالانکہ ان کے
ساتھ ان کے مویشی اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے ؟ ‘‘ دافِعِ
رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال ﷺ نے ارشاد فرمایا ان کے اولین وآخرین کو زمین میں
دھنسا دیا جائے گا پھر انہیں ان کی نیتوں پر اُٹھایا جائے گا۔ (صحیح البخاری ،کتاب
البیوع، باب ماذکر فی الاسواق،الحدیث: ۲۱۱۸،ص۱۶۵)
حضرت عکرمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرمایا
کرتے تھے کہ میں نے کوئی شخص اس شخص سے زیادہ بے عقل نہیں دیکھا جو اپنے نفس کی
برائی کو جانتا ہے پھر وہ چاہتا ہے کہ لوگ مجھے عالم و صالح سمجھیں ۔ اس کی مثال ایسی
ہے کہ کوئی شخص کانٹے بوتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس میں کھجوروں کا پھل لگے ۔(تنبیہ
المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للہ تعالیٰ، ص۳۲، ملتقطا)
اخلاص وہ نور ہے جو عمل کی صورت کو نہیں بلکہ نیت کی حقیقت
کو دیکھتا ہے۔ یہی وہ راز ہے جو بندے کے معمولی سے عمل کو بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ
کے ہاں عظیم بنا دیتا ہے اور بغیر اخلاص کے بڑے سے بڑا عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے۔
دنیا کی واہ واہ، تعریف اور شہرت چند لمحوں کی ہوتی ہے، مگر رضائے الٰہی وہ دولت
ہے جو قبر کی تنہائی سے لے کر آخرت کی سرخروئی تک ساتھ دیتی ہے پس ہمیں چاہیے کہ
ہم اپنے ہر قول، ہر عمل اور ہر عبادت میں بار بار اپنی نیت کا جائزہ لیں، اسے
دکھاوے، شہرت اور نفس کی آمیزش سے پاک کریں، اور صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کو
مقصد بنائیں۔کیونکہ جہاں اخلاص زندہ ہو، وہاں عمل زندہ ہوتا ہےاور جہاں اخلاص مر
جائے، وہاں عبادت بھی محض رسم بن جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاصِ کامل عطا فرمائے
اور ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
علی
احسان(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان )
اسلام کے نزدیک اس کائنات کی اور انسان کی تخلیق اللہ
تعالیٰ نے کی ہے اور اس تخلیق کا مقصد اس امر میں انسان کی آزمائش ہے کہ وہ اس
عارضی مہلتِ حیات میں حسنِ عمل کا مظاہرہ کرتا ہے یا بدعملی کا۔ حسنِ عمل کا صلہ
موت کے بعد ایک دوسری و ابدی زندگی کی ابدی نعمتیں ہیں اور بدعملی کی سزا ایک ہمیشہ
رہنے والی حیاتِ عذاب ہے۔ اسلام کے عطا کردہ اس تصوّرِ حیات کی رُو سے انسان کا
اصل اخلاقی مسئلہ یہ ہے کہ وہ سیرت و کردار کا کونسا ایسا اسلوب اختیار کرے جو اس
کے مقصدِ زندگی کے تکمیل میں ممد و معاون ہو سکے، اور کردار و عمل کے وہ کون سے
پہلو ہیں جو اس مقصد کی تکمیل میں مانع ہوتے ہیں اور ان سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
ہمیں زندگی کا وہی سلیقہ اور قرینہ مطلوب ہے جو خدا نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے سے ہمیں
سکھایا ہے۔
عَنْ عُمَرَ بْنِ
الْخَطَّابِ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ : اَ لْأَعْمَالُ
بِالنِّيَّةِ، وَلِکُلِّ امْرِیئٍ مَا نَوَی، فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُهُ إِلَی
اللهِ وَرَسُوْلِهِ فَھِجْرَتُهُ إِلَی اللهِ وَرَسُوْلِهِ، وَمَنْ کَانَتْ
ھِجْرَتُهُ لِدُنْیَا یُصِيْبُھَا، أَوِ امْرَأَةٍ یَتَزَوَّجُھَا، فَھِجْرَتُهُ
إِلَی مَا ھَاجَرَ إِلَيْهِ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے اور ہر
شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی، پس جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی
طرف ہجرت کی اس کی ہجرت اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے لئے ہی شمار ہو گی، اور جس کی
ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہوئی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے
ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی ۔(أخرجہ البخاری فی الصحیح، کتاب : الإیمان، باب : ما
جاء أن الأعمال بالنیّۃ والحسبۃ ولکل امریء ما نوی، 1 / 30، الرقم : 54 )
عَنْ أَبِي
أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رضي الله عنه قَالَ : جَاء رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ
فَقَالَ : أَرَأَيْتَ رَجُـلًا غَزَا یَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّکْرَ مَا
لَهُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَا شَيْئَ لَهُ فَأَعَادَهَا ثَـلَاثَ
مَرَّاتٍ یَقُوْلُ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَا شَيْئَ لَهُ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ
اللهَ لَا یَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا کَانَ لَهُ خَالِصًا وَابْتُغِيَ
بِهِ وَجْهُهُ۔ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ۔حضرت
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں
