اخلاص اسلام کی بہت ہی پیاری چیز ہے جو ہمیں سب سے زیادہ
آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زندگی میں ملتی ہے آپ صلی اللہ تعالی علیہ
وسلم اخلاص کے ساتھ ہر کام کو سر انجام دیتے ہیں انسان کو چاہیے کہ وہ جب بھی کام
کرے خالص اللہ تعالی کی رضا کے لیے کرے۔
لہذا ہر کام میں اخلاص ضروری ہے ۔اگر ریاکاری کی
نیت ہو تو بیکار ہے ، ثواب کی بجائے الٹا گناہ ہوگا آج ہم اخلاص کی اہمیت کے بارے
میں حدیث کی روشنی میں پڑھتے ہیں :
وَعَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا
تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ
لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا
وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِترجمہ:ابوہریرہ
بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ایمان و اخلاص اور ثواب کی نیت سے
روزے رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، جو شخص ایمان و اخلاص اور
ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے (نماز تراویح کا اہتمام کرے) تو اس کے سابقہ
گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اور جو شخص ایمان و اخلاص اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں
قیام کرے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔(مشکوٰۃ المصابیح،کتاب: روزوں کا بیان
،باب: روزوں کا بیان،حدیث نمبر: 1958)
رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال ﷺ کی بارگاہ اقدس میں ایسے لوگوں
کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بہادری جتلانے، حمیت اور ریاکاری کے لئے جہاد کرتے
ہیں کہ ان میں سے کون راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا مجاہد ہے؟ تو خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کے دین کی سر بلندی کے لئے لڑے وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔ ایک نسخہ
میں ہے : وہی راہ خدا عَزَّوَجَلَّ کا
مجاہد ہے۔ (صحیح مسلم ،کتاب الامارۃ ،باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ الخ،الحدیث : ۴۹۲۰،ص۱۰۱۸)
ّسیِّدُ
المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین ﷺ کا
فرمانِ عالیشان ہے : مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت
سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی
عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے ۔ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲،ج۶، ص۱۸۵)
شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین ﷺ کا
فرمانِ عالیشان ہے : ’’ سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ ‘‘ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)
مذکورہ احادیث میں اخلاص کی اہمیت کے بارے میں معلوم ہوا
ان احادیث میں ایک بات یہ ثابت ہوئی کہ ہر کام اخلاص کے ساتھ سچی نیت کے ساتھ کرنا
چاہیے انسان اگر سچی نیت کرے کسی اچھے کام کے لیے اگر وہ نہ کرے تو اس کے لیے پھر
بھی نیکی ہے لہذا ہر کام میں اخلاص ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ہمیں حضور صلی اللہ تعالی
علیہ والہ وسلم کہ زندگی کے مطابق سنت پر عمل کرتےہوئے زندگی گزارنی ہو گی۔ اللہ
تعالی ہمیں سنت پرعمل کرنے اور ہر کام کو اخلاص کے ساتھ، سچی نیت کے ساتھ کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔
اسلام میں نیت اور اخلاص کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ تمام
عبادات، اخلاق اور معاملات کی بنیاد اخلاص ہے، یعنی ہر عمل صرف اللہ تعالیٰ کی رضا
کے لیے کیا جائے۔ اگر عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، لیکن اس میں اخلاص نہ ہو تو وہ
اللہ کے ہاں مردود ہے۔
(1) اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے:حضرت
عمر بن خطاب سے روایت ہےإِنَّمَا
الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى
ترجمہ: ’’اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت
کی۔‘‘ (صحیح بخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)
(2) اللہ صرف دلوں کو دیکھتا ہے:نبی کریم
ﷺ نے فرمایا: "إِنَّ اللهَ لا
يَنظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَجْسَادِكُمْ، وَلَكِنْ يَنظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ
وَأَعْمَالِكُمْ" ترجمہ: ’’اللہ تمہاری صورتوں اور جسموں کو نہیں دیکھتا،
بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2564)
(3) ریا کاری عمل کو ضائع کر دیتی ہے:نبی ﷺ نے فرمایا:أخوف ما أخاف على أمتي الشرك الأصغر،
قالوا: وما الشرك الأصغر يا رسول الله قال: الرياء ترجمہ:
’’مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ چھوٹا شرک ہے۔ صحابہ نے
پوچھا: وہ کیا ہے؟ فرمایا: ریاکاری۔‘‘(مسند احمد: 23630، صحیح) (4) قیامت کے دن اخلاص کے بغیر
اعمال رد ہو جائیں گے:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے جن تین
افراد کا حساب ہوگا، ان میں ایک عالم، دوسرا مجاہد اور تیسرا سخی ہوگا، لیکن چونکہ
ان کے اعمال دکھاوے کے لیے تھے، اس لیے ان کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح
مسلم: 1905)
اخلاص وہ خفیہ عبادت ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے۔ اس کے بغیر
عبادات، خیرات، جہاد، علم دین اور وعظ سب بے کار ہو جاتے ہیں۔ مسلمان کا ہر قول و
فعل اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔ نیت کی درستگی ہی اخلاص کی علامت ہے۔
اخلاص کی تعریف :اخلاص یہ ہے کہ بندہ نیک اعمال صرف اور صرف اللہ پاک
کی رضا اور خوشنودی کے لیے کرے۔( مرقاة المفاتيح ، ج 1 جس (486)
30برس کی نَمازیں قضا کیں:ایک بُزُرْگ رَحْمَۃُ اللہِ
تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں نے30برس کی نَمازیں قَضا کیں، وجہ اِس کی یہ ہوئی کہ میں ہمیشہ ہر نَماز پہلی
صَف میں با جماعت ادا کرتا رہا۔ 30برس کے بعد کسی مجبوری کے سبب تاخیر ہو گئی اور
مجھے دوسری صَف میں جگہ ملی، اِس سے مجھے
شرمندَگی محسوس ہوئی کہ آج لوگ کیا کہیں گے ! یہ خیال آنے کے سبب میں جان گیا کہ
جب لوگ مجھے پہلی صَف میں دیکھتے تھے تو اِس سے مجھے خوشی ہوتی تھی اوریہ بات میرے
دل کی راحت کاباعِث تھی۔ (ورنہ مجھے
شرمندَگی ہوتی ہی کیوں ، کہ آج لوگ کیا کہیں گے! توگویا 30برس سے میں لوگوں کو دکھانے کیلئے پہلی صَف میں نَماز پڑھتا رہا
ہوں! ) (اِحیاءُ الْعُلوم، ج5، ص108،
بِتَصَرُّفٍ )
آئیے ایسی چند احادیث ذکر کرتے ہیں جس میں حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے اخلاص کی اہمیت ذکر فرمائی :
(1) فرمانِ مصطفى ﷺ :اے لوگو ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے
اخلاص کے ساتھ عمل کرو۔( سنن الدار قطنی، الحدیث: 130، ج 1، ص 73)
اسی طرح جو عمل اخلاص سے خالی ہو تو اسکا انجام بیان
کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
(2) حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ اکرم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا:بے شک جہنم میں ایک وادی
ہے جس سے جہنم روزانہ چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے،اللہ تعالیٰ نے یہ وادی اُمتِ
محمدیہ کے ان ریاکاروں کے لئے تیار کی ہے جو قرآنِ پاک کے حافظ،راہِ خدامیں صدقہ
کرنے والے، اللہ تعالیٰ کے گھر کے حاجی اور راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں نکلنے والے
ہوں گے (لیکن یہ سارے کام صرف ریاکاری کیلئے کررہے ہوں گے۔ (معجم الکبیر، الحسن عن
ابن عباس، 12 / 136، الحدیث :128.3)
عمل اگرچہ کم ہو لیکن اخلاص کے ساتھ ہو تو کافی ہے جیسا
کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
(3) حضور نبی کریم علیہ افْضَلُ الصَّلوةِ وَالتَّسْلِيم
نے حضرت مُعَادُ بن جَبَل رَضِی اللَّهُ تَعَالَى عَنہ سے فرمایا: اخلاص کے ساتھ
عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نوادر الاصول، الاصل
السادس، 1 / 44، حدیث: 45)(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ26)
نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی دی ہوئی توفیق سے اگر کوئی نیکی
کا موقع نصیب ہو بھی جائے تو اُسے زیورِ اِخلاص سے مُزیَّن کیجئے۔ اللہُ تَعَالٰی بوسیلۂ مصطَفٰے ص ﷺ آپ کو اور
آپ کے صدقے مجھ گنہگار وں کے سردارکو اپنا مُخلِص بندہ بنائے۔ اٰمین۔
