اخلاص ایک ایسا خوبصورت لفظ ہے جو بظاہر مختصر مگر اپنے اندر ایمان کی پوری روح سموئے ہوئے ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا ہر قول، ہر عمل اور ہر نیت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو، نہ دکھاوے کے لیے، نہ شہرت کے لیے اور نہ ہی کسی دنیاوی فائدے کی خاطر۔رسولِ اکرم ﷺ نے دین کی بنیاد ہی نیت کو قرار دیا۔ احادیثِ مبارکہ ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ اگر عمل بڑا ہو مگر نیت خالص نہ ہو تو وہ اللہ کے ہاں وزن نہیں رکھتا، اور اگر عمل چھوٹا ہو لیکن نیت میں اخلاص ہو تو وہ بھی قبولیت کا درجہ پا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں عبادات ہوں یا معاملات، سب کی اصل روح اخلاص ہی ہے۔آج کے اس دور میں جہاں اعمال میں نمائش، شہرت اور تعریف کی خواہش عام ہو چکی ہے، وہاں ہمیں احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ اخلاص کیا ہے، اس کی کیا اہمیت ہے اور یہ ہمارے اعمال کو کس طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول بناتا ہے۔

اخلاص کی تعریف:"کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے"۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)

‎‎اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵)ترجمۂ کنزالایمان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتےایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں ۔ ۳۰، البینہ: ۵)

اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)

حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال الخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)

شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرتے ہوئے جب ایک بیابان علاقے میں پہنچے گا تو اس گروہ کے اگلے پچھلے لوگ زمین میں دھنس جائیں گے۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ان کے اگلوں ، پچھلوں کو زمین میں کیسے دھنسایاجائے گا حالانکہ ان کے ساتھ ان کے مویشی اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے ؟ ‘‘ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال ﷺ نے ارشاد فرمایا ان کے اولین وآخرین کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا پھر انہیں ان کی نیتوں پر اُٹھایا جائے گا۔ (صحیح البخاری ،کتاب البیوع، باب ماذکر فی الاسواق،الحدیث: ۲۱۱۸،ص۱۶۵)

حضرت عکرمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے کوئی شخص اس شخص سے زیادہ بے عقل نہیں دیکھا جو اپنے نفس کی برائی کو جانتا ہے پھر وہ چاہتا ہے کہ لوگ مجھے عالم و صالح سمجھیں ۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص کانٹے بوتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس میں کھجوروں کا پھل لگے ۔(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للہ تعالیٰ، ص۳۲، ملتقطا)

اخلاص وہ نور ہے جو عمل کی صورت کو نہیں بلکہ نیت کی حقیقت کو دیکھتا ہے۔ یہی وہ راز ہے جو بندے کے معمولی سے عمل کو بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں عظیم بنا دیتا ہے اور بغیر اخلاص کے بڑے سے بڑا عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے۔ دنیا کی واہ واہ، تعریف اور شہرت چند لمحوں کی ہوتی ہے، مگر رضائے الٰہی وہ دولت ہے جو قبر کی تنہائی سے لے کر آخرت کی سرخروئی تک ساتھ دیتی ہے پس ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ہر قول، ہر عمل اور ہر عبادت میں بار بار اپنی نیت کا جائزہ لیں، اسے دکھاوے، شہرت اور نفس کی آمیزش سے پاک کریں، اور صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کو مقصد بنائیں۔کیونکہ جہاں اخلاص زندہ ہو، وہاں عمل زندہ ہوتا ہےاور جہاں اخلاص مر جائے، وہاں عبادت بھی محض رسم بن جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاصِ کامل عطا فرمائے اور ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