حاضر ہو کر عرض گزار ہوا کہ اگر کوئی شخص لالچ اور طمع کی خاطر یا نام آوری کے لیے
جہاد کرے تو اسے کیا ملے گا؟ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے کوئی ثواب نہیں
ملے گا بعد ازاں اس شخص نے یہی سوال تین دفعہ کیا اور حضور نبی اکرم ﷺ نے یہی جواب
عنایت فرمایا کہ اسے کچھ ثواب نہیں ملے گا، بعد ازاں حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد
فرمایا : اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لیے ہو اور اسے
کرنے سے محض اللہ تعالیٰ کی رضامندی مقصود ہو۔‘‘
(أخرجہ النسائی فی السنن، کتاب : الجهاد، باب : من غزا یلتمس
الأجر والذکر، 6 / 25، الرقم : 3140،)
لہذا ہمیں بھی
چائیے کہ ہم فرامین نبوی پر عمل کرتے ہوئے جو بھی نیک کام کریں خالص اللہ کی رضا
کے لیے کریں نہ کہ کسی کو دیکھانے کےلیے اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اخلاص کے ساتھ
نیک کام کرنے والا بنائے۔
اخلاص کے لغوی معنی پاک صاف ہونے اور خالص ہونے کے ہیں۔
امام راغب اصفہانی اخلاص کی تعریف کرتے ہوئےفرماتے ہیں :الاخلاص التَبَرِّی عَن کُلِّ مادُون اللہ تعالی۔اخلاص
یہ ہے کہ ہر ما سوا اللہ سے دل کو پاک کر لیا جائے۔(امام راغب اصفہانی، المفردات ،ص:
293 )
قرآن مجید میں اخلاص کا حکم دیتے ہوئے ارشاد باری تعالیٰ
ہے:اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ
الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ(۲) ترجمہ
کنز الایمان: بےشک ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری تو اللہ کو کو پوجو
نِرے اس کے بندے ہوکر ۔ (الزمر، 39: 2)
اس آیت مبارکہ میں
مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے اپنی عبادات کو اخلاص سے مزین کرو۔
اسلام دین فطرت اور مکمل ضابطہ حیات ہے، دیگر تہذیبوں کی
بنیاد مفاد اور جذبات پر جبکہ اسلام کی بنیاد اخلاص اور حکمت پر قائم ہے۔ اسلام
جذبات کی بجائے اخلاص کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہےاخلاص اگر اعلیٰ ہو اور عمل قلیل
بھی ہو تو وہ کثیر بن جاتا ہے اور اس کے برعکس اگر صدق و اخلاص کمزور ہو تو عمل جس
قدر بھی ہو وہ قلیل ہوجاتا ہے۔آقا دو جہاں صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :نِیَّۃُ الْمُؤمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖ یعنی’’
مومِن کی نیّت اُس کے عمل سے بہتر ہے ۔‘‘ (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر ج۶ ص۱۸۵حدیث
۵۹۴۲ )
جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن کا نیک
ارادہ اور نیت اس کے کیے گئے اچھے عمل سے زیادہ اہمیت رکھتاہے، کیونکہ انسان جس
قدر نیت کرتا ہے ضروری نہیں کہ وہ پورا عمل کر پائے، لیکن اس کی نیت میں ہی ثواب
اور اخلاص ہوتا ہے۔ایک مسلمان جو نیک کام کرنے کا ارادہ کرتا ہے، وہ اگرچہ اسے
پورا نہ کر سکے، لیکن اس کی نیت کی وجہ سے اسے پورا اجر ملتا ہے۔دوسری طرف ایک شخص
اگر گناہ کرنے کا ارادہ کرلے مگر اللہ کے خوف سے وہ گناہ نہ کرے تو آقا علیہ
السلام نے فرمایا کہ اللہ پاک فرشتوں کو حکم دیتا ہیں کہ اس کے لیے ایک نیکی لکھ
لو کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں بھی اس کا اخلاصِ نیت کام آیا۔ وہ اللہ کے عذاب
و ناراضگی سے ڈر گیا اور اللہ کے ڈر کی وجہ سے اُس نے گناہ نہیں کیا۔ پس صدق و
اخلاص کی قوت کی بناء پر نیکی کا اجر اسے اللہ سے ڈرنے کی بات پر مل جاتا ہے۔ مخلص
کا ہر عمل جس سے اللہ کی خوشنودی مقصود ہو لکھا جاتا ہے، وہ عمل مباح ہی کیوں نہ
ہو۔
حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولُ الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ
نے ارشاد فرمایا:گزشتہ زمانے میں تین(3) شخص کہیں جارہے تھے کہ بارش ہونے لگی تو
وہ پناہ لینے کیلئے ایک غار میں داخل ہوئے،اچانک پہاڑ سے ایک چٹان گِری جس نے غار
کا منہ بند کردیا۔ یہ دیکھ کر انہوں نے کہا: اس مصیبت سے نجات کا ایک ہی طریقہ ہے
کہ ہم اپنے اپنے نیک اعمال کا وسیلہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کر کے
دُعا کریں ۔ چنانچہ،ان میں سے ایک نے کہا: یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! میرے ماں باپ بہت
بوڑھے ہو گئے تھے، میں ان سے پہلے نہ تو اپنے اہل و عیال کو پینے کیلئے دودھ دیا
کرتا تھا نہ ہی اپنے خادموں کو ، ایک دن میں درختوں کی تلاش میں بہت دُور نکل گیا،
جب واپس آیا تو میرے والدین سو چکے تھے، میں دودھ لے کر ان کے پاس آیا تو انہیں
سویا ہوا پایا، میں نے نہ تو انہیں جگانا مناسب نہ سمجھا اور نہ ہی ان سے پہلے اہل
وعیال میں سے کسی کو دینا پسند کیا بلکہ میں دودھ کا پیالہ لئے اپنے والدین کے پاس
کھڑا رہا، جب صبح ہوئی تو میں نے انہیں دودھ پیش کیا ۔ یااللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اگر
میں نے یہ عمل صرف تیری رِضا کے لئے کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما!