(4)فرمانِ مصطَفٰے ص ﷺ : جو بندہ چالیس دن خالِص اللہُ
تَعَالٰی کے لیے عمل کرے اللہُ تَعَالٰی حکمت کے چشمے اُس کے دل سے اس کی زُبان پر
ظاہِر کر دیتا ہے۔ (اَلتَّرغِیب
وَالتَّرہِیب ، ج1، ص24، حدیث: 13) (شیطان کے بعض ہتھیار صفحہ 24)
(5) فرمانِ مصطَفٰے ص ﷺ : آدَمی کا ایسی جگہ نَفْل
نَماز پڑھنا جہاں لوگ اسے نہ دیکھتے ہوں، لوگوں کے سامنے ادا کی جانے والی 25 نَمازوں کے برابر ہے۔ (جَمْعُ الْجَوامِع، ج5، ص83، حدیث: 13620) عنوان کے مطابق نہیں (شیطان کے بعض ہتھیار صفحہ 26)
محمد
نواز(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
(1)روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں
فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے
اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں
عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص
کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(مرآۃ المناجیح شرح
مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:1958)
(2)روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ نے فرمایاسبحان الله
ساری مخلوق کی عبادت ہےاورالحمد لله کلمہ شکر ہےاورلا الہ الا الله اخلاص کا کلمہ
ہے اور الله اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی فضا بھردیتا ہےاور جب بندہ کہتا
ہےلاحول ولا قوۃ الا بالله تورب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ مطیع ہوگیا اور اپنے
کو میرے سپردکردیا۔
شرح:لاالہ الا الله سے مراد پورا کلمہ ہے،اخلاص سے مراد
ہے چھٹکارا اور رہائی یعنی اس کلمہ طیبہ کی برکت سے بندہ دنیا میں کفر سے اور آخرت
میں دوزخ سے رہائی پاتاہے یا اخلاص ریاء کا مقابل ہے،بمعنی خلوص نیت یعنی یہ کلمہ
اگر خلوص نیت سے پڑھا جائے تو مفید ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ،
حدیث نمبر:2322)
(3)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے، رسول ُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا
: جس نے اس رات میں ایمان اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کرکے عبادت کی تو اللہ تعالیٰ
اس کے سابقہ (صغیرہ) گناہ بخش دیتا ہے ۔(بخاری شریف کتاب الایمان باب قیام لیلۃ
القدر من الایمان جلد 1 حدیث نمبر35)
(4)حضر ت حمران رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے، (حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے) فرمایا: میں نے نبی کریم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا’’
بے شک میں وہ کلمہ جانتاہوں جسے کوئی بندہ دل سے حق سمجھ کرکہتاہے تواللہ تعالیٰ
اسے آگ پرحرام قرار دے دیتا ہے، تو (یہ سن کر) حضرت عمربن خطاب رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:میں تمہیں بتاتاہوں کہ وہ کون ساہے ،وہ کلمہ اخلاص ہے
جواللہ تعالیٰ نے نبی ٔرحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور
آپ کے اَصحاب پرلازم کیاہے اوروہی پرہیز گاری کا کلمہ ہے جس کی ترغیب اللہ تعالیٰ
کے محبوب نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے
چچاابوطالب کوموت کے وقت دلائی،اوروہ اس بات کی شہادت دیناہے کہ اللہ تعالیٰ کے
سواکوئی معبود نہیں ۔
(درمنثور، الفتح، تحت الآیۃ: 26، 7 / 536)
عبد
الرحیم عطاری(درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
پیارے اسلامی بھائیو ! نیک اعمال میں اخلاص اپنانا بہت
اہمیت کا حامل ہے ،امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: رِیاکاری سے
بچتے ہوئے اِخلاص کے ساتھ نیک اَعمال کرنے کی عادت بنائیے کہ مُخلص شخص ہزار(1000)
پَردوں میں چھپ کر بھی نیک کام کرے، اللہ پاک اسے لوگوں میں مشہور فرما دیتا ہے۔(امیرِ
اہلِ سنت کی 786 نصیحتیں ص:34)
اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی احادیث میں
اخلاص کی اہمیت کو بیان فرمایا ہے۔آئیے ہم بھی اخلاص کے متعلق چند احادیث پڑھنے کی
سعادت حاصل کرتے ہیں:
(1) تھوڑا عمل کافی ہے:حضرت سیدنا
ابو عمران رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ
نے یمن کی طرف بھیجے جاتے وقت عرض کیا،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم!
