سید
دلدار حسین(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
اخلاص کا معنی:عمل صرف اور صرف اللہ کی
رضا کے لیے کیا جائے، کسی ریاکاری دکھاوے یا دنیاوی فائدے کے لیے نہیں۔
(1)إنما
الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوىالخ ترجمہ :اعمال کا دار
و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اُس نے نیت کی۔(صحیح بخاری ،کتاب
بدء الوحی ،حدیث نمبر 1،صحیح مسلم، کتاب الامارة ،حدیث نمبر 1907)
اللہ نیت کو دیکھتا ہے شکل و مال کو نہیں: إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَادِكُمْ، وَلَا
إِلَى صُوَرِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُم بیشک
اللہ تمہارے جسموں اور شکلوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا
ہے۔( صحیح مسلم حدیث نمبر 2564 ،کتاب البر و الصلۃ و الآداب باب تحريم ظلم المسلم)
دکھاوے والے اعمال قاری، سخی ،مجاہد کا واقعہ:قیامت کے
دن سب سے پہلے جن لوگوں کا حساب ہوگا ان میں قاری شہید اور سخی ہوں گے جنہوں نے
اللہ کی رضا کے بجائے شہرت کے لیے عمل کیا ان کے اعمال قبول نہیں کیے جائیں گے۔(صحیح
مسلم حدیث نمبر 1905 ،کتاب الامارة باب من قاتل للرياء والسمعة استحق النار،جامع
ترمذی حدیث نمبر 2382)
اخلاص کی نشانیاں:(1) تعریف یا تنقید سے
بے پروا ہونا۔ (2) عمل کو چھپانا (3) شہرت سے بچنا
اخلاص کیسے پیدا کریں:(1) نیت
کو درست کریں۔ (2) شہرت سے بچیں۔ (3) عمل سے پہلے اور بعد میں دل کا جائزہ لیں
کہ کس کے لیے کر رہے ہیں۔
یا اللہ ہمیں ہر عمل خالص اپنی رضا کے لیے کرنے کی توفیق
عطا فرما آمین
Dawateislami