اس کی دُعا سے چٹان کچھ سِرَک گئی ، لیکن ابھی اتنی جگہ نہ بنی تھی کہ وہ نکل سکتے
، پھردوسرے نے کہا: یااللہ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے میرے چچا کی بیٹی لوگوں میں سب سے
زیادہ محبوب تھی،میں نے اس سے بُرائی کا اِرادہ کیا تو اس نے انکار کر دیا ، پھر
وہ قحط میں مبتلا ہوئی تو میرے پاس آئی میں نے اس شرط پر اسے 100 دینا ر دیئے کہ
وہ میری خواہش پوری کردے ، وہ مجبور تھی تیار ہوگئی ،جب میں اس کے ساتھ تنہائی میں
گیا اور اس پر قابو پالیا تو اس نے کہا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈر اور ناحق مُہر
کو نہ توڑ (یعنی اس بُرے کام سے باز آجا) یہ سن کر میں نے اسے چھوڑ دیا اورمیں
بُرائی سے باز رہا، حالانکہ مجھے اس سے شدید محبت تھی، پھر میں نے ا س سے وہ دِینا
ر بھی واپس نہ لئے ، یااللہ عَزَّ وَجَلَّ !اگر میں نے یہ عمل صرف تیری رِضا کیلئے
کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فر ما !چٹان کچھ اور سَرَک گئی لیکن اب بھی
وہ باہر نہ نکل سکتے تھے۔ تیسرے نے کہا : یااللہ عَزَّ وَجَلَّ !میں نے کچھ
مزدوروں سے کام کروایا اور سب کی مزدوری دے دی، لیکن ان میں سے ایک مزدور اُجرت چھوڑ
کر چلا گیا،میں نے وہ تجارت میں لگا دی تو اس کی رقم بڑھتی رہی کچھ عرصہ بعد وہ آیااور
کہا : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے !میری
اُجرت مجھے دے دے۔ میں نے کہا :یہ اونٹ، گائے، بکری ا ور غلام جو کچھ تم دیکھ رہے
ہو،یہ سب تمہارے ہیں ۔ اس نے کہا: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے! مجھ سے مذاق مت
کر۔ میں نے کہا : میں مذاق نہیں کر رہا، یہ سب کچھ تمہارا ہی ہے۔ چنانچہ، وہ سب
مال لے کر چلا گیا اور کچھ بھی نہ چھوڑا۔ یااللہ عَزَّ وَجَلَّ !اگر میرا یہ عمل تیری
رِضا کیلئے تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرما!پس چٹان ہٹ گئی اوروہ تینوں
باہر نکل کر اپنی منزل کی طرف چل دئیے۔( بخا ری، کتاب الانبیاء، باب حدیث الغار، ۲/۴۶۴، حدیث:۳۴۶۵) ( شرح بخاری لابن بطال، کتاب
الادب باب اجابۃ دُعاء من بر والدیہ، ۹ /۱۹۳)
اخلاص اس کیفیت کا نام ہے جس میں بندہ جو کرتا ہے اللہ کی
محبت، رضا، قرب اور حکم کی تعمیل کے لیے کرتا ہے، اس کے سوا کوئی شے اُس کی نیت و
خیال میں داخل نہیں ہوتی۔ اِخلاص کے ساتھ عمل مومن کی نشانی ہے یہ اخلاص تھوڑے عمل
میں بھی شامل ہو تو اُسے بہت بڑا اور طاقتور بنا دیتا ہے۔ عمل مقدار کا نام ہے
اوراخلاص معیار کا نام ہے۔اخلاص صرف یہ نہیں کہ نماز،روزہ اور دیگر عبادات میں ریا
کاری نہ ہو بلکہ اخلاص یہ ہے کہ ہر اچھا کام خواہ وہ ملازمت ہی کیوں نہ ہو یا کسی
کے ساتھ اچھا سلوک صرف اس لیے اور اس نیت سے کیاجائے کہ ہمارا خالق وپروردگار ہم
سے راضی ہو ہم پر رحمت فرمائے اور اس کی ناراضگی اور غضب سے ہم محفوظ رہیں۔ رسول
اللہ ﷺ نے بتایا کہ تمام اچھے اعمال واخلاق کی روح یہی اخلاصِ نیت ہے اگر اچھے سے
اچھے اعمال صدق اخلاص سے خالی ہوں اور ان کا مقصد رضاء الٰہی نہ ہو بلکہ نمود
ونمائش، ریا کاری اور دکھلاوا ہو تو اللہ رب العزت کے نزدیک ایسے اعمال کی کوئی قیمت
نہیں۔ آج امت مسلمہ جس پرفتن دور سے گزر رہی ہے اس کی ایک بڑی وجہ صدق و اخلاص کی
کمی ہے۔ الله تعالٰی کی بارگاہ اقدس میں دعاگو ہوں کہ الله تبارک و تعالٰی ہم سب
کو اخلاص کی دولت نصیب فرمائے آمین۔
سید
دلدار حسین(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
اخلاص کا معنی:عمل صرف اور صرف اللہ کی
رضا کے لیے کیا جائے، کسی ریاکاری دکھاوے یا دنیاوی فائدے کے لیے نہیں۔
(1)إنما
الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوىالخ ترجمہ :اعمال کا دار
و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اُس نے نیت کی۔(صحیح بخاری ،کتاب
بدء الوحی ،حدیث نمبر 1،صحیح مسلم، کتاب الامارة ،حدیث نمبر 1907)
اللہ نیت کو دیکھتا ہے شکل و مال کو نہیں: إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَادِكُمْ، وَلَا
إِلَى صُوَرِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُم بیشک
اللہ تمہارے جسموں اور شکلوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا
ہے۔( صحیح مسلم حدیث نمبر 2564 ،کتاب البر و الصلۃ و الآداب باب تحريم ظلم المسلم)
دکھاوے والے اعمال قاری، سخی ،مجاہد کا واقعہ:قیامت کے
دن سب سے پہلے جن لوگوں کا حساب ہوگا ان میں قاری شہید اور سخی ہوں گے جنہوں نے
اللہ کی رضا کے بجائے شہرت کے لیے عمل کیا ان کے اعمال قبول نہیں کیے جائیں گے۔(صحیح
مسلم حدیث نمبر 1905 ،کتاب الامارة باب من قاتل للرياء والسمعة استحق النار،جامع
ترمذی حدیث نمبر 2382)
اخلاص کی نشانیاں:(1) تعریف یا تنقید سے
بے پروا ہونا۔ (2) عمل کو چھپانا (3) شہرت سے بچنا
اخلاص کیسے پیدا کریں:(1) نیت
کو درست کریں۔ (2) شہرت سے بچیں۔ (3) عمل سے پہلے اور بعد میں دل کا جائزہ لیں
کہ کس کے لیے کر رہے ہیں۔
یا اللہ ہمیں ہر عمل خالص اپنی رضا کے لیے کرنے کی توفیق
عطا فرما آمین
محمد
ریان (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان ابو عطار ماڈل کالونی، کراچی،پاکستان )
انسان کی اصل قدر اس کے ظاہر سے نہیں بلکہ اس کے باطن سے
پہچانی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے حال کو جاننے والا ہے۔ اسی لیے اسلام میں
اخلاص کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اخلاص کے بغیر عبادت ایک بے جان جسم کی مانند ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اپنی مبارک احادیث میں بار بار اخلاص کی طرف توجہ دلائی تاکہ مسلمان
اپنے اعمال کو دنیاوی دکھاوے سے پاک رکھیں۔ جو شخص اللہ کے لیے عمل کرتا ہے، اللہ
تعالیٰ اس کے عمل میں برکت عطا فرماتا ہے۔
(1) نیت کی بنیاد پر جزا:حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ،
حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ
إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ،
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا
الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ
هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ،
وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا،
فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ۔
ترجمہ:امام مالک نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے محمد بن
ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ بن وقاص سے، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا مدار نیت پر
ہی ہے، اور آدمی کے لیے وہی (اجر) ہے جس کی اس نے نیت کی۔ جس شخص کی ہجرت اللہ اور
اس کے رسول کی طرف تھی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس شخص کی
ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے تھی تو اس کی ہجرت اسی
چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی تھی۔“(صحيح مسلم،كتاب الامارة،حدیث: 4927)
(2) سب سے پہلے نیت کا حساب:حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ
بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ ،
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
، فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ: أَهْلِ الشَّامِ أَيُّهَا الشَّيْخُ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا
سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:
نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:
إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ،
فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا،
قَالَ: قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ
قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى
وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ
وَقَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ:
فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا، قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ
فِيكَ الْقُرْآنَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ
عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ
بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ وَسَّعَ
اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَأُتِيَ بِهِ
فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا، قَالَ: مَا
تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا
لَكَ، قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَادٌ، فَقَدْ
قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ ۔ترجمہ
:خالد بن حارث نے کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے یونس بن یوسف نے
سلیمان بن یسار سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: (جمگھٹے کے بعد) لوگ حضرت ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ کے پاس سے چھٹ گئے تو اہل شام میں سے ناتل (بن قیس جزامی رئیس اہل
شام) نے ان سے کہا: شیخ! مجھے ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم سے سنی ہو، کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے
سنا: ”قیامت کے روز سب سے پہلا شخص جس کے خلاف فیصلہ آئے گا، وہ ہو گا جسے شہید کر
دیا گیا۔ اسے پیش کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی (عطا کردہ) نعمت کی پہچان
کرائے گا تو وہ اسے پہچان لے گا۔ وہ پوچھے گا تو نے اس نعمت کے ساتھ کیا کیا؟ وہ
کہے گا: میں نے تیری راہ میں لڑائی کی حتی کہ مجھے شہید کر دیا گیا۔ (اللہ تعالیٰ)
فرمائے گا تو نے جھوٹ بولا۔ تم اس لیے لڑے تھے کہ کہا جائے: یہ (شخص) جری ہے۔ اور یہی
کہا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اس آدمی کو منہ کے بل گھسیٹا جائے
گا یہاں تک کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا اور وہ آدمی جس نے علم پڑھا، پڑھایا اور
قرآن کی قراءت کی، اسے پیش کیا جائے گا۔ (اللہ تعالیٰ) اسے اپنی نعمتوں کی پہچان
کرائے گا، وہ پہچان کر لے گا، وہ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا کیا؟ وہ
کہے گا: میں نے علم پڑھا اور پڑھایا اور تیری خاطر قرآن کی قراءت کی، (اللہ)
فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، تو نے اس لیے علم پڑھا کہ کہا جائے (یہ) عالم ہے اور
تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ کہا جائے: یہ قاری ہے، وہ کہا گیا، پھر اس کے بارے میں
حکم دیا جائے گا، اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا حتی کہ آگ میں ڈال دیا جائے گا۔
اور وہ آدمی جس پر اللہ نے وسعت کی اور ہر قسم کا مال عطا کیا، اسے لایا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا، وہ پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا:
تم نے ان میں کیا کیا؟ کہے گا: میں نے کوئی راہ نہیں چھوڑی جس میں تمہیں پسند ہے
کہ مال خرچ کیا جائے مگر ہر ایسی راہ میں خرچ کیا۔ اللہ فرمائے گا: تم نے جھوٹ
بولا ہے، تم نے (یہ سب) اس لیے کیا تاکہ کہا جائے، وہ سخی ہے، ایسا ہی کہا گیا،
پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، تو اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں
ڈال دیا جائے گا۔“ (صحيح مسلم،كتاب الامارة،حدیث: 4923)
(3) اخلاص اللہ کے لیے:حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ،
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ
عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَامَ
لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ
ذَنْبِهِ، وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا
تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.
ترجمہ:ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے
ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان
سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی
شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے تمام
اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت
سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ (صحيح البخاری،كتاب الصوم،حدیث:
1901)
(4)اللہ دلوں کو
دیکھتا ہے:حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ
، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ
يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ،
وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ، وَأَعْمَالِكُمْ .