مجھے کچھ نصحت فرمائیے۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجَسَّم،رسول اکرم،شہنشاہِ بنی آدم صلی
اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے دین میں مخلص ہو جاؤ تھوڑا عمل بھی
تمہیں کفایت کرے گا۔ (مستدرک،کتاب الرائق،رقم 7914، ج5،ص435)
(2)مدد الہی کا ذریعہ:حضرت
سیدنا مَسعَد بن صَعب اپنے والد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب میں
نے یہ گمان کیا کہ مجھے دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان پر کچھ فضیلت حاصل ہے تو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:اس امت کے کمزور لوگوں کی
دعاؤں،نمازوں اور اخلاص کے سبب اس امت کی مدد کی جاتی ہے۔(نسائی،کتاب الجھاد،باب
الانتصا،ج6ص45بتغیر قلیل)
(3) ہدایت کے چراغ:حضرت سیدنا
ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر،تمام نبیوں کے
سَرْوَر،دو جہاں کے تاجْوَر،سلطانِ بَحروبَر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے
ہوئے سنا: مخلصین (اخلاص کرنے والوں) کے لیے خوشخبری ہے کہ وہی ہدایت کے چراغ ہیں
انہی کی وجہ سے آزمائش کی ہر تاریکی چھٹ جاتی ہے ۔(الترغیب و الترہیب،کتاب البعث
واھوال یوم القیامۃ،باب الترغیب فی الاخلاص الخ،رقم5،ج1،ص23)
(4) اللہ کا راز:حضرت سیدنا حسن بَصْرِی
علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:اَلْاِخْلَاصُ
سِرٌّ مِّنْ سِرِّیْ اِسْتَوْدَعْتُہُ قَلْبَ مَنْ اَحْبَبْتُہُ مِنْ عِبَادِیْ
یعنی اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں
ودیعت رکھتا ہوں۔(فردوس الاحبار،145/2،حدیث:4539)
(5) حکمت کے چشمے:نبی کریم صلی اللہ علیہ
والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مَا مِنْ
عَبْدٍ یَخْلُصُ لِلّٰہِ الْعَمَلِ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا اِلَّا ظَھَرَتْ یَنَابِیْعُ
الْحِکْمَۃِ مِنْ قَلْبِہٖ عَلٰی لِسَانِہٖ یعنی
جو بندہ 40 دن خالص رضائے الہی کے لئے عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر
حکمت کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔(الزھد لابن المبار،باب فضل ذکر اللہ،ص359،حدیث:1014)
میرا
ہر عمل بس تیرے واسطے ہو کر اخلاص ایسا
عطا یاالہی
اللہ پاک ہمیں اخلاص کے ساتھ ہر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے آمین بجاہ النبی الآمین ﷺ۔
عبداللہ
خان(درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی ،کراچی،پاکستان)
اسلام میں اعمال کی قبولیت کا دار و مدار نیت پر ہے، اور
نیت کی بنیاد "اخلاص" پر رکھی گئی ہے۔ اخلاص کا مطلب ہے ہر عمل صرف اللہ
کی رضا کے لیے کرنا، دکھاوے، ریاکاری یا دنیاوی فائدے کے لیے نہیں۔
(1)نیت کا معیار: حضرت عمر بن خطاب رضی
اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر
ہے، اور ہر انسان کو وہی ملے گا جس کی اُس نے نیت کی۔(صحیح بخاری، باب : كيف كان
بدء الوحي إلي رسول الله صلى الله علیہ وسلم ، حديث نمبر: 1)
یہ حدیث اخلاص کی بنیاد ہے۔ ہر عبادت، خدمت، علم، صدقہ، یہاں
تک کہ روزمرہ کے کام بھی اگر خالص اللہ کے لیے ہوں، تو عبادت بن جاتے ہیں۔
(2) اللہ تعالیٰ صرف دل کو دیکھتا ہے: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تمہاری شکل و صورت اور مال کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ
تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔(صحیح مسلم، كتاب البر والصلة والاداب ، باب
تحريم الظلم المسلم، حديث نمبر 2564)
(3) حضرت ابو امامہ باہلی سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ صرف وہ عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے
کیا جائے اور جس میں صرف اس کی رضا مطلوب ہو۔(سنن نسائی، كتاب الجهاد، من غزا
يلتمس الاجر والذكر، حديث نمبر 3140)
ان احادیث کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ اخلاص دین کی روح
ہے۔ کسی بھی عمل کو اللہ کے ہاں قبول کرانے کے لیے لازم ہے کہ وہ خالصتاً اللہ کی
رضا کے لیے ہو۔ ورنہ وہ عمل دنیا میں تو قابلِ تعریف ہو سکتا ہے، مگر آخرت میں بے
وزن ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اسلام میں تمام اعمال کی قبولیت کا دار و مدار نیت اور
اخلاص پر ہے۔ اگر نیت خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، تو چھوٹا سا عمل بھی عظیم درجہ
رکھتا ہے، اور اگر نیت میں ریاکاری یا دنیا طلبی شامل ہو، تو بظاہر بڑا عمل بھی
اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں ہوتا۔
وَ
مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ
حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ
الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (البینہ:5)
وَعَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ
صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ
ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا
تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا
وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله
صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ
بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس
کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت
کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(مسلم،بخاری)
( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 3 حدیث نمبر(1958)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ
أَنَّهٗ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ هِيَ صَلَاةُ الْخَلَائِقِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ
كَلِمَةُ الشُّكْرِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ كَلِمَةُ الإخْلَاصِ، وَاللّٰهُ
أَكْبَرُ تَمْلأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: أَسْلَمَ
وَاسْتَسْلَمَ. رَوَاهُ رَزِيْنٌ روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ
آپ نے فرمایاسبحان الله ساری مخلوق کی عبادت ہے اورالحمد لله کلمہ شکر ہے اورلا
الہ الا الله اخلاص کا کلمہ ہے اور الله اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی فضا بھردیتا
ہےاور جب بندہ کہتا ہےلاحول ولا قوۃ الا باللهتورب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ مطیع
ہوگیا اور اپنے کو میرے سپردکردیا۔(رزین) ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد
3 حدیث (2323)
نبی کریم ﷺ کی
تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہر عمل کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہونا چاہیے۔ ہمیں چاہیے
کہ ہم ریاکاری، شہرت یا دنیاوی فائدے سے بچتے ہوئے ہر عمل خالص اللہ کے لیے کریں،
تاکہ وہ عمل بروزِ قیامت ہمارے لیے نجات کا ذریعہ بن سکے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ
وہ اپنے تمام ظاہری و باطنی اعمال کو خالصتاً اللہ کے لیے کرے، تاکہ وہ دنیا و
آخرت میں کامیاب ہو سکے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم.
ساجد
علی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ،پاکستان )
اخلاص ایسی نعمت ہے کہ جس کو بھی نصیب ہوئی وہ دنیا و
آخرت میں کامیاب ہوگیا ، اگر دیکھا جائے تو مخلص آدمی کو لوگ بھی پسند کرتے ہیں
اور اسکی عزت کرتے ہیں اور اللہ پاک بھی اخلاص کے ساتھ کی گئی عبادت کو پسند
فرماتا ہے جبکہ محض دکھاوے اور ریاکاری کیلئے کی گئی عبادت کو پسند نہیں کرتا اور
اس صورت میں آدمی نہ صرف اجر و ثواب سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ گنہگار بھی ہوجاتا
ہے ،حالانکہ مومن کی تو شان ہی یہ ہے کہ وہ ہر عمل اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے کے لیے
کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے کہ تو نے مجھے اپنی عبادت کرنے کی توفیق
عطا فرمائی اسلام میں اخلاص کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور احادیث مبارکہ میں اخلاص کے
فضائل بیان کئے گئے ہیں اور اس کے برعکس محض دکھاوے اور ریاکاری کیلئے کیے گئے
اعمال پر وعیدیں بھی احادیث میں میں وارد ہیں :
(1) عمل کا خالص ہونا :امیر
المومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کے فرائض کی ادائیگی
،حرام اشیاء سے اجتناب اور اللہ تعالیٰ کے ہاں نیت کا سچا( خالص) ہونا بہترین عمل
ہے ۔(فیضانِ ریاض الصالحین، جلد اول ،نیت اور اخلاص کا بیان ،صفحہ 32 ،مکتبۃ المدینہ)
(2)مخلص کا تھوڑا عمل بھی زیادہ ہے :حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تورات شریف اللہ پاک کا فرمان لکھا ہے کہ جس عمل
سے میری رضا مطلوب ہو وہ تھوڑا بھی زیادہ ہے اور جس عمل سے میرے غیر کا قصد کیا گیا
ہو وہ زیادہ بھی تھوڑا ہے ۔ (فیضانِ ریاض الصالحین،جلد اول،صفحہ 32،مکتبۃ المدینہ)
(3)مخلص کامیاب ہوگیا :حضرت
سیدنا ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ملائکہ اللہ عزوجل کے بندوں میں سے
کسی بندے کے عمل کو زیادہ سمجھتے ہوئے لے جارہے ہونگے یہاں تک کہ اللہ عزوجل اپنی
سلطنت میں جہاں چاہے گا وہ وہاں پہنچ جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ انکی طرف وحی
فرمائے گا کہ تم میرے بندے کے عمل لکھنے پر معمور ہو اور میں اسکے دل سے باخبر ہوں
میرا یہ بندہ میرے لیے عمل کرنے میں مخلص نہیں تھا لھٰذا اسے سجین( ساتوں زمین کے
نیچے ایک مقام کا نام ہے جو شیطان اور اسکے لشکروں کا ٹھکانہ ہے) میں سے لکھ دو اسی
طرح فرشتے ایک بندے کے عمل کو کم اور حقیر جانتے ہوئے لے جارہے ہوں گے یہاں تک کہ