ترجمہ:یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت
کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور
تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا، لیکن وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا
ہے۔“(صحيح مسلم،كتاب البر والصلۃ والآداب،حدیث: 6543)
اخلاص وہ قیمتی
دولت ہے جو ہر مومن کو اپنے دل میں سنبھال کر رکھنی چاہیے۔ یہی اخلاص انسان کو اللہ
کے قرب تک پہنچاتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عبادات قبول ہوں تو ہمیں
دِکھاوے، شہرت اور ریاکاری سے بچنا ہوگا۔ سچا مومن وہی ہے جو تنہائی اور مجمع
دونوں میں اللہ سے حیا کرے۔ آخر میں یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خالص نیت کے
ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول
فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
طیب
علی (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی، لاہور ،پاکستان)
اخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں محض
رضائے الٰہی حاصل کرنے کا ارادہ کرنا اخلاص کہلاتا ہے ۔
(1)حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے
کہا جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا جانے لگا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ہدایت ارشاد فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم
اپنے ذہن کو خالص کر لو تو عمل قلیل بھی تمہیں کفایت کرے گا۔(الترغیب والترہیب
٫جلد ٫1 صفحہ نمبر 31 ٫حدیث نمبر 4 ٫کتاب الایمان)
(2)حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل سے
فرمایا اخلاص کے ساتھ عمل کرو اخلاص کے ساتھ تھوڑا سا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(
کتاب فرض علوم سیکھئے باب منجیات (نجات دینے والی چیزوں) کا بیان)
(3)تاجدارِ مدینہ منورہ سلطان مکہ مکرمہ صلی اللہ تعالی
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :بروز قیامت کچھ مہر بند صحیفے اللہ عزوجل کی
بارگاہ میں پیش کیے جائیں گے تو اللہ عزوجل فرشتوں سے فرمائے گا یہ چھوڑ دو اور یہ
قبول کر لو فرشتے عرض کریں گے یارب عزوجل تیری عزت کی قسم ہم تو اس میں خیر ہی دیکھتے
ہیں اللہ عزوجل جو سب سے زیادہ جاننے والا ہے ارشاد فرمائے گا یہ اعمال میرے غیر
کے لیے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں گا جو میری رضا کے لیے کیۓ گئے تھے۔( کتاب فیضان ریاض
الصالحین٫ جلد نمبر 1 ٫صفحہ نمبر٫28 باب اخلاص اور نیت کا بیان ٫مکتبۃ المدینہ)
(4)حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص دنیا سے اس حالت میں رخصت ہوا وہ
اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے پر ایمان رکھتا ہو کہ اس کا کوئی شریک نہیں
ہے وہ نماز قائم کرتا ہو وہ زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور وہ دنیا سے الگ رہتا ہو اللہ
تعالیٰ اس سے راضی ہو جاتا ہے۔( الترغیب والترہیب ٫جلد ٫1 صفحہ نمبر ٫31 حدیث نمبر
٫2 کتاب الایمان ٫حدیث نمبر 5)
ابو فراس سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخلاص ۔دوسری
روایت کے الفاظ یہ ہیں ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ جو
چاہو مجھ سے دریافت کر سکتے ہو ایک شخص نے بلند آواز سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم اسلا م سے کیا مراد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز قائم
کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اس نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان
سے کیا مراد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخلاص اس نے عرض کیا یقین سے کیا
مراد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تصدیق۔( الترغیب والترہیب ٫جلد ٫1 صفحہ
نمبر ٫31 حدیث نمبر ٫3 کتاب الایمان)
اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص
کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
محمد
عمران عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، سرگودھا ،پاکستان)
ہر نیک عمل میں اخلاص بنیادی حیثیت رکھتا ہے، چاہے وہ دینی
عبادات ہوں (جیسے: نماز، روزہ، حج، صدقہ و خیرات وغیرہ) یا دنیاوی معاملات (جیسے:
کسی کی مدد کرنا، حسنِ سلوک، تعلقات کا نبھانا وغیرہ)۔
اسی لیے نبی کریم ﷺ نے بارہا اخلاص کی تعلیم دی اور اس کی
ترغیب دلائی۔ اس بارے میں کئی احادیثِ مبارکہ وارد ہوئی ہیں، جو اس کی اہمیت پر
روشن دلیل ہیں۔
نیت کا درست ہونا: اعمال کا دارومدار نیتوں
پر ہے، جب تک نیت خالص نہ ہوگی، عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا، کیونکہ نیت کے
خالص ہونے کا نام ہی تو اخلاص ہے۔
حدیثِ پاک میں ہے: "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ
مَا نَوٰى" ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر شخص کے
لیے وہی ہے جو اس نے نیت کی۔(صحیح بخاری، کتاب بدءالوحی ، صفحہ نمبر:191، حدیث
نمبر: 1،مطبوعہ: منشورات مروان دعبول لبنان بیروت)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مرآۃ المناجیح میں
فرماتے ہیں:نیت، ارادۂ عمل کو بھی کہتے ہیں اور اخلاص کو بھی، یعنی اللہ و رسول
کو راضی کرنے کا ارادہ۔ یہاں دوسرے معنی
مراد ہیں یعنی اعمال کا ثواب اخلاص سے ہے، جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ اس صورت میں یہ حدیث اپنے عموم پر ہے کوئی عمل
اخلاص کے بغیر ثواب کا باعث نہیں، خواہ عباداتِ محضہ ہوں جیسے: نماز، روزہ وغیرہ، یا
عباداتِ غیر مقصودہ جیسے: وضو، غسل، کپڑا، جگہ، بدن کا پاک کرنا وغیرہ کہ ان پر
ثواب اخلاص سے ہی ملے گا۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ اخلاص اور نیتِ خیر ایسی
نعمتیں ہیں کہ ان کے بغیر عبادات محض عادتیں بن جاتی ہیں، اور ان کی برکت سے کفر
شکر بن جاتا ہے، اور گناہ و معصیت اطاعت۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد:
1،صفحہ نمبر 40، حدیث نمبر: 1 ، مطبوعہ: قادری پبلشرز لاہور)
خالص عمل کی فضیلت :رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ
مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ ترجمہ:
اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اُس کے لیے ہو اور صرف اُس کی رضا
کے لیے کیا گیا ہو۔(سنن النسائی، کتاب الجہاد، باب الاستنصار بالضعیف، صفحہ :
747،حدیث:3140، مطبوعہ: منشورات مروان دعبول لبنان بیروت)
محترم قارئین! اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ صرف وہی عمل
قابلِ قبول ہے جو اخلاص کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا جائے۔اللہ اخلاص
کو دیکھتا ہےحدیثِ پاک میں ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: "إِنَّ
اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلٰكِنْ يَنْظُرُ إِلَى
قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ"ترجمہ: بے شک اللہ تمہاری
صورتوں اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا
ہے۔(صحیح مسلم، جلد 4، صفحہ 1987، حدیث: 2564، دار احیاء التراث العربی)
محترم قارئین! اس حدیثِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے
کہ اللہ تعالیٰ انسان کے دل اور نیت کو دیکھتا ہے، اور اخلاص ہی بندے کے عمل کی
اصل روح ہے۔
عمل میں اخلاص پیدا کرو:حضرت یحییٰ
بن معاذ رازی رَحمۃ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: "جسے یہ معلوم ہے کہ
اس کے اعمال قیامت کے دن اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، اور انہی اعمال کے مطابق
اسے جزا دی جائے گی، تو اُسے چاہیے کہ اپنے کام درست کرنے کی کوشش کرے، اپنے اعمال
میں اخلاص پیدا کرے، اور جو گناہ اس سے ہو چکے ہیں، اُن سے لازمی توبہ کر
لے۔"(روح البیان، سورۃ القمر، تحت الآیۃ: 53، مخلصاً)
اخلاص کے ساتھ عبادت:حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےرسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: "جس نے لیلۃُ القدر کی رات ایمان
اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کر کے عبادت کی، تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ (صغیرہ)
گناہ بخش دیتا ہے۔" (صحیح بخاری، کتاب الإیمان، باب قیام لیلۃ القدر من الإیمان،
صفحہ نمبر:201، حدیث: 35،مطبوعہ: منشورات مروان دعبول لبنان بیروت)
دعا
میں اخلاص :حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےسرکارِ
مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے
ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، ان کی
نمازوں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے فرماتا ہے۔" (سنن النسائی، کتاب الجہاد،
باب الاستنصار بالضعیف، صفحہ : 756،حدیث:3178، مطبوعہ: منشورات مروان دعبول لبنان
بیروت)
دین
میں اخلاص :حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب
تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یمن کی طرف بھیجا
تو انہوں نے عرض کی: ’’یا رسولَ اللہ! مجھے کوئی وصیت فرمائیں۔‘‘رسولُ اللہ صَلَّی
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے دین میں اخلاص
رکھو، تمہارا تھوڑا عمل بھی کافی ہو جائے گا۔‘‘ (المستدرک، کتاب الرقاق، جلد 5
صفحہ 435، الحدیث: 7916 ،مطبوعہ: دار احیاء التراث العربی)
محترم قارئین! مذکورہ روایت سے اخلاص کی اہمیت واضح ہوتی
ہے کہ اخلاص کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی، بلکہ دین میں اخلاص کا حکم دیا گیا
ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر عبادت اخلاص کے ساتھ بجا لائیں، کیونکہ یہی اعمال کی
اصل روح ہے۔
فوائد ونقصان:محترم
قارئین! اخلاص ایک ایسی صفت ہے جس کے بغیر بندے کی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ جب بندے
سے اخلاص رخصت ہو جاتا ہے تو ایمان کی روحانیت بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ ایسا شخص اگر