اللہ عزوجل اپنی سلطنت میں جہاں چاہے گا وہ فرشتے وہاں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ
انکی طرف وحی فرمائے گا تم میرے بندے کے عمل لکھنے پر معمور ہو اور میں اس کے دل
سے باخبر ہوں میرا یہ بندہ میرے لیے عمل کرنے میں مخلص ہے لھذا اسے علّیّین (علّیّین
ساتویں آسمان میں عرش کے نیچے ایک مقام کا نام ہے یہ نیک لوگوں کا ٹھکانہ ہے) میں
سے لکھ دو۔(فیضانِ ریاض الصالحین ، جلد اول ، اخلاص و نیت کا بیان ،صفحہ29)
(4)خالص عمل ہی قبول ہوں گے :تاجدار
مدینہ منورہ سلطان مکہ مکرمہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بروز قیامت کچھ
مُہر بند صحیفے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نصب ( پیش)کیے جائیں گے ، تو اللہ تعالیٰ
فرشتوں سے فرمائے گا یہ چھوڑ دو اور یہ قبول کر لو ، فرشتے عرض کریں گے ،یا رب
العالمین تیری عزت کی قسم ! ہم تو اس میں خیر ہی دیکھتے ہیں ،اللہ تعالیٰ جو سب سے
زیادہ جاننے والا ہے ارشاد فرمائے گا یہ اعمال میرے غیر کیلئے کیے گئے تھے آج میں
وہی عمل قبول کروں گا جو میری رضا کیلئے کیے گئے تھے ۔(فیضانِ ریاض الصالحین،جلد
اول ،نیت اور اخلاص کا بیان ، صفحہ28 ،مکتبۃ المدینہ)
ہم اخلاص کو کیسے اپنائیں ؟اگر ہم
اس بات پر ہی غور کرلیں کہ ایک دنیادار تاجر کو جب کسی چیز کے بارے میں معلوم
ہوجائے کہ وہ اسکے منافع کو ختم کر رہی ہے تو وہ اس سے کوسوں دور بھاگتا ہے اور جب
اس کو پتا چل جائے کہ فلاں چیز کاروبار میں ترقی اور کامیابی کا راز ہے تو چاہے وہ
کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو وہ اسکو اپنے اوپر لازم کر دیتا ہے جبکہ اس کے برعکس ہمیں
معلوم ہے کہ ریاکاری نا صرف ہمارے نیکیوں کے منافع کو ختم کرتی ہے بلکہ ہمیں
گناہوں کے خسارے میں ڈال دیتی ہے تو ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم اس سے دور نہیں بھاگھتے
اور ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اخلاص ہی وہ نسخہ ہے جو نیکیوں کے منافع میں اور
آخرت میں کامیابی کا راز ہے ، اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی عبادت میں اخلاص
عطا فرمائے اور ریاکاری کی موذی بیماری سے نجات عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین
صلی اللہ علیہ وسلم ۔
مہتاب
احمد سعیدی (درجہ خامسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
اسلام میں اخلاص کا بہت بڑا مقام ہے۔ ہر نیک عمل کی قبولیت
کا دارومدار اخلاص پر ہے۔ نیت ، خلوص اور اللہ کی رضا کے لیے عمل کرنا ہی اصل کامیابی
ہے۔ اس مضمون میں قرآن مجید کی آیات اور احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں اخلاص کی اہمیت
پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔
(1)وَ
مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ
کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین
کو خالص کرتے ہوئے۔ ( سورۃ البینہ، آیت 5)
(2)اَلَا
لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ترجمہ کنز العرفان: سن لو! خالص
عبادت اللہ ہی کیلئے ہے۔ ( سورۃ الزمر، آیت 3)
(1) إِنَّمَا
الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ترجمہ:
اعمال نیتوں پر منحصر ہیں، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔(صحیح
بخاری، کتاب بدء الوحی، حدیث 1)
(2)أَنَا
أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي
غَيْرِي، تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ ترجمہ:میں شریکوں سے بے نیاز
ہوں، جو میرے ساتھ شریک کیا، اسے اور اس کا عمل چھوڑ دیتا ہوں۔(صحیح مسلم، کتاب الزہد،
حدیث 2985)
(3)إِنَّ
اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ
يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ ترجمہ:
اللہ تمہارے چہروں اور مال کو نہیں دیکھتا، بلکہ دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ (صحیح
مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث 2564)
(4)مَن
سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ ترجمہ:جو
شہرت کے لئے عمل کرے، اللہ اسے رسوا کرے گا، جو ریا کرے، اللہ اس کو بے نقاب کرے
گا۔(صحیح مسلم، کتاب الزہد، حدیث 2986)
(5)إِنَّ
اللهَ لا يَقْبَلُ مِنَ العَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ
بِهِ وَجْهُهُ ترجمہ:"اللہ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی
کے لئے کیا گیا ہو۔" (سنن نسائی، کتاب الجہاد، حدیث 3140)
اخلاص دین کی بنیاد ہے۔ خالص نیت کے بغیر کوئی عمل اللہ کی
نظر میں قبول نہیں ہوتا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ہر عمل میں اخلاص اختیار کریں تاکہ ہم
دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔ اخلاص انسان کی روحانی ترقی کا ذریعہ ہے اور یہ
اللہ کے قریب ہونے کا سب سے اہم راستہ ہے۔
حنظلہ
نورانی (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار ،لاہور،پاکستان)
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کے ظاہر کے ساتھ
ساتھ اس کے باطن کی بھی اصلاح کرتا ہے۔ اسلام میں ہر نیک عمل کی بنیاد اخلاص ہے۔
اخلاص کے بغیر عبادات محض رسمی حرکات بن جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی
کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام اعمال صرف اللہ
تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے، نہ دکھاوے کے لیے اور نہ ہی دنیاوی فائدے کے لیے۔
اخلاص عربی زبان کے لفظ خلص سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو ملاوٹ سے پاک
کرنا۔ شریعت کی اصطلاح میں اخلاص یہ ہے کہ انسان اپنے قول، فعل اور نیت کو خالص
اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص کر دے۔ یہی وہ صفت ہے جو ایک عام عمل کو بھی اعلیٰ عبادت
بنا دیتی ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار اخلاص کے ساتھ
عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ
مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ کنز العرفان: اور ان
لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے
۔(سورۃ البینہ: 5)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عبادت کی اصل شرط اخلاص ہے۔ اگر
نیت خالص نہ ہو تو بڑا عمل بھی ضائع ہو جاتا ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ
اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ(۱۱)
ترجمہ کنز العرفان: تم فرماؤ : مجھے حکم ہے کہ میں اللہ
کی عبادت کروں اسی کیلئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ (سورۃ الزمر: 11)
یہ حکم نبی کریم ﷺ کو دیا گیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ
اخلاص کی اہمیت ہر مسلمان کے لیے کس قدر زیادہ ہے۔احادیثِ مبارکہ میں بھی اخلاص کو
اعمال کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
اخلاص کے بہت سے فوائد ہیں: اخلاص
انسان کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے، دل کو سکون عطا کرتا ہے اور بندے کو شیطان کے
وسوسوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اخلاص کی بدولت تھوڑا سا عمل بھی زیادہ اجر کا باعث بن
جاتا ہے اور انسان اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں میں شامل ہو جاتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اخلاص اسلام کی روح ہے۔ ہر
مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے اور ہر عبادت، خدمت اور نیکی صرف
اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد
ذیشان عطاری(درجہ ثالثہ جامعۃالمدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
اخلاص اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک نہایت اہم صفت
ہے۔اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال، عبادت، اور نیک کام صرف اللہ
تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے ، نہ کہ دکھاوے کے لیے اخلاص کے بغیر اعمال کی اہمیت
کم ہو جاتی ہے جبکہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا ایک چھوٹا سا نیک عمل بھی اللہ کے نزدیک
بڑی قدر و قیمت رکھتا ہے ۔
(1)فَادْعُوا اللّٰهَ
مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ(۱۴) ترجمہ کنز العرفان:تو اللہ کی بندگی
کرو،خالص اسی کے بندے بن کر ،اگرچہ کافروں کو ناپسند ہو۔(المؤمن:14)
تفسیر
صراط الجنان:اس آیت سے یہ
معلوم ہوا کہ جو بھی نیک عمل کیا جائے اس میں ریا کاری اور لوگوں کو دکھانا مقصود
نہ ہو بلکہ وہ خالص اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لیے کیا جائے کیونکہ اللہ تعالی
پاک ہے اور وہ ریا، دکھاوے وغیرہ سے پاک عمل ہی قبول کرتا ہے۔
(2) وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ
الدِّیْنَ ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ
اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ۔(البینہ:5)
تفسیر صراط الجنان:ان باتوں میں سے ایک بات یہ پتا چلی
کہ وہی عمل مقبول ہے جس میں خالص اللہ تعالٰی کی رضا حاصل کرنے کی نیت کی گئی ہو۔
حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا :بے شک اللہ
تعالی تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور
تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔(مسلم، كتاب
البر والصلۃ والآداب، باب تحریم ظلم المسلم و خزلہ الخ ص ۱۳۸۷، الحدیث ۳۴ (۲۵۶۴)
اِخلاص
کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی: حضورنبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا:اِخلاص
کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نجات دلانے والے
اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