کسی کی مدد بھی کرے تو لوگ اس سے محبت نہیں کرتے، بلکہ اُسے مطلبی کہا جاتا ہے۔ یوں
وہ ظاہری طور پر نیکی کے کام تو کرتا ہے، مگر باطنی طور پر نقصان اٹھاتا ہے۔لیکن
اگر اخلاص دل میں آ جائے تو وہی اعمال بے شمار فوائد اور ثمرات کا ذریعہ بن جاتے ہیں:
(1)اخلاص اعمال کی قبولیت کا سب سے عظیم سبب ہے، بشرطیکہ
اس میں نبی کریم ﷺ کی اتباع بھی شامل ہو۔ (2) اخلاص کی وجہ سے بندے کو اللہ پاک
اور فرشتوں کی محبت حاصل ہوتی ہے، اور زمین والوں کے دلوں میں اس کی مقبولیت لکھ دی
جاتی ہے۔ (3)اخلاص، تھوڑے عمل یا معمولی دعا پر بھی زیادہ اجر اور عظیم ثواب عطا
کرواتا ہے۔ (4)مخلص کا ہر وہ عمل جس سے اللہ کی رضا مطلوب ہو، وہ عمل مباح ہی کیوں
نہ ہو، لکھا جاتا ہے۔ (5)مخلص اگر سو جائے یا بھول جائے تو بھی وہی عمل لکھا جاتا
ہے جو وہ معمول کے مطابق کرتا تھا۔ (6) اگر مخلص بندہ بیمار ہو جائے یا سفر میں ہو
تو اخلاص کی وجہ سے اس کے وہی اعمال لکھے جاتے ہیں جو وہ صحت و اقامت میں کرتا
تھا۔ (7) اخلاص آخرت کے عذاب سے نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔(8) دنیا و آخرت کی مصیبتوں
سے نجات بھی اخلاص کے ثمرات میں شامل ہے۔ (9)اخلاص کے سبب آخرت میں درجات بلند ہوتے
ہیں۔(10) خاتمہ اچھا نصیب ہوتا ہے اور
دعائیں قبول ہوتی ہیں۔
اللہ پاک ہمیں اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطا
فرمائے، آمین۔
حاجی
ریان عطاری ( درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور )
انسانی اعمال کی اصل روح اخلاص ہے۔ اخلاص کے بغیر نہ
عبادت میں جان باقی رہتی ہے اور نہ ہی عمل میں قبولیت کی ضمانت۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا ہر قول و فعل صرف اللہ تعالیٰ
کی رضا کے لیے ہو، نہ کہ دکھاوے، شہرت یا دنیاوی فائدے کے لیے۔ یہی وہ صفت ہے جو
معمولی عمل کو عظیم بنا دیتی ہے اور بڑے سے بڑا عمل بھی اگر اخلاص سے خالی ہو تو
بے وزن ہو جاتا ہے دینِ اسلام میں اخلاص کو بنیاد قرار دیا گیا ہے کیونکہ اللہ
تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے ظاہری شکل و صورت کو نہیں ، اسی لیے ایک مومن کی کامیابی
کا راز اس کے اخلاص میں پوشیدہ ہے اور یہی اخلاص انسان کو اللہ کے قریب اور اس کے
اعمال کو بارگاہِ الٰہی میں مقبول بناتا ہے، اخلاص کی اہمیت و فوائد کے متعلق 5 احادیث پڑھیے:
(1) دین میں مخلص ہو جاؤ: حضرت
معاذ بن جبل رضی اللہُ عنہ
نے یمن کی طرف جاتے وقت عرض کی: یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مجھے
کچھ نصیحت فرمائیے تو نبیِ پاک صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے دین میں مخلص ہو جاؤ تھوڑا
عمل بھی تمہیں کفایت کرے گا۔(دیکھیے:مستدرک، 5/435، حدیث:
7914)
(2) اخلاص کے سبب امت کی مدد: حضرت مصعب
بن سعد رضی اللہُ عنہما اپنے
والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب میں نے یہ گمان
کیا کہ مجھے دیگر صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان پر
کچھ فضیلت حاصل ہے تو رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
ارشاد فرمایا: اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، نمازوں اور اخلاص کے سبب اس امت کی
مدد کی جاتی ہے۔ (نسائی، ص518، حدیث: 3175)
(3) مخلصین کی وجہ سے آزمائش دور ہوتی ہے: حضرت
ثوبان رضی اللہُ عنہ
فرماتے ہیں کہ میں نے نبیِّ کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ مخلصین کے لیے خوشخبری ہے کہ وہی
ہدایت کے چراغ ہیںانہی کی وجہ سے آزمائش کی ہر تاریکی چھٹ جاتی ہے۔(جنت
میں لے جانے والے اعمال،ص 708)
(4) اخلاص کے
ساتھ کیے جانے والے اعمال مقبول: نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا کہ اللہ پاک فرماتا ہے کہ میں شریک سے
پاک ہوں لہٰذا جس نے میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ میرے شریک کے لیے
ہے۔ اے لوگو! اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اخلاص کے
ساتھ کیے جانے والے اعمال ہی کو قبول فرماتا ہے۔ (مجمع
الزوائد، 10/379، حدیث: 17653)
(5) دنیا ملعون ہے: حضرت ابو درداء رضی اللہُ عنہ سے روایت
ہے نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے فرمایا کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے سوائے اس چیز کے جس کے ذریعے
اللہ پاک کی رضا چاہی جائے۔( جنت میں لے جانے والے اعمال،ص 708)
پس ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے ہر قول و فعل میں
اللہ تعالیٰ کی رضا کو پیشِ نظر رکھے۔ دکھاوے ،ریا اور شہرت کی خواہش سے اپنے دل
کو پاک کرے کیونکہ اخلاص ہی وہ کسوٹی ہے جس پر اعمال کی قدر و قیمت متعین ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں
سچی نیت، خالص عمل اور دائمی اخلاص نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ
الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Dawateislami