حضرت سیدنا
جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْہَادِی فرماتے ہیں: ’’اِخلاص اللہ عَزَّ
وَجَلَّ اور بندے کے درمیان ایک راز ہے، اسے فرشتہ نہ جانے کہ لکھ لے اور شیطان بھی
نہ جانے کہ خرابی پیدا کرے اور خواہش نفس کو بھی اس کا علم نہ ہو کہ اسے اپنی طرف
مائل کرے۔ حضرت سیدنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے حواریوں نے آپ کی بارگاہ میں عرض کی: ’’اَعمال میں خالص کون ہے؟‘‘
فرمایا: جو اللہ عَزَّ َجَلَّ کے لیے عمل کرتا ہےاور پسند نہیں کرتا کہ اس پر کوئی
اس کی تعریف کرے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ ۳۳)
آخر میں
یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اخلاص کے بغیر کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ قبول
نہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ہمیں اپنی نیت کو ہر وقت خالص رکھنا چاہیے۔اگر
مسلمان اپنے قول و فعل میں اخلاص اختیار کریں تو ان کی عبادات بھی سنور جائیں اور
معاشرہ بھی اصلاح کی راہ پر گامزن ہو جائے۔اللہ
تعالیٰ ہمیں خالص نیت کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائےـ آمین
اخلاص دینِ اسلام کی ایک نہایت اہم صفت ہے جس پر اعمال کی
قبولیت کا دارومدار ہے۔ اسلام میں ہر نیک عمل کی بنیاد نیت پر رکھی گئی ہے، اور جب
نیت خالص ہو تو عمل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک مقبول ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم اور
احادیثِ مبارکہ میں بارہا اخلاص کی اہمیت بیان کی گئی ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے
کہ بغیر اخلاص کے عبادات اور نیک اعمال بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے دینِ اسلام
میں اخلاص کو بنیادی مقام حاصل ہے۔
اخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں محض
رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی
معلومات،صفحہ)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ
مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ
حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ
الْقَیِّمَةِؕ(۵)
ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ
اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں
اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ۳۰،
البینہ: ۵)
حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم
نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل
کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی
معلومات،صفحہ۲۶)
حضور نبی ٔپاک، ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں
پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّ
وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف
ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح
کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ ‘‘(صحیح
البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال)
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’
مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرتے ہوئے جب ایک بیابان علاقے میں پہنچے گا تو اس گروہ
کے اگلے پچھلے لوگ زمین میں دھنس جائیں گے۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم! ان کے اگلوں ، پچھلوں کو زمین میں کیسے دھنسایاجائے گا حالانکہ ان کے
ساتھ ان کے مویشی اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے ؟ ‘‘ دافِعِ
رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ان کے اولین وآخرین کو زمین
میں دھنسا دیا جائے گا پھر انہیں ان کی نیتوں پر اُٹھایا جائے گا۔ ‘‘ (صحیح البخاری
،کتاب البیوع، باب ماذکر فی الاسواق،الحدیث:)
رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال ﷺ کی بارگاہ اقدس میں ایسے لوگوں
کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بہادری جتلانے، حمیت اور ریاکاری کے لئے جہاد کرتے
ہیں کہ ان میں سے کون راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا مجاہد ہے؟ ‘‘ تو خاتَمُ
الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ جو اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کے دین کی سر بلندی کے لئے لڑے وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔ ‘‘ ایک
نسخہ میں ہے : ’’ وہی راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا مجاہد ہے۔(صحیح مسلم ،کتاب الامارۃ
،باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ)
اخلاص یہ ہے کہ خود
اخلاص پر نظر نہ رہے کیونکہ جو شخص اپنے اخلاص میں اخلاص کو دیکھتا ہے تو اس کا
اخلاص، اخلاص کا محتاج ہو تا ہے۔ (لباب الاحیاء، فصل فی الاخلاص)
Dawateislami